انسان کی بنائی ہوئی کہانیاں؟

”قرآن کے علاوہ،کتاب ِ مقدس اور باقی تمام صحائف پڑھنے پر انسان کی بنائی ہوئی کہانیاں لگتے ہیں -’ابتدا میں‘وغیرہ۔“

دراصل زیادہ تر مذاہب کے صحا ئف پڑھنے میں کہانیاں معلوم نہیں ہوتے بلکہ وہ انسانی کہانیوں کی نسبت باطنی اظہارِ خیال سے زیادہ ملتے جلتے ہیں۔

ہم جانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ایک عظیم پیغام رساں ہے۔اِس لئے جب خدا تعالیٰ انسانوں تک اپنی مرضی کو پہنچانے کے لئے انسانی زبان استعمال کرتا ہے تو ہمیں محض یہ توقع رکھنی چاہئے کہ یہ کسی مخفی یا باطنی،بے ربط سے خیال سے مشابہت نہیں رکھتی بلکہ یہ ایک تعارف،سامنے آنے والے مکاشفہ اور نتیجے کے ساتھ اُس کے ایک مکمل اورمنظم منصوبے کی پیش کش ہے۔اور یہی ایک طریقہ ہے جس سے عقلی خبر رسانی ہے۔ یہی وہ کچھ ہے جو ہمیں کتاب ِ مقدس میں ملتا ہے۔ اگر ایک انسانی نصاب کی کتاب یا مضمون میں من مانی کرتے ہوئے،بے ربط طریقے سے ہر 2 – 5 جملوں کے بعد موضوع تبدیل ہو جائے،جیسے کہ چند مذہبی متون میں ہوتا ہے، تو تعلیمی روایت رکھنے والے لوگ اِسے ایک بُری خبر رسانی کے طور پر ردّ کر دیں گے۔

خدا تعالیٰ عظیم ہے اور انسانی زبان سے بالاتر ہے لیکن جب انسانوں پر اپنی کامل مرضی ظاہر کرتا ہے تو وہ ایک اعلیٰ ترین واضح پیغام رساں ہوتا ہے۔اگر اُس کا کلام اُلجھانے والا،بے ربط اور ناکافی،کئی مرتبہ ایک مضمون سے دوسرے مضمون پر چلے جانے والا ہوتا تو اِس ناکافی اور مبہم کلام (نعوذ بااللہ)کی وضاحت کرنے کے لئے عام انسانوں نے دوسری واضح کتابیں مرتب کر لی ہوتیں۔ لیکن پوری تاریخ میں خدا تعالیٰ نے اپنے تمام کاموں کو واضح کر نے کے لئے اپنی حکمت میں ہر قانون،تعلیم اور الہٰی نظریے کے ساتھ جسے ہمیں جاننے کی ضرورت ہے، اپنی آسمانی کتب مکمل طور پر نازل کیں۔

لیکن خداتعالیٰ واضح پیغام رساں ہے،اور اعلیٰ ترین پیغام رساں ہے،جو سہل،ذی عقل،واضح پیغام رسانی کا ماہر ہے۔یہ واقعی ایک معجزہ ہے کہ آسمانی صحائف،جو 40مختلف انبیا ئے کرام کے ذریعے 2000سال کے عرصہ میں لکھئے گئے،اُن میں اتنا واضح اتفاق ہو سکتا ہے،جس میں ایک تعارف(پیدایش1-11)،سامنے آنے والا منصوبہ،اور نتیجہ شامل ہے۔یہ ہر اُس بات کی مکمل پیش کش ہے جسے انسانوں کو خدا کی مرضی کے بارے میں جاننے کی ضرورت ہے اور اِس میں کچھ باقی نہیں چھوڑاگیا۔اِس میں کسی اضافی حدیث،نصابی کتاب یا کسی اَور انسانی اختراع کی ضرورت نہیں۔ایک دور دراز کے جنگل کے قبیلے کا شخص جس کے پاس اُس کی اپنی مادری زبان میں کتاب مقدس موجود ہو،اُس کے پاس خدا تعالیٰ کی سچائی کو سمجھنے کے لئے ہر وہ چیز ہو گی جس کی اُسے ضرورت ہے۔

مورس بیکاؤلے نے الزام لگایا ہے کہ خوشخبری رولینڈ کے گیت کی مانند ہے،”جو غیر حقیقی روشنی میں ایک حقیقی واقعہ کو مربوط کرتا ہے۔“دلیل یہ ہے کہ اناجیل کے لکھنے کا مطمع نظر تخلیقی تھا کہ تاریخی۔آکسفورڈ کا جانا پہچاناماہر سی۔ایس۔ لوئیس جو بیکاؤلے کے برعکس طویل عرصے تک رومانی ادب کا عالم تھا،وہ درج ذیل الفاظ میں گواہی دیتاہے:

مجھے (نیا عہد نامہ کے)نقادوں پر بھروسا نہیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اُن میں ادبی پرکھ کی کمی ہے اور جو متن وہ پڑھ رہے ہیں اُس کو سمجھنے سے قاصر ہیں …اگر وہ مجھے بتائے کہ انجیل شریف میں کچھ کہانی ہے یا رومان ہے،تو میَں اُس شخص سے پوچھتا ہوں کہ اُس نے کتنی کہانیاں اور کتنی رومانی داستانیں پڑھی ہیں …میَں اپنی ساری زندگی نظمیں،رومانی داستانیں،رویائی ادب،کہانیاں،تصوراتی کہانیاں پڑھتا رہا ہوں۔میں جانتا ہوں کہ وہ کس طرح کی ہوتی ہیں۔میں جانتا ہوں کہ اُن میں سے کوئی بھی اِس (انجیل شریف)کی مانند نہیں ہیں۔2

بہت سے نامور مؤرّخین کے مطابق،عبرانی صحائف انسانی تاریخ میں پہلی اصلی تاریخی تحریریں ہیں،کیونکہ وہ اپنے آباواجداد کے نام کو اُونچا نہیں کرتے بلکہ اُن کی کمزوریاں بھی بتاتے ہیں۔رسولوں نے اِس روایت کی پیروی کی:

”ہم نے دغا بازی کی گھڑی ہوئی کہانیوں کی پیروی نہیں کی تھی بلکہ خود اُس کی عظمت کو دیکھا تھا۔“(2 -پطرس 16:1)

”اِس لئے اے معزز تھیفلُس میں نے مناسب جانا کہ سب باتوں کا سلسلہ شروع سے ٹھیک ٹھیک دریافت کر کے اُن کو تیرے لئے ترتیب سے لکھوں۔تاکہ جن باتوں کی تُو نے تعلیم پائی ہے اُن کی پختگی تجھے معلوم ہو جائے۔“(لوقا3:1-4)

  1. Maurice Bucaille, The Bible, the Qur’ān and Science, (American Trust Publications: Indianapolis, 1979), p viii.
  2. C. S. Lewis, Christian Reflections (Grand Rapids: Eerdmans, 1967), 154-155.

Leave a Reply

Your email address will not be published.