2 -سموئیل 9:24 -میں فوج کی کُل تعداد

2 -سموئیل 9:24 – (سوال نمبر1)”یہ اقتباس اسرائیلی فوج کی کُل تعداد 800,000اور یہوداہ کی 500,000بیان کرتاہے جبکہ
1 -تواریخ 6,5:21کا حوالہ بیان کرتا ہے کہ یہ تعداد1,100,000اور470,000تھی۔“

2۔سموئیل میں ”بہادر مردوں“(ایش خایل) کی تعداد جنہوں نے تلوار چلائی،800,000تھے لیکن اِس میں 288,000کی پیادہ فوج کا شمار نہیں تھا جو 1 -تواریخ 1:27-15 میں بیان کی گئی ہے یا اُن 12,000کا ذِکر نہیں ہے جو یروشلیم سے خاص طور پر منسلک تھے اور جن کا ذکر 2 -تواریخ 14:1میں کیا گیا ہے۔اگر ہم اِن تینوں اعداد کو جمع کریں تو ہمیں 1,100,000کی تعداد ملتی ہے جو بالکل وہی کُل تعدادہے جو 1 -تواریخ 21:5میں دی گئی ہے۔یہ تعداد زیادہ خاص اصطلاح (ایش خایل)استعمال نہیں کرتی۔

یہوداہ کی فوج کے ساتھ بھی یہی مسئلہ ہے۔1 -تواریخ 21باب میں 470,000کی تعداد میں پیادہ30,000آدمیوں کی وہ فوج شامل نہیں ہے جس کا ذکر 2 -سموئیل 1:6میں کیا گیا ہے۔1 -تواریخ 6:21 کا حوالہ واضح طور پر یہ بیان کرتا ہے کہ مردم شماری کے بارے میں حضرت داؤد کی دوسری سوچ کی وجہ سے یوآب نے گنتی مکمل نہیں کی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.