باپ دادا کے گناہوں کے لئے مجرم ٹھہرانا

خروج 5:20-6 – ”باپ دادا کے گناہوں کے بدلے مجرم ٹھہرانا لوگوں کے ساتھ بے انصافی ہے۔“

یہ آیت اِس بات پر زور دینے کے لئے مبالغہ آمیز زبان استعمال کرتی ہے کہ خدا کی نافرمانی کے بدلے سزا ملے گی اور وفاداری کے بدلے برکت ملے گی۔یہ کوئی قانونی اعلان نہیں ہے۔درحقیقت ہم توریت کے قانون میں اِس کے بالکل برعکس پاتے ہیں:

”بیٹوں کے بدلے باپ مارے نہ جائیں نہ باپ کے بدلے بیٹے مارے جائیں۔ہر ایک اپنے ہی گناہ کے سبب سے مارا جائے۔“
(استثنا 16:24)۔

چین جیسی بہت سی قدیم تہذیبوں میں بچوں کو اپنے باپوں یا دیگر افرادکے گناہوں کے بدلے مارا جاتا تھا،اِس لئے اُس زمانے میں یہ ایک
بنیادی تعلیم تھی۔

پھر بھی یہ نا قابل ِ انکار حد تک سچ ہے کہ ایک نسل کے گناہ کا پھل اکثر دوسری نسل کو بطور ”سزا“ کی صورت میں برداشت کرنا پڑتا ہے۔ہم جانتے ہیں کہ اکثر کسی ایک شخص کے گناہوں کا اثر اُس کے بچوں کی زندگیوں پر ہوتا ہے،چاہے لوگ بے انصافی کی وجہ سے بدلہ لینا چاہیں یا گناہ آلودہ طرزِ زندگی کا انتخاب کرنے میں اُس کے نتائج کا سامنا کریں۔اگر باپ میں شراب نوشی یا تشدد کرنے کی عادات پائی جاتی ہیں،تو بچے بھی اِن تباہ کُن عادات کی طرف مائل ہوں گے۔یہ بات بڑی اچھی طرح حضرت داؤد بادشاہ کی زندگی میں نظر آتی ہے۔اُس کے گناہ اُس کے بچوں کی زندگیوں میں کام کرتے رہے۔ اُس کے ایک معصوم شخص (اوریّاہ)کو تلوار سے قتل کرنے کے گناہ کی وجہ سے خُدا تعالیٰ حضرت داؤد سے فرماتے ہیں کہ ’تیرے گھرسے تلوار کبھی الگ نہیں ہو گی‘ (قب 2 – سموئیل 10:12)۔جب ہم اگلے ابواب (2 -سموئیل 13ذیلی آیت) پڑھتے ہیں توہم اِسے حضرت داؤد کے بڑے بیٹے کی زندگی میں اور اُس کے بعد کی آنے والی نسلوں میں پورا ہوتے دیکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.