یہویاکین کا دور ِ حکومت

2 – سلاطین8:24 -”کیا یہویاکین بادشاہ نے یروشلیم پر تین ماہ (2 – سلاطین 8:24)یا تین ماہ دس دن حکومت کی (2 -تواریخ 9:36
)؟“

تواریخ میں دیئے گئے اعداد و شمار زیادہ واضح ہیں جب کہ سلاطین کے اعداد مہینوں کی تعداد پر ختم ہوتے ہیں،یہ تصور کرتے ہوئے کہ اضافی دس دنوں کا ذِکر کرنا کوئی خاص ضروری نہیں۔وقتوں کا اندراج ہمیشہ موزوں طریق پر ہوتا ہے ورنہ ہمیں ہمیشہ گھنٹوں،منٹوں اور سیکنڈوں کو بھی پڑھنے پرزور دینا ہو گا جو ذرا احمقانہ بات ہے۔تین ماہ اور دس دن کے لئے تین ماہ بیان کرنا مکمل طور پر اظہار کا عام طریقہ ہے۔

قرآن میں دو اقتباسات میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے ہمیں موزوں طریق پر اعداد وشمار کو قبول کرنا چاہئے۔سورۃ لقمان 14اور
سورۃ البقرہ 233ہمیں بتاتی ہے کہ دو سال کے عرصے میں دودھ چھڑایا جاتا ہے جب کہ سورۃ الاحقاف15:46ہمیں بتاتی ہے کہ رحم میں بچے کو رکھنے(زمانہء حمل) اور دودھ چھڑانے کا کُل عرصہ تیس ماہ بنتا ہے۔اگر ہم تیس میں سے 24ماہ نکال دیں تو ہمارے پاس زمانہء حمل کے صرف چھ ماہ بچ جاتے ہیں جو دراصل دس قمری مہینے بنتے ہیں۔

بالکل اِسی طرح ابن ِ عباس نے مکہ میں حضور اکرم کے سالوں کو موزوں طریق(round figure)میں کیا،جس میں وہ ایک جگہ 13سال1 اور دوسری جگہ 10سال بیان کرتے ہیں۔ 2 قرآن میں بھی ایسے ہی اعداد و شمارکے اختلافات پائے جاتے ہیں۔سورۃ آل عمران
حضرت مریم کوحضرت عیسیٰ کی پیدایش کا بتانے میں بہت سے فرشتوں کا ذِکر کرتی ہے،جب کہ سورۃ مریم21:19-17میں صرف ایک فرشتے کا ذِکر کیا گیا ہے۔سورۃ قمر19:54فرماتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ہی دن میں عاد کے لوگوں کو نیست کر دیا لیکن سورۃ حآقہ 6:69-7میں لکھا ہے کہ وہ آٹھ طویل دن تھے۔

  1. Sahih al-Bukhari, Vol 5, p.242.
  2. Sahih al-Bukhari, Vol 5, p.156.

Leave a Reply

Your email address will not be published.