چار مختلف اناجیل؟

”اُن کی چار مختلف اناجیل کیوں ہیں؟“

خُدا تعالیٰ اندھا ایمان،غیر تنقیدی،بِنا سوچے سمجھے قبولیت نہیں چاہتا،بلکہ وہ اپنی سچائی کچھ اِس طریقے سے پیش کرتا ہے کہ جو تشکیک پرستوں (skeptics) کو بھی کافی ثبوت پیش کرتی ہے۔چار مختلف چشم دید گواہوں کے بیان حضرت عیسیٰ مسیح کے معجزات، پیغام،موت اورمُردوں میں سے جی اُٹھنے پر مبنی ہیں جن سے انکار کرنا بہت مشکل ہے۔کوئی بھی شخص کسی ایک چشم دید گواہ کے واقعات کی گواہی پر شک کر سکتا ہے اور کوئی سوال اُٹھا سکتا ہے،بلکہ کئی بیانات پر سوال اُٹھانا بہت مشکل ہے۔

توریت شریف نے یہودیوں کے لئے ایک اہم اُصول چھوڑا:”کسی شخص کے خلاف دو گواہوں یا تین گواہوں کے کہنے سے بات پکی سمجھی
جائے“(اِستثنا15:19)۔توریت شریف کے اُصولوں کے مطابق یہودیوں کو قائل کرنے میں،کئی چشم دید گواہوں کے بیانات کی ضرورت تھی۔قرآن اور کتاب مقدس دونوں سے ہم جانتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ مسیح خود ”کلمتہ اللہ“ یعنی خدا کا کلام تھے،اور انجیل شریف کے صحائف محض حضرت عیسیٰ کے متاثر کُن پیغامات او رکاموں کی گواہی ہیں۔

چار اناجیل ہونے کی آخری دلیل یہ ہے کہ ایک یکساں کئے جانے والے بیان کے بجائے چار مختلف تناظر زیادہ باروشن /بصارت والے ہیں،کیونکہ ہر ایک چشم دید گواہ کے واقعات حضرت یسوع مسیح کی خدمت کے ایک نئے پہلو پر زور دیتے ہیں یا اُسے سامنے لاتے ہیں۔

180عیسو ی میں اِرینیس نے چاروں اناجیل (مقدس متی،مقدس مرقس،مقدس لوقا،مقدس یوحنا)کے بارے میں لکھا:

”یہ ممکن نہیں ہے کہ اناجیل یا تو زیادہ ہو سکتی یا کم۔چونکہ جس دنیا میں ہم رہتے ہیں اُس کے چار حصے ہیں،اور چار بڑی آندھیاں ہیں،
جب کہ کلیسیا پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے اورکلیسیا کے ”ستون اور زمین“ انجیل شریف او رزندگی کی روح ہے؛یہ مناسب ہے کہ اُس کے چار ستون ہوں تاکہ ہر طرف سے بدی باہر نکل سکے اور آدمیوں کو تازگی ملے …کیو نکہ زندہ جاندار چار صورتیں رکھتے ہیں، اور انجیل چار پہلوی ہے،کیونکہ یہی راستہ ہے جسے خُداوند نے بھی اختیار کیا۔1

یہ ا ِرینیس مقدس یوحنا کا ”روحانی پوتا“ تھاکیونکہ پولی کارپ نے اُس کی تربیت کی تھی جسے خود مقدس یوحنا نے تربیت دی تھی،جوحضرت یسوع مسیح کا پیارا شاگرد اور یوحنا کی انجیل کا مصنف تھا۔

  1. Irenaeus, Against Heresies 3.11

Leave a Reply

Your email address will not be published.