بکاؤلے ازم سے ہٹ کر: سائنس،صحائف اور ایمان

سائنس،صحائف اور ایمان

درج ذیل مضمون اُن مختلف طریقوں کا تجزیہ کرتا ہے جن سے ایمان دار وں نے سائنس او رصحائف کے درمیان تعلق کو سمجھا ہے۔

خاکہ:

حصہ اوّل: ”بکاؤ لے ازم“کو سمجھنا
بکاؤ لے ازم کے لئے مسلم مخالفت
بکاؤ لے ازم کے مسائل
بکاؤ لے ازم کی تاریخ
ویدوں اور دیگر ادب میں ”سائنسی معجزات“
چند دعویٰ کئے گئے معجزات کا تجزیہ
نبوت نمبر۱: چاند کی روشنی منعکس شدہ روشنی ہے
نبوت نمبر۲: جنین (embryo)کے مراحل
نبوت نمبر ۳: چینٹیو ں کا رابطہ

حصہ دوم: کیا سائنس اور صحائف ایک دوسرے سے مربوط ہیں؟
تخلیق او رسائنس
پیدایش کے دنوں کی ترتیب
سورج کی روشنی سے پہلے نباتات؟
کائنات کا علم: چپٹی یا گول زمین؟
کیا زمین چپٹی ہے یا گول؟
آسمان کو تھامے ہوئے ستون
زمین کے نیچے کے ستون
سورج،چاند،ستارے،دمدارتارے اورآسمان

حصہ سوم: سائنس کی تاریخ
سائنس کس نے ’ایجاد‘ کی؟
سنہرا دور کیوں ختم ہوا؟


 

حصہ اوّل

”بکاو لے ازم“کو سمجھنا

”بکاؤ لے ازم“قرآن مجید میں ”سائنسی معجزات“ کی بنیاد ی کی جستجو ہے یعنی جدید سائنسی دریافتیں جنہیں بڑے مخفی انداز میں قرآن میں بیان کیا گیا ہے۔یہاں ذاکر نائیک سے ایک عام مثال پیش کی گئی ہے:

چاند کی روشنی منعکس روشنی ہے: ابتدائی تہذیبوں کا یہ ایمان تھا کہ چاند خود اپنی روشنی دیتا ہے۔اب سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ چاند کی روشنی منعکس روشنی ہے۔تا ہم 1400 سال پہلے قرآن مجید میں اِس حقیقت کا ذکردرج ذیل آیت میں آیا ہے:

  ”بڑی برکت والا ہے جس نے آسمانوں میں بُرج بنائے اور اُنہیں چراغ او رچمکتا ہوا چاند بھی بنایا۔“(القرآن 61:25)

قرآن میں عربی میں سورج کے لئے لفظ شمس ہے۔اِسے سِرٰجاً بھی کہا گیا ہے … چاند کے لئے عربی لفظ قَمَرً ہے اور قرآن میں اِسے مُنّیراً کہا گیا ہے جو ایک ایسا عنصر ہے جو نور دیتا ہے یعنی منعکس شدہ روشنی … اِس کا مطلب ہے کہ قرآن سورج اور چاند کی روشنی کے درمیان فرق کو بیان کرتا ہے۔ 1

اِسی طرح دعوے کئے گئے ہیں کہ بلیک ہولز،علم حیاتیات،علم ارضیات اور علم نجوم کے بارے میں قرآن میں پیشین گوئیاں موجود ہیں۔

بکاولیازم کے لئے مسلمانوں کی مخالفت

قرآن مجید میں ”سائنس کے معجزات“ کی مخفی جستجو اسلامی تاریخ کاحال ہی میں سامنے آنے والا ایک خبط ہے۔یہ بنیاد پرستوں میں بہت مقبول ہے لیکن اِسے چند مسلم مفکرین کی حمایت حاصل نہیں ہے۔نامور بھارتی اسلامی علم ِ الہٰی کے ماہر جناب مولانا اشرف علی تھانوی
(بہشتی زیور کے مصنف)چار نکات کی وجہ سے اِس طریقہ کار کی مخالفت کرتے ہیں۔ 2 اِسی طرح مغرب اور عرب کی یونیورسٹیوں کے بہت سے نامور اسلامی سائنس دان بکاؤ لے ازم کی وجہ سے پریشان ہیں۔ضیاالدین شاکر اپنے کتاب ”اسلامی سائنس میں دریافتیں
”Exploration in Islamic science“میں سائنسی معجزات کو مناظرہ کا’بُری قسم کااعتزار“ کہتا ہے۔پین سٹیٹ یونیورسٹی کے مسلم مؤرخ نعمان الحق بکاؤ لے ازم کے نقادوں میں سب سے آگے ہیں جو بکاؤ لے ازم کے سامنے آنے کی وجہ مسلمانوں میں پائے جانے والے گہرے احساس ِکمتری کو قرار دیتا ہے جنہیں آبادیا تی نظام نے تضحیک کا نشانہ بنایا اور جو اسلامی سائنس کی کھوئی ہوئی شان و شوکت کو دوبارہ حاصل کرنے کے لئے ہیں۔ایک او رنقاد مظفر اقبال ہیں جو البرٹا کینیڈا میں اسلام اور سائنس کے مرکز کے صدر ہیں۔


پاکستان کے نامور مسلم ماہر طبیعات پرویز ہود بائے لکھتے ہیں:

”ایسے دعوے کرنے والوں کا مسئلہ یہ ہے کہ اُن میں اِس بات کی وضاحت کرنے کی کمی ہوتی ہے کہ کیوں مقداری نظریہ،مالیکیولز کی ساخت وغیر ہ کو کہیں اَور دریافت ہونے کے لئے انتظار کرناپڑا۔اور نہ ہی کبھی کسی قسم کی مُستند پیشین گوئیاں کی گئیں۔اُن کے پاس اِس بات کی بھی کوئی دلیل موجود نہیں کہ اینٹی بائیٹکس،ایسپرین،بھاپ کے انجن،بجلی،ہوائی جہاز،یا کمپیوٹر پہلے مسلمانوں نے کیوں ایجاد نہیں کئے۔بلکہ ایسے سوالات پوچھنا توہین آمیز سمجھا جا تا ہے۔“ 4

ترکی مسلمان فلسفی اور ماہر طبیعات ٹینر ادیس لکھتے ہیں:

”قرآن -سائنس( بکاؤ لے ازم)رقت انگیز ہے لیکن بہت سے مسلمانوں نے بھی اِس بات کو تسلیم کیا ہے۔جتنی انسٹیٹیوٹ فار کریشین ریسرچ مسیحیت کی ترجمانی کرتا ہے اُسی طرح یہ اُس سے زیادہ اسلام کا اظہار نہیں کرتی۔تاہم وہ احمقانہ شدت جو میں نے اُوپر بیان کی ہے وہ سائنس او رقدامت پسند اسلام کے درمیان مبہم تعلق کی وضاحت کرسکتی ہے۔جبکہ بہت سے ایمان دار
اِس مسئلے کے نظر انداز کرنے کو تیار ہیں اور قرآن مجید کے ساتھ مکمل سائنسی ہم آہنگی کا اظہار کرتے ہیں،کچھ ماہرین اَدراکی کا متعلقہ راستہ اپناتے ہیں،یا اِس بات پر زور دیتے ہیں کہ سائنس اسلام کی ساخت کردہ ہے،اِس لئے ہمیں فطر ت کی اسلامی نظریے کو تسلیم کرنا ہے۔“ 5

ابو عمر یوسف قاضی جو ایک معروف واعظ اور ییل Yaleکے فارغ التحصیل ہیں،اُنہوں نے اپنی کتاب،”An Introduction
to the Sciences of the Quran"میں لکھا:

”دوسرے الفاظ میں قرآن مجید کی ہر تیسری آیت میں کوئی سائنسی سراب موجود نہیں ہیں جو اِس بات کے منتظر ہوں کہ چند پُر جوش،اعلیٰ تصوراتی مسلمان اُنہیں صفحہ ِ ہستی پر لے کر آئیں گے۔“ 6

”اِسلامی سائنس“ کے حوالے سے،پاکستانی نوبل انعام یافتہ اور ماہر طبیعات جناب ڈاکٹر عبدالسلام لکھتے ہیں:

”صرف ایک عالمگیر سائنس ہے؛اِس کے مسائل اور اِس کے طریقے بین الاقوامی ہیں اور اسلامی سائنس جیسی کوئی چیز نہیں ہے جیسے کہ ہندو سائنس یا یہودی سائنس،یاکنفیو شین سائنس اور نہ ہی مسیحی سائنس ہے۔“

بکاؤ لے ازم کے مسائل

بکاؤ لے ازم کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کو کمزور پیش کرتا ہے جو ناقابل اعتراض حد تک واضح ہونے کے قابل نہیں ہے۔مثلاًاگر اللہ تعالیٰ کا ارادہ صرف زمین کی شکل ہی بیان کرنا تھا تو پھر اُس نے ایک ہی آیت کیوں نہ رکھی جو یہ کہتی کہ ”کیا تم نے نہیں دیکھا کہ ہم نے زمین کو چپٹا نہیں بلکہ گول بنایا ہے جو سورج کے گرد گھومتی ہے؟“یا اگر اللہ تعالیٰ کا ارادہ ٹیلی وژن کی پیشین گوئی کرنا ہوتا تو،وہ واضح طور پر یہ کہہ سکتا تھا کہ،”ایک دن لوگ اپنے گھروں میں بیٹھ کر ڈبوں میں تصویریں دیکھیں گے۔“ دوسری جگہوں پر خدا بڑی وضاحت سے بولتا ہے!…

چپٹی زمین؟

متی 8:4 -”یہاں لکھا ہے کہ زمین چپٹی ہے جو کہ درست نہیں ہے۔“

اگر نقاد نے غور سے پڑھا ہوتا تو وہ دیکھتا کہ یہ ایک معجزانہ اورفوری رویا تھی جسے لوقا 5:4واضح کرتی ہے:”پھر ابلیس نے اُسے اُونچے پر لے جا کر دُنیا کی سب سلطنتیں پل بھر میں دکھائیں۔“یہ سمجھ لینا احمقانہ بات ہے کہ لوقا ا ورمتی نے روم کے بارے میں یہ تصور دیا کہ اُسے ایک اُونچے پہاڑ پر سے دیکھا جا سکتاتھا۔وہ ایک معجزانہ رویا درج کر رہے تھے۔کوئی معراج کے بارے میں سوال پوچھ سکتا ہے،کہ کوئی نبی کس طرح ایک ہی رات میں پروں والے گھوڑے پر سوار ہو کر یروشلیم تک اور آسمان تک گیا ہو اور پھر واپس آیا ہو۔

قرآن میں بھی ایسی آیات ملتی ہیں جو ظاہر کرتی ہیں کہ زمین چپٹی ہے:

”اورآسمان کی طرف کہ کیسا بلند کیا گیاہے اور پہاڑوں کی طرف کہ کس طرح کھڑے کئے گئے ہیں اورزمین کی طرف کہ کس طرح بچھائی گئی
(سورۃ الغاشیہ 18:88-20)

اِس آیت پر نامور مفسِّر الجلالین کی تفسیرمیں لکھا ہے،

جہاں تک اُس کے لفظ سُطِحتَ ہموار بچھا دیا‘ کا تعلق ہے اِس کی لغوی قرأت تجویز کرتی ہے کہ زمین چپٹی ہے جو شریعت کے زیادہ تر علمائے کرام کی رائے ہے نہ کہ گول جیسی کہ علم ِ نجوم والے کہتے ہیں …“1

اِسی طرح مصر کے علم ِ الہٰی کے ماہر امام سیوطی نے بھی یہ کہا کہ زمین چپٹی ہے۔

  1. Available online from http://altafsir.com

چپٹی زمین؟

ایوب 6:9 – ”یہ آیت کہتی ہے کہ زمین کے ستون ہیں، جس سے اشارہ ملتا ہے کہ زمین چپٹی ہے۔“

اِن اقتباسات میں سے کسی میں بھی کوئی جغرافیائی ہدایت نہیں ہے،بلکہ خُدا تعالیٰ کی قدرت کا اظہار کرنے کے لئے روزمرہ کا استعارہ استعمال کرتے ہوئے یہ ایک نغماتی شاعری ہے۔مزید یہ کہ نقاد نے اشتقاقی لحاظ سے ایک غلطی کی ہے کہ عبرانی لفظ،”تیبل“ اور”ارتض“ کا مطلب ”کُرّہ ارض“یا ”سیارہ“ کے معنوں میں زمین ہے۔زیادہ تر اِن الفاظ کا مطلب صرف ”زمین“ ہوتا ہے جیسے کہ ایک خاص ملک میں اور کچھ سیاق و سباق میں وہ اِس کا مطلب ”کُرّہ ارض“ نہیں لے سکتے (پیدایش 9:38)۔اِن آیات میں،ہمیں ”زمین“ کو خشکی کا ٹکڑا سمجھنا چاہئے۔

ایوب 6:9 اور زبور 3:75میں،عبرانی ”عمود“ جس لفظ کا ترجمہ ”ستون“ کیا گیا ہے، لُغت اُس کی تعریف’ٹیک‘یا’منبر‘ کے طور پر بھی کرتی ہے،جو براعظمی پلیٹوں کے نیچے خشکی کے زیرِزمین ٹکڑے ہیں۔اِس وضاحت میں کوئی مشکل نہیں ہے۔

”ستون“ کا لفظ حنّہ کی دعا میں بھی استعمال ہوا ہے (1 -سموئیل 8:2)جو ”متسوق“ ہے،جو صحائف میں دو مرتبہ استعمال ہوا ہے
۔دوسری آیت (1 -سموئیل 5:14)میں اِس کا مطلب ”واقع“ ہے۔اِس کا ترجمہ ”بنیاد“ بھی ہو سکتا ہے جو براعظمی پلیٹوں کے نیچے کے خشکی کے ٹکڑوں کی دوبارہ ایک بہتر وضاحت ہے۔ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ یہ تاریخی اقتباس صرف ایک خطا وار انسان(سموئیل کی والدہ حنہّ) کی دعا کا ذِکر کر رہا ہے۔

قرآن میں بھی ایسی ہی آیات ہیں جو چپٹی زمین کو ظاہر کرتی نظر آتی ہیں:

”اورآسمان کی طرف کہ کیسا بلند کیا گیاہے اور پہاڑوں کی طرف کہ کس طرح کھڑے کئے گئے ہیں اورزمین کی طرف کہ کس طرح بچھائی گئی
(سورۃ الغاشیہ 18:88-20)

اِس آیت پر نامور مفسِّر الجلالین کی تفسیر میں لکھا ہے،

”جہاں تک اُس کے لفظ سُطحِتَ،’ ہموار بچھا دیا‘ کا تعلق ہے اِس کی لغوی قرأت تجویز کرتی ہے کہ زمین چپٹی ہے جو شریعت کے زیادہ تر علمائے کرام کی رائے ہے نہ کہ گول جیسی کہ علم ِ نجوم والے کہتے ہیں …“1

اِسی طرح مصر کے علم ِ الہٰی کے ماہر امام سیو طی نے بھی یہ کہا کہ زمین چپٹی ہے۔

  1. Available online from http://altafsir.com

اُنڈیلا ہوا دودھ؟

ایوب 9:10-10 ”یہاں بائبل ارسطو کی سائنس سے ادبی سرقہ کی مرتکب ہوتی ہے کہ انسان بہائے ہوئے دودھ اور جمائے ہوئے پنیر کی مانند ہے۔“

یہ اقتباس حضرت ایوب کی خُدا تعالیٰ سے شکایت درج کرتا ہے،جس میں حضرت ایوب بھی خُدا تعالیٰ کے باطنی خیالات کو جاننے کا غلط دعویٰ کرتے ہیں۔خُدا تعالیٰ حضرت ایوب کو درج ذیل الفاظ میں جواب دیتے ہیں:

تب خداوند نے ایوب کو بگولے میں سے یوں جواب دیا۔یہ کون ہے جو نادانی کی باتوں سے مصلحت پر پردہ ڈالتا ہے؟مرد کی مانند اب اپنی کمر کس لے کیونکہ میَں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تُو مجھے بتا۔تُو کہا ں تھا جب میَں نے زمین کی بنیاد ڈالی؟تُو دانش مند ہے تو بتا…“
(ایوب 1:38-4)

صحائف یہ واضح بتاتے ہیں کہ حضرت ایوب نے علم ِ غیب یعنی تخلیق کی پوشیدہ سچائیوں کو جاننے کی غلط فہمی میں بغیر سوچے سمجھے باتیں کیں۔
تب حضرت ایوب توبہ کرتے ہیں او ر خُدا تعالیٰ اِس کے لئے اُن کی عزت کرتا ہے۔اِس لئے یہ صاف ظاہر ہے کہ ہم نہیں کہہ سکتے کہ کتاب مقدس کسی غلط سائنس کی تعلیم دیتی ہے، یہ ایسے ہی ہے کہ ہم دعویٰ کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بتاتے ہیں کہ قرآن میں ”عزرا اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہے۔“یہ بیانات دونوں کتابوں میں چند انسانوں نے درج کئے ہیں لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی بااختیار تعلیم نہیں ہے۔

جہاں تک ادبی سرقہ کے الزام کا تعلق ہے،ارسطو چوتھی صدی عیسوی میں تھا جب کہ ایوب کی کتاب کم از کم ایک صدی پہلے لکھی گئی تھی۔
اگر کوئی ادبی سرقہ کا کام ہوا،تو پھر یہ دوسری طرف سے ہوا ہوگا۔

آسمان کے ستون

ایوب 11:26 -”یہ آیت غلط کہتی ہے کہ آسمان کے ستون ہیں۔“

حضر ت ایوب کی کتاب حکمت کا ادب ہے اور اِس میں کافی زیادہ استعارے،تشبیہات اور شاعرانہ اشارے استعمال ہوئے ہیں۔ہم جانتے ہیں کہ حضرت ایوب حقیقی طور پر ایمان نہیں رکھتے تھے کہ آسمان کے ستون ہیں کیونکہ اُس کے فوراً بعد کی ایک آیت فرماتی ہے:

وہ شمال کو فضا میں پھیلاتا ہے اور زمین کو خلامیں لٹکاتا ہے۔(ایوب 7:26)

حضرت ایوب نہ صرف یہ جانتے تھے کہ آسمان خلا میں لٹکا ہوا ہے،بلکہ اُنہیں یہ بھی معلوم تھاکہ پوری زمین خلا میں لٹکی ہوئی ہے جو غیر معمولی حد تک قدیم تحریروں کے حوالے سے زیادہ آگے ہے۔حتیٰ کہ اگر نقاد بھی یہ ثبوت قبول نہ کرے،تو اُسے یاد دلانا چاہئے کہ حضرت ایوب کو کتاب کے آخر میں خُدا تعالیٰ اُسے یہ فرض کرنے کی وجہ سے کہ وہ تخلیق کے بارے میں سب کچھ جانتا ہے ملامت کرتا ہے (ایوب
1:38-4)۔تب حضرت ایوب توبہ کرتے ہیں اور اِس بات کے لئے خُدا تعالیٰ اُسے سراہتے ہیں۔

اتفاقاً،قرآن بھی یہ بیان کرتا ہے کہ آسمانوں کو ستونوں نے سہارا دیا ہوا ہے جو انسانی آنکھ کو نظر نہیں آتے۔(سورۃ لقمان 10:31)
ہمیں قرآن میں بھی کائناتی مشکلات ملتی ہیں،اِس دفعہ مسئلہ دُم دار سیاروں کا ہے۔سورۃ الصّٰفّٰت کہتی ہے:

”بے شک ہم ہی نے آسمان دنیا کو ستاروں کی زینت سے مزیّن کیا اور ہر شیطان سرکش سے اِس کی حفاظت کی کہ اُوپر کی مجلس کی طرف کان نہ لگا سکیں اور ہر طرف سے اُن پر انگارے پھینکے جاتے ہیں۔(یعنی وہاں سے)نکال دینے کو اور اُن کے لئے عذاب دائمی ہے ہاں جو کوئی (فرشتوں کی کسی بات کو)چوری سے جھپٹ لینا چاہتا ہے تو جلتا ہوا انگارا اُس کے پیچھے لگتا ہے۔“(6:37-10)

ایسا لگتا ہے کہ دُم دار سیارے گرنے والے جنوں کا تعاقب کرنے کے لئے بنائے گئے ہیں جب تک کہ کوئی شخص اِن آیات کا دوبارہ ترجمہ نہ
کرے یا الفاظ کی دوبارہ تعریف نہ کرے۔

دیومالائی مخلوق؟

ایوب 1:41 – ”یہ اقتباس ایک دیومالائی مخلوق کاذِکر کرتا ہے؟“

بعض اوقات کتاب مقدس شیطان کا دیومالائی مخلوقات کے ساتھ موازنہ کرتی ہے جیسے کہ ”اژدہا“(مکاشفہ 9:12)یا ”لویاتان“
(یسعیاہ 1:27)۔ایسے اقتباسات یہ فرض نہیں کرتے کہ ایسی مخلوقات موجود بھی ہیں،وہ ایسے واقف استعاروں کے ساتھ محض شیطان کے بُرے کردار کو پیش کرتے ہیں۔ایوب کی کتاب میں یہ اقتباسات شاید خُدا تعالیٰ کی اعلیٰ حاکمیت کو بیان کرنے کے لئے صرف استعارہ کا استعمال کرتے ہیں۔

ایک چھوٹا سا سوال ہے کہ ایوب 15:40-24میں مذکور ”دریائی گھوڑا“ محض ایک بڑا جنگلی جانور یا ہیپوپوٹیمس ہے۔بہت سے مبصّرین یہ تجویز کرتے ہیں کہ ایوب کی کتاب میں مذکور”لویاتان“ایک بڑے مگرمچھ کی طرف اشارہ کرتا ہے جسے لویاتان کا نام اِس کو قابو نہ کر سکنے پر زور دینے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔مزید یہ کہ شاید یہ ایک غیر موجود مخلوق کو بیان کررہی ہے جس کے بارے میں ہم نہیں جانتے۔حال ہی میں سائنس دان 43فٹ لمبے اور1000کلو گرام وزنی ایسے سانپ کی باقیات دریافت کر کے ششد ر رہ گئے جو مگرمچھوں کو بھی نگل جاتا تھا اور ڈائنو سار کے مر جانے کے بعد طویل عرصہ تک موجود تھا۔ اِن مخلوقات کی قدامت کا ذِکر 19:40میں کیا گیا ہے:”وہ خدا کی خاص صنعت ہے۔“

قرآن میں ہم پڑھتے ہیں کہ حضرت سلیمان نے دیومالائی مخلو ق سے بات کی جسے ’عفریت‘ کہا گیا ہے (سورۃ النمل 15:27-44)جو حامد اللہ کے مطابق،”ایک طرح کا بُرا شیطان ہے جو بہت سی افسانوی کہانیوں میں پایا جاتا ہے۔“بریٹینیکاکے انسائیکلوپیڈیا میں اِس کی تعریف درج ذیل الفاظ میں کی گئی ہے:

”اسلامی دیومالائی کہانیوں میں، جہنمی جنوں کی ایک قسم (ایسی روحیں جو فرشتوں اور شیطانوں کے درجے سے کم ہیں) مذکور ہے جو اپنی قوت اور مکار ی کے بارے میں جانی جاتی ہے۔ایک عفریت ایک عظیم پروں والی دھوئیں کی مخلوق ہے چاہے وہ نر ہو یا مادہ،جو زیر زمین رہتے ہیں اور مسلسل تباہی پھیلاتے ہیں۔ عفریت قدیم عربی نسلوں کے ساتھ معاشرے کی طرح رہتے ہیں،جو بادشاہوں،قبیلوں اور برادریوں کی صورت میں مکمل ہوتے ہیں۔وہ عام طور پر ایک دوسرے کے ساتھ شادی کرتے ہیں لیکن وہ انسانوں کے ساتھ بھی شادی کر سکتے ہیں۔

معراج کے واقعہ میں کہا گیا ہے ہے کہ نبی اسلام جسمانی طور پر ایک سفید پروں والے گھوڑے پر سوار ہوئے جس کی مور کی طرح کی دُم تھی اور ایک فرشتے کا سر تھا۔اگر یہ عفریت او ربرّاق قابل ِ قبول ہیں،تو یقیناجنگلی سانڈاور بڑے مگر مچھ بھی قابل ِ قبول ہیں۔

زمین حرکت نہیں کرتی؟

زبور1:93 – ”یہاں لکھا ہے کہ زمین حرکت نہیں کرسکتی جبکہ سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ زمین ایک محور کے گرد گھومتی ہے۔“

نقاد نے اشتقاقی غلطی کرتے ہوئے یہ غلط سمجھ لیا ہے کہ عبرانی لفظ، “תּבל تیبل” اور “ארץ ارتض” کا مطلب ”کُرّہ ارض“یا ”سیارہ“ کے معنوں میں زمین ہے۔ اِن الفاظ کا اکثر مطلب صرف ”زمین“ ہوتا ہے جیسے کسی ایک ملک میں۔یہ آیت صرف یہ کہتی ہے کہ براعظموں کے خشکی کے ٹکڑے خُدا تعالیٰ کی اعلیٰ حاکمیت کی وجہ سے محفوظ ہیں۔

چیونٹی کے راہنما؟

امثال 7:6 – ”یہ آیت کہتی ہے کہ چیونٹیوں کا کوئی سردار،ناظر یا حاکم نہیں ہوتا لیکن چیونٹیوں کی ملکہ ہوتی ہے۔“

یہ آیت ہمیں چیونٹیوں کے معاشرے کی شا ندار دنیا کو سمجھنے کا کہتی ہے لیکن اپنے اندر کوئی درست معلومات نہیں رکھتی۔نقاد کی دلیل اُن لوگوں کو قائل کرتی ہے جو دراصل ”ملکہ“ چیونٹی کے کردار سے ناواقف ہیں۔”ملکہ“ چیونٹی اپنی چیونٹیوں کی برادری میں کُلّی طور پر کوئی قیادت کی ذمہ داری نہیں رکھتی،وہ محض انڈے پیدا کرنے والی ایک فیکٹری ہے۔ایک معروف انسائیکلوپیڈیا اِس کی وضاحت درج ذیل الفاظ میں کرتا ہے:

”ملکہ“ کی اصطلاح اکثر گمراہ کرتی ہے کیونکہ مجموعی طور پر ملکہ کا کالونی پر کوئی اختیار نہیں ہوتا۔وہ ایک معروف اور فیصلے کا اختیار رکھنے والی ہستی کے طور پر جانی نہیں جاتی؛اِس کے بجائے اُس کا اپنا کام محض بچے پیدا کرنا ہے۔اِس لئے ملکہ کو کالونی کی حکمران کی بجائے پیداوار میں اضافے کرنے والی سمجھا جائے۔“ (“queen ant,” Wikipedia.org)

ایک سینگ والی افسانوی مخلوقات

یسعیاہ 7:34 – ”بائبل ایک سینگ والی افسانوی مخلوقات کے بارے میں کیوں بات کرتی ہے؟“

کنگ جیمز ورژن میں ترجمہ شدہ لفظ ”یونی کارن“عبرانی میں ”ریم“ ہے جس کا تمام جدید تراجم اور لُغات میں ”جنگلی سانڈ“ کے نام سے زیادہ درست ترجمہ کیا گیا ہے۔جدید آثار قدیمہ نے اِس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ کنگ جیمز ورژن اور سپٹواجنٹ کے یونانی تراجم میں اِس حوالے کی غلط تشریح کیوں کی ہے۔مسوپتامیہ کی کھدائیوں میں دکھایا ہے کہ اسورنصرپال
(Assurnasirpal)بادشاہ ایک جنگلی سانڈ کا شکار کررہا ہے جس کے سر پر ایک سینگ ہے۔ متعلقہ متن یہ بتا تا ہے کہ یہ جانور ’ریمو‘
(rimu)کہلاتا ہے۔جب سپٹواجنٹ کے مترجمین نے غلطی سے”مونو سیروس“(monoceros)ایک سینگ کی اصطلاح استعمال کی
،توشاید وہ اِس مخلوق سے واقف تھے اور یہ سمجھ لیا کہ ”ریم“ ”ریمو“ تھا۔کنگ جیمز ورژن کے مترجمین نے اِس غلط ترجمے کی پیروی کرتے ہوئے ترجمہ کیا۔

قرآن میں ہم پڑھتے ہیں کہ حضرت سلیمان نے ایک دیومالائی مخلوق سے بات چیت کی جسے عفریت کہا جا تا ہے (سورۃ الانعام
15:27-44)جو حامد اللہ کے مطابق،”ایک طرح کا بُرا شیطان ہے جو بہت سی افسانوی کہانیوں میں پایا جاتا ہے۔“بریٹینیکاکے انسائیکلوپیڈیا میں اِس کی تعریف درج ذیل الفاظ میں کی گئی ہے:

”اسلامی دیومالائی کہانیوں میں، جہنمی جنوں کی ایک قسم (ایسی روحیں جو فرشتوں اور شیطانوں کے درجے سے کم ہیں)مذکور ہے جو اپنی قوت اور مکار ی کے بارے میں جاناجاتا ہے۔ایک عفریت ایک عظیم پروں والی دھوئیں کی مخلوق ہے چاہے وہ نر ہو یا مادہ،جو زیر زمین رہتے ہیں اور مسلسل تباہی پھیلاتے ہیں۔عفریت قدیم عربی نسلوں کے ساتھ معاشرے کی طرح رہتے ہیں،جو بادشاہوں،قبیلوں اور برادریوں کی صورت میں مکمل ہوتے ہیں۔وہ عام طور پر ایک دوسرے کے ساتھ شادی کرتے ہیں لیکن وہ انسانوں کے ساتھ بھی شادی کر سکتے ہیں۔
جب کہ عام ہتھیار اور قوتوں کا اُن پر کوئی اختیار نہیں،وہ جادو کے اثر پذیر ہیں،جنہیں انسان اُنہیں مارنے یا اُن پر قبضہ کرنے یا اُنہیں غلام بنانے کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔“

معراج کے واقعہ میں کہا گیا ہے ہے کہ حضور اکرم جسمانی طور پر ایک سفید پروں والے گھوڑے پر سوار ہوئے جس کی مور کی طرح کی دُم تھی اور ایک فرشتے کا سر تھا۔اگر یہ عفریت او ربرّاق قابل ِ قبول ہیں،تو یقیناجنگلی سانڈپر بحث کرنا قابل ِ قبول ہے۔

زمین کے چار کونے؟

یسعیاہ 12:11 – ”یہ حوالہ ظاہر کرتا ہے کہ زمین چپٹی ہے،ورنہ اِس کے چار کونے نہیں ہو سکتے تھے۔“

یہ بالکل واضح ہے کہ یہ چاروں سمتوں (شمال،جنوب،مشرق،مغرب)کے لئے ایک محاورہ ہے۔جس لفظ کا ترجمہ ’کونا‘ کیا گیا ہے وہ
’کاناف‘ہے جس کا ترجمہ،”انتہا“،”چوتھائی“،”سرحد“،”حد“یا حتیٰ کہ ”پہلو“ بھی ہو سکتا ہے۔حتیٰ کہ قدیم تہذیبیں جو یہ یقین رکھتی تھیں کہ دنیا چپٹی ہے،اُنہوں نے بھی یہ سوچا کہ یہ چپٹی گول تھی،جو چاروں حدوں یا کونوں سے کوئی مطابقت نہیں رکھتی ہوگی۔قدیم تہذیبیں چار بنیادی سمتوں شمال،جنوب،مشرق،مغرب کو سمجھی تھیں،اِس لئے ہمیں فطری طور پر چار ’کاناف‘کا ترجمہ کونوں کرنا چاہئے۔ کتاب مقدس کے نقاد احمد دیدات نے یہ کہتے ہوئے اِس عام محاورے کواستعمال کیا:

”دنیا کے چاروں کونوں کے لئے۔“1

قرآن میں بھی ایسی آیات موجود ہیں جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ زمین چپٹی ہے:

”اورآسمان کی طرف کہ کیسا بلند کیا گیاہے اور پہاڑوں کی طرف کہ کس طرح کھڑے کئے گئے ہیں اورزمین کی طرف کہ کس طرح بچھائی گئی
(سورۃ الغاشیہ 18:88-20)

اِس آیت پر نامور مفسِّر الجلالین کی تفسیر میں لکھا ہے،

”جہاں تک کے اُس کے لفظ سُطِحتَ،’ہموار بچھا دیا‘ کا تعلق ہے اِس کی لغوی قرأت تجویز کرتی ہے کہ زمین چپٹی ہے جو شریعت کے زیادہ تر علمائے کرام کی رائے ہے نہ کہ گول جیسی کہ علم ِ نجوم والے کہتے ہیں …“2

اِسی طرح مصر کے علم ِ الہٰی کے ماہر امام سیوطی نے بھی یہ کہا کہ زمین چپٹی ہے۔

  1. In Who moved the Stone?