کیا حضرت عیسیٰ اللہ کا ایک انوکھاکلام ہیں؟

”قرآن کے مطابق حضرت عیسیٰ اللہ کا ایک انوکھاکلام نہیں ہیں،کیونکہ آل عمران 39:3ذِکر کرتی ہے کہ یوحنا بپتسمہ دینے والے
(حضرت یحیٰی)کو بھی اللہ کا کلام کہا گیا ہے۔“

ذاکر نائیک نے الزام لگایا ہے کہ ٓال عمران 39:3یوحنا بپتسمہ دینے والے (حضرت یحیٰی)کو بھی اللہ کاکلام کہتی ہے،اِس لئے یہ لقب
حضرت عیسیٰ کے انوکھے کردار کی طرف اشارہ نہیں کرتا۔اگر ہم آیت کو پڑھیں،تویہ واضح ہے کہ یہ آیت ذِکر کرتی ہے کہ حضرت یحیٰی حضرت
عیسیٰ کے اللہ کے کلام ہونے کی تصدیق کرتے ہیں:

”…خدا تمہیں یحییٰ کی بشارت دیتا ہے جو خدا کے کلمہ (یعنی عیسیٰ)کی تصدیق کریں گے اور سردار ہوں گے اور عورتوں سے رغبت نہ رکھنے
والے اور (خدا کے) پیغمبر(یعنی)نیکو کاروں میں ہوں گے۔“(سورۃ آل عمران 39:3)

ابتدائی مفسرین تقریبا ً پورے وثوق سے اِس کی تصدیق کرتے ہیں کہ اللہ کا”کلام“ حضرت عیسیٰ ہیں۔اِ س آیت پر ابن ِ عباس کی تفسیر کچھ یوں ہے:

(اور فرشتہ)یعنی جبرائیل فرشتہ (اُس سے مخاطب ہوا جب وہ مقدس مقام میں کھڑا دعا کر رہا تھا)مسجد میں:

(اللہ نے تمہیں حضرت یحیٰی کی خوشخبری دی ہے)ایک بیٹے کی جس کا نام یوحنا ہے (جو آتا ہے)جو اللہ کی طرف سے بخشے گئے کلام کی تصدیق کرتا ہے،حضرت مریم کا بیٹا حضرت عیسیٰ کیونکہ وہ اللہ کی طرف سے کلام ہو گا،جسے بِن باپ (خداکی طرف سے)کے پیدا کیا گیا
جو جب غلطی کرتا ہے تو حلیم ہو جاتا ہے(پرہیزگار)جس کے اندر عورت کی خواہش نہیں،(راست بازی کا ایک نبی)پیغمبروں میں۔(تنویر المقباس من تفسیر ابن ِ عباس)2

اور اِس آیت کی عمدہ وضاحت تفسیر الجلالین میں یوں ہے:

”اور فرشتہ نے جس کا نام جبرائیل ہے،اُس سے مخاطب ہوا جب وہ مقدس مقام میں کھڑا دعا کر رہا تھا،ہیکل میں عبادت کررہا تھا
(اَنَّ کا مطلب ہے اَنَّ، ایک مختلف قراٗت میں اِنَّ ہے،جو براہ ِ راست کلام کرنے کو بیان کرتا ہے)،خدا تمہیں
خوشخبری (یُبشَّرُِک َپڑھاجاتاہے) دیتا ہے،یوحنا حضرت یحیٰی)کی،جو اللہ کی طرف سے عطاکردہ کلام کی تصدیق کرے گا،جس کا نام حضرت عیسیٰ ہے، کہ وہ خدا کا روح ہے؛اُسے ]خدا کا[ کلام بھی کہا گیا ہے،کیونکہ وہ لفظ ”کُن“ ’ہوجا‘
سے خلق کیا گیا؛ایک خدا،کی پیروی کرتے ہوئے،جو پاک دامن ہے،عورتوں سے دُور رہنے والا،اور راست بازی کا ایک نبی ہو گا؛یہ کہا
جاتا ہے کہ اُس نے کبھی گناہ نہیں کیا اور نہ اُس کا کبھی ارادہ کیا۔3

دوسرے علما ئے کرام جیسے کہ الزمخشری اور طبری متفق ہیں اور بے شک انجیل شریف میں حضرت یحیٰی کی زندگی کے تاریخی واقعات یہ بتاتے ہیں کہ اُن کا بنیادی کردار لوگوں کو حضرت عیسیٰ کی طرف آنے کی ہدایت کرنا تھا:

”ایک آدمی یوحنا نام آ موجود ہوا جو خدا کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔یہ گواہی کے لئے آیا کہ نور کی گواہی دے تاکہ سب اُس کے وسیلے سے ایمان لائیں۔“(یوحنا 7:1؛یوحنا 14:1بھی دیکھئے)۔

حضرت یحیٰی جو حضرت عیسیٰ مسیح کے رشتہ دار تھے،جیسے کہ انجیل شریف کئی اقتباسات میں ذِکر کرتی ہے اُنہوں نے حضرت عیسیٰ مسیح کی راہ تیار کی جو کلام تھا اور لوگوں کو اُس کی طرف آنے کی ہدایت کی۔

  1. Zakir Naik, Da’wah Training Programme, retrieved from: www.irf.net/irf/dtp/dawah_tech/t18/t18a/pg1.htm on July 19, 2009.
  2. Tanwîr al-Miqbâs min Tafsîr Ibn ‘Abbâs, trans. Mokrane Guezzou, Royal Aal al-Bayt Institute for Islamic Thought, Amman, Jordan (http://www.altafsir.com)
  3. Tafsir al-Jalalayn , transl. Feras Hamza, Royal Aal al-Bayt Institute for Islamic Thought, Amman, Jordan (: http://www.altafsir.com).

Leave a Reply

Your email address will not be published.