ابتدائی مبصرّین کی رائے

ذاکر نائیک جیسے نقادوں کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ وہ اُن ابتدائی مبصّرین سے تضاد رکھتا ہے جو یہودیوں او رمسیحیوں کے صحائف کو بڑی قدر سے دیکھتے تھے۔اِس بات کا ذکر سعید عبداللہ نے اپنے اخبار یہودیوں او رمسیحیوں کے صحائف پر تحریف کا الزا م میں کیا ہے۔وہ یہ نتیجہ اَخذ کرتا ہے:

چونکہ یہودیوں اور مسیحیوں کے مُستند صحائف آج بھی بالکل اُسی طرح موجود ہیں جس طرح حضور اکرم کے زمانے میں موجود تھے تو اِس بات پر بحث کرنا مشکل ہے کہ انجیل شریف او رتوریت شریف کے لئے قرآن میں موجود حوالہ جات صرف اُس خالص انجیل شریف یا توریت انجیل کی طرف تھا جو بالترتیب حضرت موسیٰ،حضرت عیسیٰ مسیح کے زمانے میں موجود تھی۔اگر متن کسی حد تک اُسی حالت میں موجود ہے جس طرح ساتویں صدی عیسوی میں تھا،تو اُس وقت جو تعظیم قرآن نے اُنہیں دی وہ آج بھی ویسے ہی قائم رہنی چاہئے۔قرآن کے بہت سے مفسر طبری سے لے کر رازی تک اور ابن تیمیہ،حتیٰ کہ قطب تک یہی نظریہ بیان کرتے نظر آتے ہیں۔
مجموعی طور پر جدید دَور میں بہت سے مسلمانوں کا یہودیت او رمسیحیت کے صحائف کے لئے نفرت انگیز رویہ رکھنے کی نہ تو قرآن اور نہ ہی
تفسیر کے بڑے علماء کی تحریروں میں حمایت دکھائی دیتی ہے۔2

عبداللہ ابن ِ عباس

ابن ِ عباس نے کہا کہ،

”لفظ ”تحریف“(بگاڑ)کسی چیز کی اپنی اصلی حالت سے تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے؛اور پھر یہ کہ کوئی بھی شخص ایسا نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دئیے گئے کلام میں سے ایک بھی لفظ کو بگاڑ سکے،اِس لئے یہودی او رمسیحی صرف اللہ کے کلام کے الفاظ کے مطلب کو غلط پیش کر سکتے تھے۔“3

ایک دوسری کتاب میں ابن ِ عباس کا بیان دہرایا گیا ہے:

”وہ الفاظ کو بگاڑتے ہیں“ اِس کا مطلب ہے،”وہ اِس کے مطلب کو ختم کر دیتے یا تبدیل کرتے ہیں۔“تاہم کوئی بھی شخص اِس قابل نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں ایک بھی لفظ کو تبدیل کرے۔اِس کا مطلب ہے کہ وہ لفظ کی تشریح غلط کرتے ہیں۔4

ابن ِ کثیر نے بھی ابن ِ عباس کے اِس بیان کو لکھا ہے:

”جہاں تک اللہ تعالیٰ کی کُتب کا تعلق ہے،وہ اب تک محفوظ ہیں اور تبدیل نہیں ہو سکتیں۔“5

یہ تفسیر عبداللہ ابن ِ عباس کی ہے جو حضور اکرم کے چچا زاد بھائی اور اُن کے صحابہ کرام میں سے ایک تھے۔چونکہ وہ ایک صحابی ہیں اِس لئے اُن کی آراء دیگراُن تمام اشخاص کی آراء اور تبصروں سے بالا تر ہے جو صحابی نہیں ہیں۔ ذاکر نائیک کیا سوچتا ہے کہ وہ کون ہے جو بڑے اعتمادسے ابن ِ عباس جیسی شخصیت سے تضاد رکھتا ہے؟

طبری (وفات 855عیسوی)

معروف مفسر علی طبری بڑا واضح یقین رکھتے تھے کہ یہودی اور مسیحی اب تک وہی اصلی صحائف رکھتے تھے جو اُنہیں اللہ تعالیٰ نے عطا کئے تھے۔

”..سب سے پہلا[کلام]جو معرض ِ وجود میں آیاوہ توریت شریف ہے،جو ہل ِ کتاب کے ہاتھوں میں ہے …انجیل ِ شریف جو مسیحیوں کے ہاتھوں میں ہے ..“6

طبری کا کہنا محض یہ تھا کہ وہ اِ ن صحائف کا درست مطلب نہیں سمجھے۔گو کہ بغداد میں اُنہوں نے یہودیوں او رمسیحیوں کے خلاف لکھا،لیکن کبھی بھی اُنہوں نے اُن پر اپنے صحائف بگاڑنے کا الزام نہیں لگایا ۔.

امام فخر الدین رازی (وفات 1210عیسوی)

رازی اِس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہودیوں کی تحریف لسانی چالیں تھیں جو اُنہوں نے حضور اکرم کے الفاظ کو تبدیل کرنے کے لئے استعمال کیں۔7

تحریف پر سورۃ البقرۃ کی آیت 75 پر رازی کی تشریح میں وہ بحث کرتا ہے کہ الفاظ کی ترمیم (التحریف اللفظی)”ناممکن ہے اگر قرآن کے ظہور کی طرح اللہ تعالیٰ کا کلام لوگوں کی ایک بڑی تعداد پر ظاہر ہو چکا ہے۔“یہی وہ سب کچھ ہے جو ہم موجودہ انجیل شریف کی کے بارے میں جانتے ہیں کہ یہ ابتدا سے ایسی ہی تھی جیسے وہ تمام لوگوں پر ظاہر کی گئی تھی۔وہ یہ بھی کہتا ہے،

”یہ بتانے کے لئے کوئی بھی ایسا بیان نہیں ہے کہ وہ کتاب سے باہر کوئی خاص لفظ لیتے ہیں۔“9

ابن ِ تیمیہ

ابن ِ تیمیہ کہتے ہیں:

”پھر اِن لوگوں (مسلمانوں)میں ایسے بھی ہیں جو یہ الزام لگاتے ہیں کہ جو کچھ توریت شریف او رانجیل شریف میں ہے وہ جھوٹ
(باطل)ہے نہ کہ اللہ کا کلام۔اُن میں سے کچھ نے کہا،جو کچھ جھوٹ ہے وہ کچھ زیادہ نہیں ہے۔یہ بھی [کہا گیا]؛کسی نے بھی صحائف کے متن میں کچھ بھی نہیں تبدیل کیا۔اِس کے بجائے اُنہوں [یہودیوں او رمسیحیوں ] نے تشریحات کے ذریعے اُن کے مطالب بدل دئیے ہیں۔“بہت سے مسلمان یہ دونوں نظریات رکھتے ہیں۔ درست[ نظریہ] تیسرا نظریہ ہے اور وہ یہ ہے کہ دنیا میں درست(صحیح)جلدیں موجود ہیں اور وہ حضوراکرم کے زمانے تک موجود تھیں اور بہت سی جلدیں بگڑی ہوئی ہیں۔جو بھی یہ کہتا ہے کہ[ اِن جلدوں ] میں کچھ بھی نہیں بگڑا ہے وہ اُس بات کا انکار کرتا ہے جس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ جو کوئی یہ کہتا ہے کہ یہ تمام جلدیں حضورکے بعد بگڑی ہیں،وہ
وہ بات کہتا ہے جو صریحاً جھوٹ ہے۔
قرآن شریف اُنہیں حکم دیتا ہے کہ اُس چیز کا حکم دیں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے توریت شریف یا انجیل شریف میں اُن پر ظاہر کی ہے۔اللہ تعالیٰ بتاتے ہیں کہ اُن دونوں میں حکمت ہے۔ قرآن شریف ایسا کچھ نہیں فرماتی کہ اُنہوں نے تمام جلدیں خراب کر دی ہیں۔ .10

یونیورسٹی آف ملبورن کے مسلمان عالم سعید عبداللہ ابن ِ تیمیہ کی حیثیت پردرج ذیل الفاظ میں تبصرہ کرتے ہیں:

یونیورسٹی آف ملبورن کے مسلمان عالم سعید عبداللہ ابن ِ تیمیہ کی حیثیت پردرج ذیل الفاظ میں تبصرہ کرتے ہیں:11

دیگر بہت سے معروف علمائے کرام جیسے کہ الغزالی اور شاہ ولی اللہ نے بھی اِن خیالات سے اتفاق کیا ہے۔یہ ابن خازم(وفات 1064عیسوی
)تک نہیں تھا کہ مسلمانوں نے یہودیوں او رمسیحیوں پر الزام لگایا کہ اُنہوں نے ناقابلِ تصحیح حد تک اپنی کتاب مقدس کو بگاڑ لیا ہے جس میں متن کی ترامیم شامل ہیں۔ ابن ِ عباس جیسے ابتدائی صاحب ِ اختیار لوگوں سے تضاد حضور اکرم سے صدیوں بعد پیداہوا۔

مصلوبیت پر ابتدائی اِسلامی مبصّرین کی آراء جاننے کے لئے یہاں کلک کیجیے۔

  1. Saeed Abdullah, The Charge of Distortion of the Jewish and Christian Scriptures, The Muslim World, Vol. 92, Fall 2002
  2. Saeed Abdullah, The Charge of Distortion of the Jewish and Christian Scriptures, The Muslim World, Vol. 92, Fall 2002, p.434-435.
  3. Recorded by Imam Bukhari (p.1127, line 7), quoted in A Dictionary of Islam by T.P. Hughes, (Kazi Publications, 1994) p.62.
  4. Al-Bukhari, Kitaab Al-Tawheed, Baab Qawlu Allah Ta’ala, “Bal Huwa Qur’aanun Majeed, fi lawhin Mahfooth – Or, the Book of the Oneness of God, the Chapter of Surat Al-Borooj (no. 85).
  5. Tafsir Ibn Kathir – Abridged, Volume 2, Parts 3, 4 & 5, Surat Al-Baqarah, Verse 253, to Surat An-Nisa, verse 147 [Darussalam Publishers & Distributors, Riyadh, Houston, New York, Lahore; First Edition: March 2000], p. 196
  6. Tabari, The Book of Religion and Empire , p.51.
  7. Razi , al-Tafsir; V, part 10, 118.
  8. Razi, al-Tafsir, 11, part 3, 134.
  9. Ibid.
  10. Ibn Taymiyya, al-Tafsir al-Kabir, I, 209.
  11. p.434.

Leave a Reply

Your email address will not be published.