آدمیوں کا کلام یا اللہ تعالیٰ کا کلام؟

”قرآن تمام کا تمام اللہ تعالیٰ کا کلام ہے لیکن بائبل اللہ تعالیٰ کا کلام،نبیوں کے اپنے الفاظ،اور مؤرّخین یا بیان کرنے والے کے الفاظ کا مجموعہ ہے۔“

یہ اعتراض کُلّی طور پر اِس بات کی غلط سمجھ پر مبنی ہے کہ دراصل ’اللہ تعالیٰ کا کلام‘(کلمتہ اللہ)ہے کیا۔نقاد سوچتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا کلام اِس کے سوا اَور کچھ نہیں کہ وہ صیغہ واحد حاضر کے بیانات ہیں جو اللہ تعالیٰ سے انسان کو دئیے گئے ہیں،یعنی یہ خُدا تعالیٰ کے زبانی کلمات کا ریکارڈ ہے۔یہ غلط خیال دراصل پھر قرآن کو بھی اللہ تعالیٰ کا کلام ہونے کے لئے ردّ کر دے گاکیونکہ اِس معیار کے مطابق قرآن بھی ویسے ہی اللہ تعالیٰ کے کلام،آدمیوں کے الفاظ،اور حتیٰ کہ حضرت جبرائیل ؑ کے الفاظ پر مشتمل ہے۔قرآن زیادہ تر خُداکے صیغہ واحد حاضرمیں انسانوں سے خطاب پر مشتمل ہے۔تضاد کے طورپر،سورۃ فاتحہ انسان کی خدا سے دعا ہے۔اِسی طرح،سورۃ مریم میں حضرت جبرائیل ؑ کا بیان ہے:”ہم تمہارے پروردگار کے حکم کے سوا اُتر نہیں سکتے“(63:19)۔مسلمان مُبصّرین کے مطابق،یہ مکاشفہ دینے کے عرصے کے درمیان طویل وقفوں کی شکایت کے جواب میں حضرت جبرائیل ؑ فرشتے کے الفاظ ہیں۔
اِس لئے غلطی سے ”اللہ تعالیٰ کے کلام“ کی کی گئی تعریف ایسا ہرگز نہیں کرے گی۔”اللہ تعالیٰ کا کلام“ کازیادہ درست مطلب ”اللہ تعالیٰ کا پیغام“ ہے – ”2  ہ اُس کا ایک مکمل پیغام ہے جو ہر وہ چیز ظاہر کرتا ہے جو ہماری”زندگی اور دین داری“ کے لئے ضروری ہے۔خدا کی مرضی تاریخی واقعات اور کئی انبیائے کرام کے ذریعے ظاہر کی گئی اور خدا نے چند خاص لوگوں کو بالکل اُسی طرح یہ تاریخ لکھنے کی تحریک بخشی جس
طرح اُس نے چاہا تاکہ یہ درست طریقے سے اُس کی سچائی اور مرضی کو ظاہر کرے۔ درحقیقت،یہ خُدا تعالیٰ کے کلام کی کاملیت کی خوبصورت علامات میں سے ایک ہے کہ خود اِس میں وہ سب کچھ موجود ہے جو ایمان کی زندگی کے لئے ضروری ہے۔اِس بات کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں کہ کون سی حدیث مُستند ہے اور اِس بات کا فیصلہ کرنے کی ضرورت نہیں کہ خُدا تعالیٰ کیا چاہتاہے۔خُدا تعالیٰ کے کلام میں خود ہر وہ چیز موجود ہے جسے ہمیں جاننے کی ضرورت ہے۔یہ بھرپور اور مکمل ہے،انسان کے لئے اللہ تعالیٰ کی کُلّی مشاورت۔
انجیل شریف میں حضرت عیسیٰ مسیح کے رسولوں کی تحریریں شامل ہیں اُس کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔زیادہ تر انبیائے کرام جیسے حضرت یسعیاہ اور حضرت یرمیاہ،اُن کے سلسلے میں خُدا تعالیٰ نے اُنہیں ”کلمتہ اللہ“ کی صورت میں ایک خاص پیغام دیااور اِس طرح انبیاء کرام کا وہ کلام خاص ”کلمتہ اللہ“ تھا۔تاہم،حضرت مسیح دوسرے انبیائے کرام کی نسبت مختلف تھے کیونکہ وہ اپنی ذات میں خود ”کلمتہ اللہ“ تھے،اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا زندہ پیغام۔اِس وجہ سے اُس کے صحائف بھی مختلف ہیں۔وہ اِس ”کلمتہ اللہ“کے اعمال اور الفاظ کے الہٰی تحریک سے لکھے ہوئے واقعات ہیں جو حضرت مسیح کے شاگردوں نے روح القدس کی تحریک سے لکھے۔

  1. شاید یہی وجہ ہے کہ کیوں ابی بن کعب (جنہیں صحیح بخاری میں قرآن کے بہترین قاریوں میں سے ایک کہا گیا ہے)نے قرآن کی اپنی جلد میں سورۃ فاتحہ شامل نہیں کی،کیونکہ سورۃ الحجر بڑی وضاحت سے سورۃ فاتحہ کو”قرآن“سے الگ مقام دیتی ہے:”اور ہم نے تم کو سات
    (آیتیں)جو (نمازمیں)دہرا کر پڑھی جاتی ہیں (یعنی سورۃ الحمد)اور عظمت والا قرآن عطا فرمایاہے۔“(87:15)۔
    انجیل شریف،2 -پطرس 3:1۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.