زمین کے چار کونے؟

یسعیاہ 12:11 – ”یہ حوالہ ظاہر کرتا ہے کہ زمین چپٹی ہے،ورنہ اِس کے چار کونے نہیں ہو سکتے تھے۔“

یہ بالکل واضح ہے کہ یہ چاروں سمتوں (شمال،جنوب،مشرق،مغرب)کے لئے ایک محاورہ ہے۔جس لفظ کا ترجمہ ’کونا‘ کیا گیا ہے وہ
’کاناف‘ہے جس کا ترجمہ،”انتہا“،”چوتھائی“،”سرحد“،”حد“یا حتیٰ کہ ”پہلو“ بھی ہو سکتا ہے۔حتیٰ کہ قدیم تہذیبیں جو یہ یقین رکھتی تھیں کہ دنیا چپٹی ہے،اُنہوں نے بھی یہ سوچا کہ یہ چپٹی گول تھی،جو چاروں حدوں یا کونوں سے کوئی مطابقت نہیں رکھتی ہوگی۔قدیم تہذیبیں چار بنیادی سمتوں شمال،جنوب،مشرق،مغرب کو سمجھی تھیں،اِس لئے ہمیں فطری طور پر چار ’کاناف‘کا ترجمہ کونوں کرنا چاہئے۔ کتاب مقدس کے نقاد احمد دیدات نے یہ کہتے ہوئے اِس عام محاورے کواستعمال کیا:

”دنیا کے چاروں کونوں کے لئے۔“1

قرآن میں بھی ایسی آیات موجود ہیں جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ زمین چپٹی ہے:

”اورآسمان کی طرف کہ کیسا بلند کیا گیاہے اور پہاڑوں کی طرف کہ کس طرح کھڑے کئے گئے ہیں اورزمین کی طرف کہ کس طرح بچھائی گئی
(سورۃ الغاشیہ 18:88-20)

اِس آیت پر نامور مفسِّر الجلالین کی تفسیر میں لکھا ہے،

”جہاں تک کے اُس کے لفظ سُطِحتَ،’ہموار بچھا دیا‘ کا تعلق ہے اِس کی لغوی قرأت تجویز کرتی ہے کہ زمین چپٹی ہے جو شریعت کے زیادہ تر علمائے کرام کی رائے ہے نہ کہ گول جیسی کہ علم ِ نجوم والے کہتے ہیں …“2

اِسی طرح مصر کے علم ِ الہٰی کے ماہر امام سیوطی نے بھی یہ کہا کہ زمین چپٹی ہے۔

  1. In Who moved the Stone? by Shaikh Ahmed Deedat.
  2. Available online from http://altafsir.com (Royal Aal al-Bayt Institute for Islamic Thought, Jordan).

Leave a Reply

Your email address will not be published.