حضرت قابیل کی نبوت

پیدایش 14:4-16 – ”آیت 12غلط نبوت کرتی ہے کہ حضرت قابیل زمین پر خانہ خراب اور آوارہ ہو گاکیونکہ آیت 16کہتی ہے کہ وہ اپنے علاقے میں جا بسا۔“

نبوت دو باتوں کی پیشین گوئی کرتی ہے: کہ حضرت قابیل اپنے وطن سے جلا وطن ہو گا اور یہ کہ وہ مسلسل اپنے دشمنوں کے آگے بھاگتا
پھرے گا۔عبرانی اصطلاحات(نع اور ناد)جن کا ترجمہ ”خانہ خراب“اور ”آوارہ“کیا گیا ہے، یہ دونوں الفاظ تعاقب کرنے والے سے بھاگنے کے معانی رکھتے ہیں۔ پھر بھی نقاد عام طور پر اِن دونوں کے درمیان موجود آیات کو چھوڑ دیتے ہیں جہاں خُدا تعالیٰ حضرت قابیل کے مایوسی کے ساتھ جواب دینے پر اُس کی سزا کا دوسرا حصہ آسان بنادیتے ہیں۔ خُدا تعالیٰ کے رحم کے وسیلے سے حضرت قابیل مزید اب آوارہ نہیں ہونا ہو گاکیونکہ خُدا تعالیٰ کو حضرت قابیل کو حملے سے بچانا تھا۔ ترمیم شدہ نبوت مکمل طور پر پوری ہوئی کیونکہ حضرت قابیل اپنی سرزمین سے دُور دراز علاقے میں جلاوطن ہو گیا۔ایک اَور تشریح یہ ہے کہ چونکہ خُدا تعالیٰ کی لعنت میں حضرت قابیل کے آوارہ ہونے کی کوئی خاص مدت شامل نہیں تھی،شاید وہ کچھ عرصہ خانہ خراب اور آوارہ رہا اور بعد میں کسی علاقے میں جا بسا۔

قرآن ایک اَور زیادہ پیچیدہ نبوت پیش کرتا ہے:

”اہل ِ روم مغلوب ہو گئے،نزدیک کے ملک میں۔اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آ جائیں گے۔چند ہی سال میں۔“
(سورۃ الر وم 2:30-4)

معروف قرآنی عالم یوسف علی کے مطابق،”کچھ“کے لئے عربی لفظ(بِضع)تین سے نو سال کے عرصے کو ظاہرکرتا ہے؛یا اسلامی فاؤنڈیشن کے قرآن کے ذیلی نوٹ نمبر 1330میں یہ تین سے دس سال کی طرف اشارہ کرتا ہے؛حضرت محمد نے خود ذکر کیا کہ پیشن گوئی کی گئی ’چھوٹی تعداد‘تین سے نو سال کے درمیان ہے ( البیضاوی)۔فارسیوں نے بار نطینیوں کو شکست دی اور 615/614عیسو ی کے قریب یروشلیم کو فتح کر لیا۔تاہم معروف مسلم مؤرخ الطبری اور عالم البیصاوی نے یہ شکست 628عیسوی سے 13-14 سال پہلے رکھی ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ اقتباس کم از کم پیدایش 12:4کی طرح مسئلے والا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.