سو ہم نے دیکھ لیا کہ520الفاظ یا25جملوں میں،ڈاکٹر نائیک نے واضح پچیس غلط بیانات دئیے ہیں۔ جوہر جملے کے حساب سے ایک غلط بیانی بنتی ہے۔ڈاکٹر نائیک ایک بہت ہی کرشماتی شخصیت کا حامل ہے اور بہت زبردست واعظ بھی ہے۔لیکن اگریہ ردعمل اُس کی تقاریر کے متن کی خصوصیت ہے،تو وہ بہت نااہل مفکر ہے۔اُس کے اقتباسات میں اتنی غلطیاں ہیں کہ پریشانی ہونے لگتی ہے۔ وہ شاید ہی کوئی نام درست لیتا ہو۔جن خیالات پر وہ تنقید کرتا ہے اُن کی بنیادی تفصیلات کو جاننے میں ناکام ہے۔ حتیٰ کہ تاریخ کے سادہ اور مشہور واقعات کوبھی نہیں جانتا،جیسے کہ آیا گلیلیو کو موت کی سزا دی گئی تھی یا نہیں۔

واضح جھوٹے بیانات
چونکہ اُس کے بہت سے سامعین اُس کے دیئے گئے اعداد و شمار کی جانچ پرکھ نہیں کر تے اِس لئے وہ آزادانہ جھوٹے اعداد و شمار دیتا ہے چند مثالیں درج ذیل ہیں:

مرد و خواتین کے تناسب کے اعداد و شمار

نائیک اِس حقیقت کی بنیاد پر کثرتِ اَزواج پر اپنی دلیل قائم کرتا ہے کہ مغرب میں مردوں کی نسبت عورتیں زیادہ ہیں،جب کہ بہ آسانی دیکھے جانے والے اعداد وشمار اِس کے بالکل برعکس ہیں۔ذاکر نائیک کہتا ہے:

”اگر ہر ایک عورت صرف ایک مرد سے شادی کرے تو امریکہ میں تیس ملین عورتیں ہو ں گی،برطانیہ میں چار ملین،جرمنی میں پانچ ملین،اور روس میں نو ملین ایسی عورتیں ہوں گی جنہیں کوئی شوہر نہیں ملے گا۔تو ایسی عورتیں جن کو شوہر نہیں ملے اُن کے پاس دو باتیں کرنے کو ہوں گی یا تو وہ کسی شادی شدہ مرد سے شادی کر لیں یا پھر لوگوں کی ملکیت بن جائیں۔“ 19

اُس کے قدر دان اُس کی منطق سن کر خوش ہو تے ہیں،مگر اُس کے اعدادوشمار کی جانچ پڑتال نہیں کرتے۔کئی شائع شدہ وسائل،جیسے ”ورلڈ فیکٹ بُک“ (جو بہ آسانی آن لائن دستیاب ہے)بڑے اختصار کے ساتھ اِس کے برعکس بتاتی ہے کہ اِن میں سے ہر ایک ملک میں عورتوں کی نسبت مرد زیادہ ہیں۔

 

جنس کا تناسب (شادی کے قابل عمر65-16)
مرد خواتیناضافی مرد
جرمنی 1041001.03 ملین
برطانیہ 103100527,000
دنیا میں کُل تعداد10210043 ملین

وہ اپنی بات جاری رکھتا ہے:

”دنیا میں خواتین کی آبادی مردوں کی آبادی سے زیادہ ہے۔“
ایسا نہیں ہے،اِس وقت زمین پر 3,059,307,647مرداور3,019,466,887خواتین ہیں۔دوسرے الفاظ میں خواتین سے 40ملین مرد دنیامیں زیادہ ہیں۔میَں اپنے قاری کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ یہ اعداد و شمار Wikipedia, یا World Factbook, یا پھر کسی اَور قابل قبولِ عالمگیر ذریعہ پر دیکھ لیں۔

دنیا کے مذاہب
نائیک باربار اِس بات کا دعویٰ کرتا ہے:
”واحد اسلام ایسا غیر مسیحی مذہب ہے جو حضرت عیسٰی المسیح کو خدا کا نبی مانتا ہے۔“20
نائیک ’’تقابلِ اَدیان“ کا نام نہاد مفکر کہلاتا ہے، دنیا کے ساتویں بڑے مذہب،بہائی ایمان سے بے خبر ہے۔یہ مذہب جو حضرت عیسیٰ المسیح او رحضرت محمد ﷺ دونوں کوانبیا مانتا ہے،جین مت یا زرتشت دونوں سے بڑا مذہب ہے۔بریٹینیکا[ 2005 ء] یہ 247ممالک اور علاقوں میں قائم ہے؛جو 2,100، ثقافتی،نسلی اور قبائلی گروہوں کی ترجمانی کرتا ہے اور ایسے صحائف رکھتا ہے جن کا800سے زیادہ زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے اور اِن کے دنیا میں سات ملین پیروکار ہیں۔پھر بھی ذاکر نائیک اپنے سامعین کی جہالت سے کھیلتاہے اور علم و فضل کا دعویٰ کرتا ہے۔

چیونٹی رہنما؟
نائیک نے مسیحی صحائف پر یہ کہتے ہوئے تنقید کی ہے کہ سخت محنت کرنے والی اکٹھی چیونٹیوں کا ”نہ کوئی سردار،نہ ناظر نہ حاکم ہے“(امثال 7:6)۔نائیک کہتا ہے کہ یہ چیونٹیوں کے لئے ’غیر سائنسی‘ ہے کیونکہ اُن کی ایک حکمران ملکہ یا نگران ہوتی ہے۔چیونٹیوں کی ثقافت کا بغور مطالعہ آپ کو بتائے گا کہ ’ملکہ‘ کسی طرح بھی حکمران نہیں ہوتی۔اِس کے بارے میں ایک معروف انسائکلوپیڈیا یہ کہتا ہے:
”ملکہ“ کی اصطلاح اکثر گمراہ کرتی ہے کیونکہ مجموعی طور پر ملکہ کا کالونی پر کوئی اختیار نہیں ہوتا۔وہ ایک معروف اور فیصلے کا اختیار رکھنے والی ہستی کے طور پر جانی نہیں جاتی؛اِس کے بجائے اُس کا اپنا کام محض بچے پیدا کرنا ہے۔اِس لئے ملکہ کو کالونی کی حکمران کی بجائے پیداوار میں اضافے کرنے والی سمجھا جائے۔“ 21
تب نائیک یہ کہتے ہوئے ایک بیہودہ جھوٹ بولتا ہے کہ چیونٹیوں کا ایک ’ناظر‘ (کام کرنے والے عملے کا نگران)ہوتا ہے۔جب کہ کچھ چیونٹیاں سپاہیوں کا کام کرتی ہیں جو دوسری چیونٹیوں کی کالونیوں سے لڑتی ہیں۔چیونٹیوں کی ثقافت میں ایسا کچھ نہیں ہوتا جسے کہیں دُور سے بھی ناظر کہا جائے۔

بہت بڑی تبدیلی
ذاکر نائیک لوگوں کے اپنے مذہب کوتبدیل کر کے دائرہ اسلام میں آنے کی وجہ سے اِسلام کو بڑی باقاعدگی سے تیزی سے پھیلتا ہوا مذہب کہتا ہے۔ 22 یہ سچ نہیں ہے۔ہاں،اسلام اوسط کے لحاظ سے تیزی سے پھیلتا ہوا مذہب ضرور ہے،اور یہ عدم تناسب کے باعث تیزی سے بڑھتی ہوئی شرح ِ پیدائش کی وجہ سے ہے،کسی کے مذہب کی تبدیلی کی وجہ سے نہیں۔آکسفورڈیونیورسٹی پریس کا وہی ذریعہ جو دعویٰ کرتا ہے کہ اسلام سب سے زیادہ پھیلتا ہوا مذہب ہے،وہ یہ بھی بتاتا ہے کہ دنیا کے چھ بڑے مذاہب میں سے جو تیزی سے پھیل رہے ہیں، اُن میں مسیحیت سب سے اوّل درجے پر ہے۔قاری کو حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ آن لائن اِن اعدادوشمار کو پڑھ لے۔ 23

شہری روایات
نائیک افواہیں بنانے کے لئے مشہور ہے جو وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ جھوٹ میں تبدیل ہو گئی ہیں:
”..اورجن لوگوں نے دنیا کا پہلا نقشہ بنایا وہ مسلمان تھے ..“ 24
یوں لگتا ہے کہ نائیک نے ایک مصری مفکر”بطلیموس“ (ptolemy)کے بارے میں نہیں سنا جس نے پہلی بار دنیا کا نقشہ اسلام کی آمد سے پانچ سو سال پہلے بنایا۔شاید نائیک 1513ئمیں بنائے گئے Piri Reisکے نقشے کی طرف اشارہ کر رہاہو گا جو بطلیموس (ptolemy) سے جدید دنیا کے دنیا کے نقشے کی طرف آہستگی سے بڑھنے کے ایک چھوٹے سے قدم کو ظاہر کرتا ہے۔یہ ہمیں ایک افواہ کی یاد دلاتا ہے کہ کس طرح بائر نے بخاری کی مکھی کے پر”Fly-wing“کی دوا ایڈز کا علاج ایجاد کرنے کے لئے استعمال کی تھی یا یہ کہ کس طرح نیل آرمسٹرانگ نے جب چاند پر اذان سنی تو وہ مسلمان ہو گیاجسے برصغیر کے مسلمانوں میں بڑی تیزی سے پھیلایا گیا۔25

صحائف کی ناخواندگی
اُس کے سامعین کی ایک بڑی تعداد نے کبھی بھی پورے قرآن مجید کو اپنی مادری زبان میں نہیں پڑھا ہے اور چند ہی ہیں جنہوں نے کتاب مقدس کو پڑھا ہے۔ یہ کم افراد جنہوں نے اِن صحائف کو پورے طور پر پڑھا ہے چاہے وہ مسلمان ہوں یا نہ ہوں،دونوں ہی سیاق وسباق سے باہر اقتباسات سے صحائف کو بگاڑنے پر اُسے حقارت سے دیکھتے ہیں۔صحائف کی یہ ناخواندگی اُسے ایسی بے سروپا باتیں کہنے کے قابل بناتی ہے جیسے،” میَں کتاب المقدس سے ثابت کرسکتا ہوں کہ حضرت عیسیٰ المسیح مصلوب نہیں ہوئے تھے“اور”اگر کتاب مقدس میں آپ پڑھیں، پیدایش 3باب تو وہاں صرف بی بی حّوا ہی انسان کے گناہ میں گرنے کی ذمہ دار ہے۔“اگر آپ توریت شریف یا اناجیل سے واقف ہیں تویہ بیانات محض نامعقول ہیں۔

تیزی کے ساتھ نصف سچائیاں بیان کرنا
دوسرے صحائف کو کم تر سمجھتے ہوئے آدھی سچائی بیان کرنے میں پانچ سیکنڈ لگتے ہیں مگر حقائق او ردلائل کا استعمال کرتے ہوئے اُسی نصف سچائی کو بیان کرنے میں تقریباً دس منٹ لگتے ہیں۔نائیک کتاب المقدس،قرآن مجید اور سائنس پر ایک مسیحی مشنری ولیم کیمبل کے ساتھ جسے اُس نے مناظر ے کی دعوت دی تھی،اپنے ایک مناظرے میں اِس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھاتا ہے۔جو کچھ ہوا درج ذیل میں اُس کا ایک خاکہ موجود ہے:

1. کیمبل بڑی احتیاط کے ساتھ قرآن مجید میں موجود دو یا تین معجزات پر تفصیل کے ساتھ تردید کرتے ہوئے آغاز کرتا ہے۔وہ ہر نکتے کو دس منٹ دیتا ہے۔اِس میں اُس کا زیادہ وقت لگ جا تا ہے۔

2. نائیک مختصراً اِن نکات کا جواب دیتا ہے اور جلد ہی کتاب مقدس کو کم ثابت کرنے کے لئے نصف سچائیوں کی ایک فہرست بیان کرنا شروع کر دیتا ہے۔بڑی خوشی سے بڑی تیزی سے کوئی سو آیات بیان کرتا ہے جو سیاق وسباق سے باہر ہوتی ہیں اورجن کی جان بوجھ کرغلط تشریح کی گئی۔کیمبل کو اِن نکات کا جواب دینے کا بالکل مناسب وقت نہیں ملا،اِس لئے وہ مناظرہ ہار گیا۔(اِس ویب سائٹ پر نائیک کے تمام 20نکات کو ردّ کیاگیا ہے)۔ایک فطین مسلمان لڑکی نے سوالات پوچھنے کے وقت میں نائیک سے پوچھا،”مگر آپ نے تو ڈاکٹر کیمبل کے قرآن مجید پر اُٹھائے گئے سوالات کا جواب نہیں دیا“جس کا اُس نے کوئی جواب نہیں دیا۔

یہ بے خبر سامعین کے سامنے ایک مبہم سا مناظرہ تھا۔وہ مناظر جو جان بوجھ کر نصف سچائیاں بیان کرتا ہے وہی جیتتا ہے،جب کہ دوسرا جو سیاق وسباق سے باہر ہٹ کر دی گئی آیات او راعداد وشمار کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے وہ ہار جاتا ہے۔

سامعین کے تعصب کو ابھارنا
جب منطق ناکام ہو جاتی ہے تو نائیک اکثر سادہ لوح سامعین کے تعصب کو بھڑکانے کی کوشش کرتا ہے۔
”امریکہ میں بہت سے لوگ سؤر کھاتے ہیں۔ڈانس کی محفلوں کے بعد بہت مرتبہ وہ اپنی بیویوں کے تبادلے کرتے ہیں،بہت سے لوگ کہتے ہیں،’تم میری بیوی کے ساتھ سو جاؤ اور میَں تمہاری بیوی کے ساتھ سو جاتا ہوں۔‘اگر آپ سؤر کھاتے ہیں تو آپ سؤروں کی طرح حرکتیں بھی کرتے ہیں۔‘ 26
چونکہ امریکیوں کی نسبت چینی لوگ زیادہ سؤر کھاتے ہیں،کیا وہ بھی اکثر بیویوں کا تبادلہ کرتے ہیں؟کیاذاکر نائیک مرغی کی طرح حرکتیں کرتا ہے کیونکہ وہ زیادہ مرغی کا گوشت کھاتا ہے؟یہ منطق بالکل بیہودہ ہے،لیکن یہ سماجی تعصب کی بات ہے۔ میَں سؤر کا گوشت نہیں کھاتا، میَں نے امریکہ میں دس سال پڑھنے کے بعد بھی کبھی ایک مرتبہ بھی بیوی کے تبادلے کی غیر معمولی حرکت نہیں دیکھی،جس کا نائیک ذکر کرتا ہے،اور میَں جانتا ہوں کہ بہت سے امریکی ایسی حرکت پر چونک جائیں گے۔شاید یہ ملحد ہالی وڈ میں ہوتا ہو،جیساکہ ہم بالی وڈ اور مشرق ِ وسطیٰ کے ہوٹلوں میں ہونے والی جنسی بے راہ روی کے بارے میں سنتے ہیں۔مگر کیا یہ وہ چیز ہے جسے آپ منطق کہتے ہیں؟نائیک صرف حقائق پر بات کرنے کا دعویٰ کرتا ہے،مگر نظریات پر نہیں۔

کمپیوٹر کی مانند یاداشت
ایک مشکل دلیل کا سامنا کرتے ہوئے تیزی سے آیات کی فہرست بولنا اُس کے عقیدت مندوں کو متاثر کرنے اور اُنہیں گمراہ کرنے میں ناکام نہیں ہوتا۔اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ مسلسل غلط یا غیر متعلقہ ہیں،کوئی اُن کاجائزہ نہیں لے گا۔ذاکر نائیک نے یہ طریقہ اپنے پانی کے چکر کی دلیل کی ناکامی کے بعد استعمال کیا،اٹھارہ آیات کی ایک فہرست بنائی جو پانی کے چکر کو ”بڑی تفصیل“ کے ساتھ بیان کرتی ہے۔سامعین خوش ہوگئے،لیکن اگر آپ اِن آیات کو دیکھیں تو وہ اپنا ثبوت خود فراہم کرنے والی سچائیاں بیان کرتی ہیں جیسے کہ بادلوں سے بارش بنتی ہے اور یہ کہ ہوا بادلوں کو اُڑا لے جاتی ہے لیکن اِن میں پانی کے چکر کے حوالے سے کوئی سائنسی تفصیلات موجود نہیں ہیں۔

نائیک اور مغرب
نائیک مغرب کے دو متوازی بنیادی توڑی مروڑی ہوئی باتیں کرتاہے۔ایک یہ کہ وہ ہم جنس پرستی اور زناکاری کے حقیقی حقائق سے ہٹ کر اعدادوشمار پیش کرتا ہے جیسے کہ ”ایک رات کے لئے بیویوں کا تبادلہ“امریکیوں کا ایک عام کام ہے۔یہ ہر اُس شخص کے لئے ناقابل ِ یقین ہے جو مغرب میں رہتا ہے۔لیکن بہت سے ایشیائی مسلمان اِس جھوٹی تصویر کو بڑی خوشی سے قبول کر لیتے ہیں۔

بڑی تعداد میں اسلام قبول کرنا
دوسری طرف وہ یہ فریب کھڑا کرتا ہے کہ مغرب بڑی تیزی سے اسلام قبول کر رہا ہے۔ہر وہ شخص جو مغرب میں رہتا ہے جانتا ہے کہ مغرب میں اسلام کی ترقی وہاں مسلمانوں کے ہجرت کرکے آنے کی وجہ سے اور اسلامی ملکوں سے دُور ہونے کی وجہ سے ہے۔امریکہ میں مسلمانو ں کی تعدادکل آبادی کے حساب سے 0.6فیصد (World Factbook 2007)سے لے کر 1.5فیصد ہے(Encyclopaedia Britanica 2005)،دو تہائی امریکی غیر ملکوں میں پیدا ہوئے ہیں اور بقیہ کے بنیادی طور پر افریقی امریکی ہیں جوابتدائی طور پر نسلی اُمت مسلمہ میں داخل ہوئے اور بعد میں قدامت پسند اسلام میں ضم ہو گئے۔قدامت پسند اسلام میں داخل ہونے والے مغربی لوگ انتہائی قلیل ہیں۔یہاں دوبارہ بھارتی مسلمان نائیک کے غلط اعدادوشمار سے خوش ہوتے ہیں لیکن اُن کو مغربی معاشرے کی ذرا بھی سوجھ بوجھ نہیں ہے۔

امریکہ میں خیرات دینا
نائیک یہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکی لوگ پیسے کے معاملے میں بہت کنجوس ہوتے ہیں اور وہ یہ دعویٰ بھی کرتا ہے کہ اگر امریکی صرف 2.5فیصد زکوٰۃ دیں تو امریکہ سے جرم اور غربت ختم ہو جائے گی۔واہ! کنجوس امریکہ کے لئے کیا حل نکالا ہے!پھر بھی درحقیقت امریکہ دوسرے ممالک کی نسبت سالانہ زیادہ خیرات دیتا ہے،جس کی شرح گذشتہ چالیس سال سے 2فیصد کے قریب پہنچ چکی ہے۔اوسطاًامریکی بشارتی مسیحی اپنی آمدنی کا 4فیصد خیرات میں دے رہے ہیں27 جو زکوٰۃ 2.5فیصد کا دُگنا بنتا ہے۔اگر نائیک ایک صحافی ہوتا او روہ کسی نامور اخبار کے لئے ایسی بے تُکی باتیں لکھتا تو اُسے حقائق کو غلط پیش کرنے پر نکال دیا جاتا۔

امریکہ میں ہم جنس پرستی
نائیک لکھتا ہے:
”مجموعی طور پر امریکہ میں پچیس ملین سے زیادہ لوگ ہم جنس پرست ہیں۔اِس کا مطلب ہے کہ یہ لوگ عورتوں سے شادی نہیں کرنا چاہتے۔“ 28
درست اعدادوشمار ظا ہر کرتے ہیں کہ امریکہ کے مردوں کی صرف 2.3 فیصدتعداد اپنے آپ کو ہم جنس پر ست سمجھتی ہے۔29 اگر ذاکر نائیک کے اعداد و شمار درست تھے،تو پھر امریکہ میں ہر غیر شادی شدہ مردہم جنس پرست ہو گا۔ 30 اگر ذاکر نائیک اپنی یونیورسٹی کلاس میں مضمون میں اپنی دلیل اِس بنیاد پر رکھے گاتو بلاشبہ اُس کا پروفیسر اُسے فیل کر دے گا۔

مغرب میں بدعنوانی اور رشوت ستانی
اپنی ویڈیو،”مغرب کیوں دائرہ اِ سلام میں داخل ہو رہا ہے“ میں نائیک بڑی وضاحت سے یہ بیان کرتا ہے کہ کس طرح مغرب کوبد عنوانی اور رشوت ستانی کے لئے قرآن مجید کے حل کی ضرورت ہے۔ اچھا ہے اگر آپ کرپشن کے بارے میں ٹرانس پرینسی انٹرنیشنل کے نقشے کو دیکھیں جو اِس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ دراصل دُنیا کے اُنہی علاقوں نے بدعنوانی سے رہائی پائی ہے جنہوں نے اصلاح ِ کلیسیا کے وقت سے بڑی سنجیدگی سے کتاب مقدس کو اپنایا ہے۔حضرت یسوع المسیح کی تعلیمات بدعنوانی کو جڑ سے اُکھاڑنے کے لئے ناگزیرہیں۔

Transparency Int'l Corruption Map 2005

(ڈائیگرام 1)

ٹرانس پرینسی انٹرنیشنل میپ 2005ء CPI ٗٓ پرو ٹسٹینٹ اصلاح ِکلیسیا کے ساتھ نشاندہی کیا گیا سکور

[گہرے علاقے زیادہ کرپشن کی نشاندہی کرتے ہیں، جبکہ ہلکے علاقے کم کرپشن کی]

حجاب اور جنسی چھیڑ چھاڑ
نائیک یہ سمجھتا ہے کہ حجاب نما پردہ عصمت دری یا جنسی چھیڑ چھاڑ کو روکتا ہے۔وہ یہ دعویٰ کرتے ہوئے امریکہ میں عصمت دری کی بہت بلند شرح کا ذکر کرتا ہے کہ اگر امریکہ میں شریعت نافذ ہوتی تو عصمت دری کی شرح گر جاتی۔ 31 اعداد و شمار بہت قابل ِ قبول معلوم ہوتے ہیں۔تاہم اگر کوئی ایشیا اور مغرب کی ثقافتوں سے واقف ہے تو وہ جلد ہی یہ تسلیم کر لے گا کہ اعلیٰ ایشیائی لوگ اپنے خاندانوں کی ساکھ کو قائم رکھنے پر زور دیتے ہیں جس کی وجہ سے ایشیا میں عصمت دری کے زیادہ تر واقعات کی رپورٹ درج نہیں کروائی جاتی اور اِس طرح وہ جائزے کے عمل سے بھی نکل جاتے ہیں۔مصر جہاں حجاب کا استعمال کثرت سے کیا جاتا ہے وہاں جنسی چھیڑ چھاڑ کا مسئلہ بہت زیادہ ہے۔”مصری مرکز برائے حقوق ِ نسواں“کے تحت حال ہی میں کئے گئے ایک جائزے نے حیرت انگیز انکشافات سے پردہ اُٹھایا ہے۔2000خواتین سے کئے گئے سوالات کے جوابات میں 83فیصد مصری خواتین نے کہا کہ اُنہیں کسی نہ کسی شکل میں ہراساں کیا گیا تھا۔رپورٹ کے مصنف جناب نہاد عبدالقمسان کہتے ہیں،یہ عورت ہی ہے جسے اکثر اشتعال انگیز لباس پہننے کا الزام لگایا جاتا ہے:
جب ہم نے خواتین سے سوال کیا کہ جب اُنہیں جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تو اُنہوں نے کون سے لباس پہنا ہوا تھا تو 70فیصد خواتین نے کہا کہ اُنہوں نے سر پر سکارف یا رومال پہنا ہوا تھا۔ تقریباً دو تہائی مردوں کا جنہوں نے اُن کا جائزہ لیا اُنہوں نے آزادانہ تسلیم کیا کہ اُنہوں نے ایک یا دو مرتبہ خواتین کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا تھا۔“ 32
اِس طرح ہم جان گئے کہ اعدادوشمار ایک برعکس تصویر پیش کرتے ہیں۔مصر میں زیادہ تر خواتین جن کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اُنہوں نے حجاب پہنا ہوا تھا۔بنیادی شرم وحیا بہت اہم ہے،مگر زیادتی کانشانہ بننے والوں پر الزام لگانا ناانصافی ہے۔

منتخب عالمانہ اقتباسات
نائیک اُن مغربی مفکرین کی چھوٹی خبروں کا حوالہ دیتا ہے جنہوں نے اسلام کے بارے میں مثبت تاثرات دیئے ہیں۔طنزاً،اِنہی مفکرین میں سے زیادہ ترسائنس،قرآن مجید،اسلامی علم ِ الہٰی،کتاب مقدس اور سائنس کے بارے میں ذاکر نائیک کے نظریات سے سخت اختلاف کریں گے۔دنیا کے زیادہ تر مفکرین،مسلم او رغیر مسلم دونوں نائیک کے وہابی قسم کے اسلام کے سخت مخالف ہیں۔

Oسیاق و سباق سے باہر صحائف کی آیات
نائیک کتاب مقدس میں حضرت محمد ؐ کے بارے میں نبوت کے طور پربڑی باقاعدگی سے یسعیاہ 29:12کا حوالہ دیتا ہے (جو درحقیقت 12:29ہے):”کتاب کسی ناخواندہ کو دیں اور کہیں اِس کو پڑھ“ اور وہ کہے”میں تو پڑھ نہیں سکتا“،یہ ایک اَن پڑھ نبی کے بارے میں بالکل مناسب نبوت معلوم ہوتی ہے۔اب اگر ہم متن کو وسیع النظری سے دیکھیں تو یہ آیت یسعیاہ کے مکاشفہ کے جواب میں اسرائیل کے رَدِّعمل کی بات کرتی ہے،اور سیاق و سباق کے حوالے سے پوری آیت درج ذیل ہے:
”(آیت 11)اور ساری رُوٗیا تمہارے نزدیک سر بمُہر کتاب کے مضمون کی مانند ہو گی جسے لوگ کسی پڑھے لکھے کو دیں اور کہیں اِس کو پڑھ اور وہ کہے کہ میَں پڑھ نہیں سکتا کیونکہ یہ سر بمُہر ہے۔“(آیت 12)”اور پھر وہ کتاب کسی ناخواندہ کو دیں اور کہیں ”اِس کو پڑھ“ اور وہ کہے میَں تو پڑھنا نہیں جانتا۔“(یسعیاہ 11:29-12)
اِس لئے اگر یہ نبوت تھی (جسے وسیع سیاق و سباق خارج قرار دیتا ہے)،ساری تاریخ میں زمین پر اِسے کوئی بھی پڑھا لکھا آدمی(آیت 11)اور اَن پڑھ آدمی(آیت 12) پورا کر سکتا تھا۔کوئی نبوت!یہ نائیک کی دیانت داری کو بہت بُری طرح سے ظاہر کرتی ہے کہ وہ اِس طرح اپنے سامعین کو جان بوجھ کر دھوکا دے گا۔

لسانیاتی بازی گری
چونکہ اُس کے سامعین کی زیادہ تر تعداد قدیم زبانوں جیسے کہ یونانی،عبرانی یا عربی سے نا واقف ہوتی ہے،اِس لئے ذاکر نائیک بڑی آزادی سے الفاظ کے نئے معانی تخلیق کرتا ہے جو علما کے نزدیک کسی طرح بھی قابل ِ قبول نہیں ہو ں گے۔

عربی # 1: ”منعکس روشنی“
نائیک جن سائنسی معجزات پر بحث کرتا ہے اُن میں سے ایک یہ ہے کہ قرآن یہ بتاتا کہ چاند روشنی منعکس کرتا ہے جب کہ روشنی کا منبع سورج ہے:
”خدا… نے چاند کو اُن میں (زمین کا)نور(نُورً) بنایا ہے اور سورج کو چراغ (سِرَاجاً)ٹھہرایا ہے“(سورۃ15:71-16)
وہ اِس پر بحث کرتے ہوئے دعویٰ کرتا ہے کہ نُورً کا مطلب ہے’منعکس روشنی‘ جب کہ سِرَاجاً کا مطلب ہے ’روشنی کا منبع۔‘تاہم اُس کی اِسی منطق کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ”اَلنور“کا لقب رکھتے ہوئے اُس کا مطلب ’منعکس روشنی‘ہونا چاہئے جب کہ سورۃ 46:33میں روشنی کا حقیقی منبع حضرت محمد کو ”چراغ،(سِرَاجاً)روشنی پھیلانے والا“کہا گیا ہے۔ یہ سب کچھ تو کفر لگتا ہے۔

عربی # 2: ”شُتر مُرغ کا اَنڈا“
گذشتہ چودہ سو سال سے سورۃ 30:79کاترجمہ عام لحاظ سے بغیر کسی اعتراض کے ”پھیلا ہوا“ کیا گیا ہے:
”اور اِس کے بعد زمین کو پھیلا دیا“(سورۃ30:79)
تاہم نائیک یہ دلیل دیتا ہے کہ حتمی لفظ دَحٰہَا کا مطلب ’پھیلا ہوا“نہیں ہے،بلکہ ’شُتر مُرغ کا اَنڈا“ ہے،اِس لئے وہ اِس کا ترجمہ کچھ یوں کرتا ہے،”اور زمین اُس نے مزید انڈے کی شکل کی بنائی۔“

عربی کی کوئی بھی ایسی مُستند لُغت نہیں ہے جہاں دَحٰہَا کا مطلب ”شُتر مُرغ کا اَنڈا“دیا گیا ہو۔ بکاؤلے ازم کی دو دہائیوں سے پہلے،کسی بھی عربی عالم نے اِس آیت کا اِس طرح سے ترجمہ نہیں کیا؛جن میں یوسف علی، پِکتھال،شاکر،اسداور داؤد جیسے علما شامل ہیں جنہوں نے اِن آیات کے درست ترجمے کے لئے اپنی زندگیاں وقف کر دی تھیں۔ہمیں کس کی بات سننی چاہئے؟ لسانی ماہرین اورقرآن مجید کی عربی کے سنجیدہ علما کی،یا سعودیہ کے تعاون سے چلنے والے ٹیلی وژن کے مُبلّغ ذاکر نائیک کی، جیسے کہ عبدالرحمان اشارہ کرتا ہے،

”یہ دوبارہ سے کیا گیا انڈے کا ترجمہ فضول بات ہے کیونکہ زمین انڈے کی شکل کے بالکل برعکس ہے۔وہ دونوں سروں سے پچکی ہوئی ہے نہ کہ اُبھری ہوئی ہے۔“

نئے عبرانی مطالب

نائیک ایسے عبرانی حروف تلاش کرتا ہے جن کے ملانے سے محمد کا لفظ بنتا ہے اورپھریہ دعویٰ کرتا ہے کہ یہ حضرت محمد کی آمد کے بارے میں نبوت ہے۔وہ کتاب مقدس کی ایک کتاب غزل الغزلات 16:5 میں سے ایک ایسا لفظ تلاش کر لیتا ہے۔

”اُس کا مُنہ ازبس شیرین ہے۔ہاں وہ سراپا عشق انگیز(Hebrew) ہے۔

اے یروشلیم کی بیٹیو! یہ ہے میرا محبوب۔یہ ہے میرا پیارا۔“

مندرجہ بالا سیاق و سباق کو بڑی احتیاط سے نظرانداز کرتے ہوئے وہ دلیل دیتا ہے کہ چونکہ ”محبوب“ کے لئے عبرانی لفظ (مَخمَد) ہے اِس لئے یہ حضرت محمدؐ کے لئے پیشین گوئی ہے۔تاہم مندرجہ بالا آیت ایک ایسے باب کا ایک حصہ ہے جس میں ایک دُلہن اپنے محبوب کی مکمل تفصیلا ت دے رہی ہے۔مزید یہ کہ نائیک کا ترجمہ ایک اسم ِصفت کی جگہ پر اسم لگا رہا ہے جو بالکل نامناسب ہے۔
”اُس کا مُنہ ازبس شیرین ہے۔ہاں وہ سراپا محمد ؐہے۔

اے یروشلیم کی بیٹیو! یہ ہے میرا محبوب۔یہ ہے میرا پیارا۔“

لفظ کا سیاق و سباق یہ واضح طور پر یہ بتاتا ہے کہ یہ نہ تو کوئی نبوت ہے اور نہ ہی حضرت محمد کے بارے میں ایک حوالہ ہے او رایسا دعویٰ کرنا دھوکا دہی کے زُمرے میں آتا ہے۔اِس طرح تو ہم دوسرے اشخاص کے بارے میں بھی ملتی جلتی نبوتیں ایجاد کر سکتے ہیں۔حضرت محمد ؐ سے پہلے اور بعد میں بھی دو ایسے غیر مسلم انبیا بنام مانی اورمرزا حسین علی (بہاء ُاللہ)دونوں نے صحائف کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا تھاکہ وہ دیگر انبیا کے نسب نامے میں سے انبیا ہیں۔نائیک کا یہ معتبر طریقہ استعمال کرتے ہوئے ہم زبور 8:89میں بہاء ُاللہ(حَسِین) کے نام کی نبوت پاتے ہیں اورمانی(منی) کا نام خاص طور پر اٹھارہ مقامات پر پایا جاتا ہے!کیا ہمیں یہ یقین رکھنا ہے کہ وہ حوالہ جات دراصل اُن دو جھوٹے انبیا کے بارے میں نبوتیں ہیں؟

یونانی
نائیک نے احمد دیدات کی ”ٹانتھیوس“(tontheos)اور”ہوتھیوس“(hotheos)کے موضوع پر بحث کی ایک یونانی دلیل کی ایک اُلجھے ہوئے طریقے سے غلط نقل کی ہے۔
HOTHEOS — THE GOD; TONTHEOS — A GOD

نیا عہد نامہ یونانی زبان میں لکھا گیا ہے۔جس حوالے میں پہلی مرتبہ خدا”ہوتھیوس“ کا ذکر آیا ہے،اُ س کا مطلب،”the God“ ہے،یعنی ”کلام خدا کے ساتھ تھا۔“لیکن جب حوالے میں دوسری مرتبہ خدا کا لفظ آتا ہے،تو وہاں یونانی لفظ”ٹانتھیوس“استعمال ہوا ہے جس کا مطلب ”دیوتا“ ہے،یعنی ”یہی ابتدا میں خدا کے ساتھ تھا۔“عبرانی زبان میں انگریزی حروف کی طرح بڑا ’G‘ یا چھوٹا ’g‘ جیسے حروف نہیں ہیں۔اِس لئے ہوتھیوس تو انگریزی زبان میں بڑے Gکے ساتھ ہے اور ٹانتھیوس چھوٹے gکے ساتھ ہے۔“ 33

یہ غلط ہے؛لفظ ”ہوتھیوس“مقدس یوحنا رسول کی انجیل شریف میں کبھی نہیں آتااور ”ٹانتھیوس“یونانی قواعد کی رُو سے غلط ہے۔ یہ دراصل ”ton theon“لفظ ہے جو مقدس یوحنا رسول کی انجیل شریف میں خدا کے لئے باربار استعمال ہوا ہے۔بحث کے درمیان میں ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے نائیک یہ بھول جاتا ہے کہ وہ اُوپر کس زبان کے بارے میں بات کر رہا ہے۔جب وہ اچانک عبرانی کے بارے میں بات کرتا ہے اور پھر یونانی کے بارے میں۔اگر کوئی شخص جو یونانی زبان جانتا ہے (نائیک کی طرح نہیں) اور اُسے خود معلوم نہیں کہ وہ کس زبان کے بارے میں بات کر رہا ہے تو پھر اُسے اکیلے ہی اِس نکتے پر اتفاق کر نے دیجیے۔

صحائف کی غلط تشریح
خاص طور پر کتاب مقدس کے حوالے سے ذاکر نائیک تصو راتی ”مسیحی“تعلیمات کو تخلیق کرنا نہایت آسان سمجھتا ہے اور پھر اُسے حقیقی مسیحی تعلیم کے طور پر پیش کرتا ہے۔مثلاً نائیک کہتا ہے:
”اگر کتاب مقدس میں پیدایش 3باب کا آپ مطالعہ کریں تو صرف بی بی حوّا انسانیت کی گراوٹ کی ذمہ دار ہیں“۔
یوں لگتا ہے کہ ذاکر نائیک نے پیدایش 3باب نہیں پڑھا کیونکہ ہر کسی کو وہاں یہ واضح لکھا ہوا ملتاہے کہ اللہ تعالیٰ بی بی حوّا کو ملامت کا صرف ایک جملہ کہتے ہوئے الزام دیتے ہیں،جب کہ حضرت آدم ؑ کو تین گُنازیادہ ملامت اور سزا دیتے ہیں۔کتاب مقدس کے بقیہ حصے میں،حقیقی گناہ کا الزام اکثر صرف حضرت آدم ؑ کے کندھوں پر رکھا گیا ہے (-1کرنتھیوں 22:15؛رومیوں 14:5؛12:5؛ہوسیع 7:6وغیرہ)۔نائیک کا یہ اعتراض بے معنی اور فریب پر مبنی ہے۔

دوہرے معیار
نائیک مغربی مسیحیوں کی بڑی تعریف کرتا ہے کہ وہ اپنے ارکان کوبغیر کسی تشدد کے آزادانہ اسلام قبول کرنے کی اجازت دیتے ہیں، 34 لیکن وہ بڑے اعتماد سے ایسے مسلمانوں کو قتل کرنے کو جائز اور درست قرار دیتا ہے جو کسی اَور ایمان میں داخل ہونے کی جرأت کرتے ہیں۔

ٹیلی وژن کا ذریعہ
جہاں تک کُتب اور مضامین تنقیدی خیالات اور نسل پرستی کو اُبھارتے ہیں،اُسی طرح ٹیلی وژن کمزور اور غیر واضح منطق اورپُر فریب سحر کی عظمت بیان کرنے میں بدنام ہے۔کوئی بھی وقفے کا بٹن نہیں دباتا اور اعدادوشمار یا آیات کی جانچ پڑتال نہیں کرتا۔ٹیلی وژن تفریحِ طبع مہیا کرتا ہے،جب کہ ذاکر نائیک ایک مشہور شخصیت ہونے،اپنے اندر ایک بدعت رکھنے کے لئے،مکمل ڈرامائی جذباتی حملوں سے مغربی شہروں کی گلیاں تباہ و برباد کرتے ہوئے ہالی وڈ کے طریقے اپناتا ہے۔

ناقابل ِ چیلنج مناظر کا افسانوی قصہ

نائیک کے کتابچے اِس فریب کو زندہ جاوید رکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ مسیحی برادری کے اندر ناقابلِ چیلنج ہے۔اُس کے کتابچے مسلسل غیر جواب دہ مناظرے کے چیلنج کے بارے میں بھی لکھتے ہیں جو اُس نے پوپ بینڈکٹ کو پچھلے دنوں میں دیا۔یہ ذرا حیرانی کی بات ہے کہ کہ پوپ نے اُ س کا جواب نہیں دیاکیونکہ یہ پوری دنیا کے مذہبی راہنماؤں جیسے کہ پوپ یا مفتی اعظم کا کردار نہیں ہے کہ وہ ٹیلی وژن کے مبلغین کے ساتھ مناظرے کریں۔دنیا کے دینی راہنما دوسرے دینی راہنماؤں کے ساتھ بات چیت کرتے ہیں جیسے کہ دیوبند کے علما یا مفتی صاحبان،نہ کہ ایک ٹیلی وژن کے مبلغ کے ساتھ جسے غیر مقلدین کے طور پر ردّ کیا گیا اور اپنے ہی دینی اختیار والوں کی طرف سے غیر معتبر کہا گیا ہے۔ ذاکر نائیک کی خصوصیت صرف بین المذاہب مناظر ہ ہے،لیکن اُس نے ابھی تک کسی بھی نامور بین المذاہب کا مناظرہ کرنے والے کے ساتھ بات چیت نہیں کی،جیسے جے سمتھ،ڈاکٹر جیمس وائٹ،ڈیوڈ ووڈ،سیم شمعون، دی عریبک کرسچن پرسپکٹو،ساکشی انڈین اپا لوجیٹک نیٹ ورک یا پھر جنہوں نے بڑے عرصے سے نائیک کو مناظرے کا چیلنج کیا ہے۔اُن کے جواب میں یا تو بہانے بنائے گئے ہیں یا پھر خاموشی اختیار کی گئی ہے۔اِس کے بجائے،نائیک اپنے انتخاب میں صرف کیمبل کے ساتھ بات چیت کرتا ہے جو بزرگ ہے اور جسے مناظرے میں مہارت حاصل نہیں ہے یا پھر اُن لوگوں سے بات چیت کرتا ہے جنہیں اسلام کے بارے میں بہت کم معلوم ہے۔ ذاکر نائیک اور جدید مسلمان علما جیسے کے ایڈ حسین کے درمیان مناظرہ سننا دلچسپی سے خالی نہ ہو گاجو اُس کے وہابی قدامت پسندی کے خیالات کی مخالفت کرتا ہے۔

اغلاط کی اِس فہرست کو مرتب کرتے ہوئے میرا مقصد ذاکر نائیک کو ہراساں کرنا نہیں ہے بلکہ اُس کے سامعین کی یہ مدد کرنی ہے کہ وہ اُس کے بارے میں بڑے تنقیدی ذہن سے سوچیں جو کچھ وہ ٹیلی وژن پر سنتے ہیں۔کوئی شخص ایسے جھوٹے اعداد وشمار،غلط معلومات،غلط منظر کشی اوردہرے معیار کا استعمال ایسے باربار کیوں کرے گااگر وہ محض سچائی ہی پیش کر رہا ہو۔


ٹائمز آف انڈیا لکھتا ہے:”لکھنؤ کے ایک مفتی کے نائیک کے خلاف فتویٰ جاری ہونے کے ایک دن بعد،بروز ہفتہ،ممبئی کے علما کے ایک وفد نے اُس پر الزام لگایا کہ وہ سعودی عرب کے وہابیوں او ردیوبندیوں کے لئے کام کرتا ہے۔اُس وفد نے نائیک کی فوری گرفتاری اور اُس کی 14سے23نومبر کو سیون کے سومایہ گراؤنڈ میں ہونے والی کانفرنس کے شیڈول پر پابندی لگانے کا بھی مطالبہ کیا۔اُس وفد نے یہ دھمکی بھی دی کہ اگر مقامی حکومت نے اُس پر پابندی نہ لگائی تو وہ خود اُس کی اسلامی کانفرنس کو ناکام بنادیں گے۔“ (محمد وجیہ الدین،ٹائمز آف انڈیا،8نومبر2008ء)۔
Shahnawaz Warsi, November 13, 2008, www.sunninews.wordpress.com
Ibn Sa’d, Tabaqat Al-Kubra vol.5 pg.66, quoted from Abdullah bin Hanzala the Sahaba.
Shaykh al-hadith Muhammad Zakaria, Au Khanar al Masalik vol.3 pg.450.
For more on this see Iqbal Latif, “Why the clergy has made our heroes our heretics?” http://www.globalpolitician.com/22333-islam
Islam awr “Aqliyyat, ed., Muhammad Mustafa Bijnauri, Lahore: Idarah Islamyat, 1994, 403-421
Strange Bedfellows: Western Scholars Play Key Role in Touting `Science’ of the Quran Wall Street Journal, Jan 23, 2002. pg. A.1.
When Science Teaching Becomes A Subversive Activity By Pervez Hoodbhoy
“Quran-science”: Scientific miracles from the 7th century? By Taner Edis, retrieved from http://www2.truman.edu/~edis/writings/articles/quran-science.html
Abdullah Saeed, ‘The Charge of Distortion of Jewish and Christian Scriptures’, in The Muslim World, Vol 92, Fall 2002, p. 434.
The primary research done on Bucailleism is that of Mr Zindani, who was a friend and mentor of Osama bin Laden and received generous funding from Laden for his Bucailleist research (Daniel Golden, Western Scholars Play Key Role In Touting ‘Science’ of the Quran, in The Wall Street Journal, Jan 23, 2002).
See http://www.youtube.com/watch?v=y-_BDLNfcOc&feature=related
Szent-Györgyi, Albert. 1970. The Crazy Ape. New York: Philosophical Library.
http://www.irf.net/irf/dtp/dawah_tech/mcqnm1.htm, see also Zakir Naik, Answer to Non-Muslims’ Common Questions about Islam, Islamic Bookstore: Kolkata.
Dr Zakir Naik, Similarities between Islam and Christianity, and Concept of God in Major Religions.
“queen ant”, Wikipedia.org, September 29, 2009 (http://en.wikipedia.org/wiki/Queen_ant)
Dr Zakir Naik, Why is the West Coming to Islam?
http://en.wikipedia.org/wiki/Fastest-growing_religion
Dr Zakir Naik, Universal Brotherhood, p.12.
Malaysia’s biggest English Newspaper interviewed Neil Armstrong about this hoax and published his answer. (see online version at http://www.thestar.com.my/news/story.asp?file=/2005/9/7/nation/11971532&sec=nation)
Dr. Zakir Naik, Answers to Non-Muslims’ Common Questions about Islam (Islamic Bookstore, Kolkata), p.44.
http://www.generousgiving.org/
Zakir Naik, Most Common Questions Asked by Non-Muslims. http://www.irf.net/irf/dtp/dawah_tech/mcqnm1.htm
The statistics come from a 2002 National Survey of Family Growth and are based on 12,571 interviews with men and women ages 15-44 years of age> (The findings were reported in WorldNetDaily, September 16, 2005).
See for example, Naik, Answers to Non-Muslims’ Common Questions About Islam, (Islamic Bookstore, Kolkata)
Egyptian Women learn to fight back, BBC News, Wednesday, 18 March 2009 (http://news.bbc.co.uk/2/hi/7936071.stm)
http://www.irf.net/irf/dtp/dawah_tech/t22/pg1.htm
Zakir Naik, ‘Why The West is Coming to Islam’
.

Trackback from your site.

کتاب کی تلاش