صحائف پرانے ہو چکے ہیں؟

”قرآن کے آنے سے اُسے توریت شریف اور انجیل پر سبقت مل گئی ہے اور وہ غیر متعلقہ ہو گئی ہیں۔“

مسلمانوں کے درمیان یہ ایک وسیع خیال موجود ہے کہ”قرآن کے آنے سے اُسے توریت شریف اور انجیل پر سبقت مل گئی ہے اور وہ غیرمتعلقہ ہو گئی ہیں“۔یہ شاندار الزام قرآن یا حدیث میں کوئی بنیاد نہیں رکھتا یہ محض ایک رائے ہے جو قرآن سے تضاد رکھتی ہے۔

اگر یہ الزامات درست ہوتے تو پھر قرآن یہودیوں او رمسیحیوں کو یہ ہدایت نہ کر رہا ہوتا:”جب تک تم تورات اور انجیل کو اور جو (اَور کتابیں)تمہارے پروردگار کی طرف سے تم لوگوں پر نازل ہوئیں اُن کو قائم نہ رکھو گے کچھ بھی راہ پر نہیں ہو سکتے۔“(سورۃالما ئدہ 68:5)،
اِس کی بجائے یہ بھی کہا جا سکتا تھا،”تمہاری کوئی بنیاد نہیں ہو سکتی جب تک تم توریت شریف اور انجیل شریف کو قرآن ِ کے حق میں ختم نہیں کر دیتے۔“قرآن یہ نہیں کہتا:”اور اہل ِ انجیل کو چاہئے کہ جو احکام خدا نے اِس میں نازل فرمائے ہیں اُس کے مطابق حکم دیا کریں۔“(سورۃ المائدہ 47:5)بلکہ یہ کہتا کہ،”اہل ِ انجیل کو انجیل کو بھول جانا چاہئے اور قرآن کے مطابق حکم دیں۔“
اِس سے یہ بات واضح ہے کہ قرآن نے کبھی بھی پچھلے مکاشفات کی تبدیلی کا الزام نہیں لگایابلکہ اِس کے بجائے ”صاف عربی زبان“
(195:26)میں اُن کے اب تک مُستند ہونے (48:5)کی تصدیق کرتا ہے۔اگر ہر ایک صحیفہ حقیقت میں اپنے پچھلے صحیفے کو ترک کرتا ہے تو پھر ہم حضرت مسیح سے توقع کریں گے کہ اُنہوں نے توریت شریف کو ردّ کیا ہو گامگر اِس کے برعکس اُنہوں نے اِس کی اب تک قائم اور مُستند ہونے کی تصدیق کی اور خدا تعالیٰ کی اگلی کہانی انجیل شریف کا اضافہ کیا۔ 

منسوخ؟ ”ہم جس آیت کو منسوخ کر دیتے یا اُسے فراموش کرا دیتے ہیں تو اُس سے بہتر یا ویسی ہی اَو رآیت بھیج دیتے ہیں۔ کیا تم نہیں جانتے کہ خدا ہر بات پر قادر ہے؟“(سورۃ البقرۃ 106:2)
تاہم یہ آیت بالکل واضح ہے کہ منسوخ کا اشارہ کس طرح ہے یعنی انفرادی طورپر لکھی گئی قرآنی آیات نہ کہ کتابیں۔جب ہم تمام سیکڑوں احادیث کا جائزہ لیتے ہیں جو اِس منسوخ کے نظریے کی طرف اشارہ کرتی ہیں تو یہ بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ یہ آیت قرآنی آیات کی طرف اشارہ کر رہی ہے نہ کہ کسی کتاب کی طرف۔

غلَط مماثلتیں – وہ جو توریت شریف او رانجیل شریف کو متروک سمجھتے ہیں وہ اکثر مشابہتوں سے بحث کرتے ہیں جیسے کس طرح پرانے کمپیوٹر پروسیسرز کی جگہ نئے کمپیوٹرز نے لے لی ہے، یا نئی حکومتیں نئے آئین لے کر آتی ہیں۔تاہم،ایسی مشابہتیں اِس لئے پیش نہیں کی جا سکتیں کیونکہ پروسیسرز اور آئین اِس لئے بدلے جاتے ہیں کیونکہ وہ کامل نہیں ہوتے۔یہ خدا تعالیٰ کی توہین ہے کہ یہ کہا جائے کہ اُس باری تعالیٰ کا کلام نامکمل ہے۔کیا خدا ایسا پیغام دے گا جو غیر مناسب یا عیب والا ہو؟یہ کہنا کہ صحائف یا کلام غیر مناسب ہیں، خدا تعالیٰ کی توہین ہو گی،کیونکہ یہ اُس کے ساتھ انسانی حدود منسوب کرناہے۔جب خدا تعالیٰ کوئی کلام دیتا ہے تو یہ کامل ہوتا ہے اُس کے ”بدلنے“ کی کبھی ضرورت نہیں پڑتی۔ 

درست مماثلتیں – ایک ایسی مماثلت جو خدا تعالیٰ کے کلام کی بالکل مناسب عزت و تعظیم کرتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ بعد کا آنے والا صحیفہ کسی اَن کہی کہانی کے ابواب یا جلدوں کی صورت میں کام کرتا ہے جن کا ہر ایک حصہ خدا تعالیٰ کے سارے منصوبے کو سمجھنے کے لئے بہت اہم ہے۔
کلام کے صحائف کو کسی عمارت کی منزلوں یا درجوں کے ساتھ بھی مماثلت دی جا سکتی ہے۔اگر آپ بنیاد کی عمارت کو ہٹا دیں تو باقی تمام منزلیں بھی گِر جائیں گی۔اس کا ذکر سورۃ المائدۃ 68:5میں کیا گیا ہے:

”کہو کہ اے اہل ِ کتاب جب تک تم تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں)تمہارے پروردگار کی طرف سے تم لوگوں پر نازل ہوئی اُن کو قائم نہ رکھو گے کچھ بھی راہ پر نہیں ہو سکتے۔“(سورۃ المائدۃ 68:5)

صحائف یا کلام متضاد نہیں ہو سکتےیہ ممکن ہو سکتا ہے کہ ایک زمانے میں خدا تعالیٰ نے ایک قبیلے کوایک خاص قانون کی پیروی کرنی کی ہدایت کی ہے اور بعد میں ایک اَور قوم کو ایک مختلف قانون کی پیروی کی ہدایت کی ہو،یہ دلیل قابل ِ قبول ہے۔لیکن اگر ایک صحیفہ یہ سکھاتا ہے کہ
نجات شریعت کے وسیلے سے حاصل نہیں کی جاسکتی بلکہ خدا تعالیٰ کے واحد اور ایک ہی نجات کے ابدی انتظام کے وسیلے سے حاصل ہوسکتی ہے تو خدا تعالیٰ کا کلام ہوتے ہوئے یہ بیان کبھی بھی تبدیل نہیں ہو سکتا۔ہر صحیفے کی اپنی اہمیت ہے۔ انجیل شریف کا مرکزی نکتہ یہ بات ہے کہ نجات کیسے حاصل کی جائے جبکہ قرآن کا بنیادی نکتہ بت پرستوں کو روزِعدالت کی تنبیہ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.