صُور کی تباہی

حزقی ایل 26 – ”اِس میں لکھا ہے کہ نبوکد نضر صور کو تباہ کرے گا،لیکن سکند ر ِ اعظم وہ شخص ہے جس نے صور کو تباہ کیا۔“

نبوت میں یہ کہیں نہیں لکھا ہوا کہ نبوکدنضر مکمل طو ر پر یہ کرے گا بلکہ یہاں اِس کے برعکس لکھا ہوا ہے۔نبوت کا آغاز اِس پیش گوئی سے ہوتا ہے کہ خدا صور کو تباہ کرنے کے لئے”بہت سی قوموں کو اُن پر چڑھا لائے گا“جو ہمیں یہ بتاتی ہے کہ بعد ازاں ایک سے زیادہ قوموں کے ذریعے نبوت کو پورا کرے گا۔اگر اکیلے نبوکد نضر نے ہی صور کو تباہ کیا ہوتا تو پھر یہ نبوت جھوٹی ثابت ہوئی ہوتی۔

صور کے قدیم شہر کے دراصل دو حصے تھے،ایک حصہ مرکزی سرزمین پر قیام پذیر تھا اور دوسرا سمندر سے تقریبا ً ایک میل کے فاصلے پر ایک جزیرے میں ایک قلعہ تھا۔نبوکدنضر نے صور پر حملہ کیا اور مرکزی سرزمین کو تباہ کر دیا جو واضح طور پر آیات 7-11کو پورا کرتی ہے۔حزقی ایل بہت اچھی طرح جانتا تھا کہ نبوکدنضر پورے شہر کو برباد نہیں کرے گا جسے وہ خود 18:29میں درج کرتا ہے۔حزقی ایل کو بھروسا تھا کہ نبوت کا باقی حصہ اُس کی موت کے بعد دوسری ’دیگر قوموں‘کے ذریعے پورا ہو گا۔

جب ہم سکندر اعظم کے صور پر حملے کے تاریخی واقعے کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں پتا چلتا ہے کہ حزقی ایل کی نبوت معجزانہ طورپر پوری ہوئی۔

قومیں یہ سوچتی تھیں کہ صور ناقابل ِ تسخیر ہے اور کوئی بھی یہ یقین نہیں کرتا ہو گا کہ یہ مکمل طورپر تباہ ہو سکتا تھا۔حزقی ایل غیر معمولی نبوت کرتا ہے کہ شہرکا پتھر پر پتھر باقی نہ رہے گا لیکن پتھر اور مٹی بھی صاف کر دی جائے گی۔ہم پڑھتے ہیں کہ اسکندر اعظم نے صور سے باہر نکلنے کے راستے پر ایک زبردست محاصر ہ تعمیر کیا جس کے لئے اُس نے صور کے ہرہٹائے جانے کے قابل پتھر روڑے کواِس کی تعمیر میں استعمال کیا۔
کیا زبردست نبوت ہے! تب اسکندر نے جزیرے کے شہر کو مکمل طورپر تباہ کر دیا،اور اِس طرح وہ بطور ”سمندروں کی ملکہ“اپنا سابقہ جاہ وجلال کھو بیٹھا۔یہ جزوی طور پر کئی مرتبہ دوبارہ تعمیر ہوا لیکن 1290عیسوی کے پانچ سو سال کے بعد یہ مقام ختم ہو گیا۔صور کے عظیم شہر نے دنیا کے سمندری دارالحکومت نے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنی حیثیت کھو دی اور اپنے سابقہ جاہ وجلال میں دوبارہ کبھی تعمیر نہ ہو سکا۔

قرآن میں قدرے اِس سے زیادہ پیچیدہ نبوت موجود ہے:”اہل ِ روم مغلوب ہو گئے۔نزدیک کے ملک میں۔اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آ جائیں گے،چند ہی سال میں“(سورۃ الر وم 2:30-4)۔قرآن مجید کے نامور عالم یوسف علی کے مطابق،
لفظ ”چند“کے لئے عربی لفظ (بِضع)تین سے نو سال کے عرصہ کی طرف اشارہ کرتا ہے؛یا اسلامک فاؤنڈیشن قرآن کے ذیلی
نوٹ نمبر 1330کے مطابق یہ تین سے دس سال کی طرف اشارہ کرتا ہے؛محمدؐ نے خود فرمایا’چھوٹا عدد‘ تین سے نو سالوں کے درمیانی عرصہ کی پیشین گوئی کرتا ہے (البیضاوی)۔فارسیوں نے 615/614عیسوی میں باز نطینیو ں کو شکست دی اور یروشلیم پر قبضہ کر لیا۔
پھر بھی نامور مسلمان مؤرّخ الطبری اور عالم البیضاوی نے اِس شکست کو 13-14سال بعد 628عیسوی میں رکھتے ہیں۔ایسا دکھائی دیتا ہے کہ یہ حوالہ پیدایش12:4 کی طرح ہی مسئلے والا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.