بسم اللہ کا مطلب

یہ خوبصورت فقرہ خدا کی بنیادی صفت- اُس کے عظیم رحم یا فضل کا اعلان کرتا ہے۔خدا کا رحم انسانیت کے لئے خود اُس کی راست بازی کے ذریعے نجات مہیا کرنے سے ظاہر ہوتا ہے۔

مندرجہ بالا جملہ عام طور پر بسم اللہ کے نام سے جانا جاتا ہے کیونکہ عربی میں یہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھا جاتا ہے۔ماسوائے نویں سورہ کے قرآن مجید کی ہر سورہ کی تمہید اِس سے شروع ہوتی ہے۔تاہم،اللہ کے نام کے بطور پُر فضل اور رحیم ہونے کا اِعلان قرآن مجید کے نزو ل کے وقت سے نہیں تھا۔دراصل،بسم اللہ عربی مسیحی اور مسلمان دونوں استعمال کرتے ہیں۔پچھلے صحائف جیسے کہ توریت شریف،زبور شریف، او رانجیل شریف اللہ تعالیٰ کے بارے میں بطور پُر فضل اور رحیم یا ترس کھانے والے کے بات کرتے ہیں۔

ہر میں سے ایک مثال دی گئی ہے:

توریت شریف –“خداوند، خداوند خدایِ رحیم اور مہربان قہر کرنے میں دھیما او رشفقت او روفا میں غنی…”(خروج 6:34) زبور شریف –“لیکن تُو یارب! رحیم و کریمخدا ہے۔قہر کرنے میں دھیما اور شفقت و راستی میں غنی۔“(زبور شریف 15:86) انجیل شریف –“پس آؤ ہم فضل کے تخت کے پاس دلیری سے چلیں تاکہ ہم پر رحم ہو او رو ہ فضل حاصل کریں جو ضرورت کے وقت ہماری مدد کرے۔”(عبرانیوں 16:4)

جیسے کہ مندرجہ بالا آیات کہتی ہیں،تم پر فضل ہو اور اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے جو بہت فضل والا او ررحم کرنے والا ہے۔

“کیونکہ سب اُمتیں اپنے اپنے معبود کے نام سے چلیں گی
پر ہم ابد ُالآباد تک خداوند اپنے خدا کے نام سے چلیں گے۔”(میکاہ 5:4)

Leave a Reply

Your email address will not be published.