توریت شریف او رانجیل شریف گُم ہو چکی ہیں؟

”حضرت محمد کے زمانے سے پہلے توریت شریف او رانجیل شریف گُم ہو چکی تھیں۔“

قرآن یہ واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ اصلی توریت شریف او رانجیل شریف حضرت محمد کے زمانے میں یہودیوں کے پاس تھیں،
لغوی معنی ہیں، ”اُن کے ہاتھوں میں تھیں“ “( بَيْنَ يَدَيْهِ :

نَزَّلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقاً لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَنزَلَ التَّوْرَاةَ وَالإِنجِيلَ
”اُس نے (اے محمد)تم پر سچی کتاب نازل کی جو پہلی (آسمانی)کتابوں کی تصدیق کرتی ہے (لغوی طور پر یہ ہے،”اُن کے ہاتھوں میں“ بَيْنَ يَدَيْهِ) ; اور اُسی نے توریت اور انجیل نازل کی۔(یعنی)لوگوں کی ہدایت کے لئے (توریت او رانجیل اُتاری)اور (پھر قرآن جو حق اور باطل کو)الگ لاگ کر دینے والا ہے نازل کیا۔“ (سورۃ آل عمران3:3)

(111:9)۔سورۃ الاعراف بیان کرتی ہے کہ توریت شریف او راناجیل شریف ”اُن کے ہاں ہیں“ (157:7)۔

”اہل ِانجیل کو چاہئے کہ جو احکام خدا نے اُس میں نازل فرمائے ہیں اُس کے مطابق حکم دیا کریں اور جو خدا کے نازل کئے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے گا تو ایسے لوگ نافرمان ہیں“(سورۃ المائدۃ 47:5)

کس طرح اہل ِ انجیل جن سے قرآن مخاطب ہوتا ہے انجیل کے مطابق حکم دیں سکتے اگر اُن کے پاس انجیل ہی نہیں تھی؟اِس لئے قرآن کے مطابق اُس وقت واضح طور پر اُن کے پاس انجیل شریف موجو دتھی۔

”اور جو کتاب میَں نے (اپنے رسول محمد پر)نازل کی ہے جو تمہاری کتاب (تورات)کو سچا کہتی ہے اُس پر ایمان لاؤ …“ (سورۃ البقرۃ41:2)

Leave a Reply

Your email address will not be published.