کیا حضرت عیسیٰ کو “خدا کا بیٹا” کہا جا سکتا ہے؟

حضرت عیسیٰ کو “خدا کا بیٹا” نہیں کہا جا سکتا؟
انجیل مُقدس پر سب سے زیادہ عام اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ یہ حضرت عیسیٰ کے لئے بار بار “خدا کے بیٹے” کی اصطلاح استعمال کرتی ہے۔ جیسا کہ ہم مندرجہ ذیل سطور میں دیکھیں گے کہ انجیل مُقدس میں مذکور یہ اصطلاح ایک جسمانی تعلق (نعوذ باللہ) کی طرف نہ اشارہ کرتی ہے اور نہ کر سکتی ہے بلکہ یہ خالص طور پر ایک مجازی بیان ہے۔ اِس مضمون کے اختتام پر ہم دیکھیں گے کہ جب ہم عربی الفاظ کو درست سمجھ جائیں تو کیسے قرآنی تعلیم جو بظاہر حضرت عیسیٰ کے “خدا کے بیٹا” ہونے کا انکار کرتی ہے،حقیقت میں مُقدس انجیل کے ساتھ متفق ہے۔

مجازی علامتی زبان کو نہ سمجھنا
یہودی، مسیحی اور مسلمان سب نے کبھی کبھار اِس انداز میں خدا کے کلام کے کچھ الفاظ کو غلط طور پر سمجھا ہے۔ مثلاً ایک وقت ایسا تھا جب اسلام میں مشبہ اور زاہریہ کا یہ اعتقاد تھا کہ اللہ ایک جسم رکھتا ہے۔ اُنہوں نے محسوس کیا کہ اللہ جسمانی پہلوﺅں کا حامل ہے جیسے ہاتھ اور چہرہ۔ قرآن و حدیث میں سے ایسے حوالہ جات کی جو اللہ کو اپنے تخت پر بیٹھے یا محمد عربی کے کندھے پر اپنے ہاتھ کو رکھنے کو بیان کرتے ہیں لفظی تشریح کی گئی اور اُنہوں اِس اعتقاد کے ثبوت کے لئے پیش کیا گیا۔

تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ علمائے اسلام نے بتدریج محسوس کیا کہ ایسے حوالہ جات کو لفظی طور پر نہیں لینا چاہئے۔ دیگر واضح تر حوالہ جات کی گواہی سے یہ سمجھا گیا کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی جسم نہیں یا اُس کی کوئی جسمانی محدودیت نہیں ہے۔ تب یہ سمجھ آئی کہ ایسے حوالہ جات جیسے اوپر مذکور حوالہ ہے اِنہیں تشبیہاتی طور پر لینا چاہئے۔ اور ایک بار جب یہ بات سمجھ آ گئی کہ مخصوص حوالہ جات کو لازماً تشبیہاتی طور پر لینا ہے تو یہ واضح ہو گیا کہ کیسے دوسرے مشکل حوالہ جات کی تشریح و توضیح کرنی ہے۔ سو، حدیثوں کو جیسے ذیل میں تین مثالیں موجود ہیں، ایک لفظی تشریح کرتے ہوئے سمجھنا ناممکن تھا۔

نبی اسلام نے کہا:
حدیث 1 : کعبہ کا حجر اسود اللہ کا ہاتھ ہے۔
حدیث2 : ایک مسلمان کے دِل میں اللہ کی انگلیاں موجود ہیں۔
حدیث 3 : مجھے یمن سے اللہ کی خوشبو آتی ہے۔
(اسلامی درشن، ص 169)

لفظی تشریح کے ساتھ مندرجہ بالا حدیث کوسمجھنا مشکل ہے، تاہم اِسے ایک بالواسطہ ، تشبیہاتی تشریح کو مدنظر رکھتے ہوئے سمجھا جا سکتا ہے۔ ایسا کرنے سے دشواریاں ختم ہو جاتی ہیں اور حقیقی معنٰی فوراً سامنے آ جاتے ہیں۔

مندرجہ بالا نوعیت کی مذہبی غلط فہمیاں صرف قرآن اور حدیث تک محدود نہیں ہیں۔ تاریخ میں توریت، زبور اور انجیل کو بھی تشریح کے ایسے کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اور غلط تشریح کی وجہ سے کئی غلط فہمیاں سامنے آئی ہیں۔

“خدا کا بیٹا” کے تشبیہاتی / مجازی معنٰی
بلاشک و شبہ ایسی سب سے زیادہ مشہور اور سنجیدہ غلط فہمی انجیل مُقدس میں اکثر استعمال ہونے والے الفاظ “خدا کا بیٹا” سے متعلقہ ہے۔ کچھ مثالوں میں یہ اصطلاح تمام یہودی قوم کی طرف اشارہ کرتی ہے، جبکہ کچھ مثالوں میں یہ سب ایمانداروں کے لئے استعمال ہوئی ہے، اور کچھ جگہوں پر یہ عیسیٰ مسیح کے لئے مستعمل ہے۔ آئیے کچھ لمحے اِس اصطلاح کا جائزہ لیں اور یہ جاننے کی سعی کریں کہ یہ کیسے استعمال ہوئی ہے اور حقیقت میں اِس سے کیا مراد ہے۔

اِس اصطلاح پر اعتراض کرنے والے افراد نے اِسے اِس کے لفظی معنٰی میں سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ ایسا کرنے سے بہت سی سنجیدہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر اِسے لفظی طور پر لیا جائے تو مطلب یہ ہو گا کہ خدا کی ایک بیوی تھی جو جسمانی طور پر بچے جنتی ہے (نعوذ باللہ)۔ تاہم، ایسی کفرگوئی پر مبنی سوچ انجیل مُقدس کی واضح تعلیم سے تضاد رکھتی ہے۔ انجیل مُقدس میں یسوع مسیح نے سکھایا کہ خدا ایک ہے اور اُس کا کوئی شریک نہیں۔ اِسی طرح انجیل مُقدس میں واضح طور پر سکھایا گیا ہے کہ خدا کا کوئی جسمانی بدن نہیں ہے بلکہ وہ ایک رُوح ہے۔ خدا کا ایک بیٹے کو جسمانی طور پر جنم دینے کا تصور کفرہے اور ناممکن ہے۔ اِس لئے جنہوں نے اِس اصطلاح کو لفظی طور پرسمجھنے کی کوشش کی ہے اُنہیں ویسی ہے ناقابل عبور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے جو اُن لوگوں کو پیش آتی ہیں جو قرآن و حدیث سے مندرجہ بالا حوالہ جات کی لفظی طور پر تشریح کرتے ہیں۔

دراصل، انجیل مُقدس کے پیروکاروں کا عالمگیر ایمان یہ ہے کہ اصطلاح “خدا کا بیٹا” کی تشریح مجازی معنٰی میں کرنی چاہئے۔ نہ صرف ایسی مجازی تشبیہاتی تشریح لفظی سمجھ کے مسائل و مشکلات سے بچاتی ہے، بلکہ اِس کی تائید کئی دوسرے عوامل سے بھی ہوتی ہے۔ آئیے اِس اصطلاح کے تشبیہاتی و علامتی معنٰی کو قبول کرنے کے لئے کچھ عوامل کا جائزہ لیں۔

“خدا کا بیٹا” زبور میں
سب سے پہلے، داﺅد کے مزامیر جو یسوع کے زمانے سے سینکڑوں برس پہلے لکھے گئے آنے والے “مسیح” کا اعلان کرتے ہیں اور یسوع مسیح کو “خدا کا بیٹا” بتاتے ہیں جسے خدا قوموں پر اختیار بخشے گا۔ ہم جانتے ہیں کہ عبرانی زبان و ثقافت میں ایک بڑا بادشاہ اپنے نائب یا صوبائی نمائندے کو اپنا “بیٹا” کہہ کر مخاطب کرتا تھا۔ سو، جب یسوع نے اپنے آپ کو خدا کا بیٹا کہا تو جو صحائف مُقدسہ کی درست سمجھ رکھتے تھے اُنہوں نے اِس بات پر اعتراض نہ کیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ مسیح کو “خدا کا بیٹا” کہا جائے گا کیونکہ وہ پہلے ہی اِس کے درست تشبیہاتی معنٰی “نائب” سے واقف تھے۔

“خدا کا بیٹا” یسوع کے لئے استعمال ہونے والا واحد تشبیہاتی لقب نہیں ہے ، بلکہ قرآن اور انجیل دونوں یسوع کو خدا کا “کلمہ” کہتے ہیں۔ یہاں واضح طور پر اِس لقب کو لفظی معنٰی میں ایک آواز، حرف یا لفظ کے طور پر نہیں لیا جا سکتا۔ بلکہ اِس اصطلاح کو لازماً مجازی طور پر سمجھنا چاہئے۔ ایک لفظ لازمی طور پر رابطہ کا ذریعہ یا وسیلہ ہوتا ہے جو ایک فرد کے خیالات و خواہشات کو دوسرے سے پہنچاتا ہے۔ بالکل اِسی طرح یسوع خدا کا کلمہ تھے، نسل انسانی کے لئے خدا کے رابطہ کا ذریعہ۔ یسوع کے وسیلہ سے خدا اپنی سوچیں اور ارادے انسان پر ظاہر کرنے کے قابل تھا۔اب جبکہ یہ واضح ہے کہ یسوع کے ایک نام “خدا کا کلمہ” کو لازماً تشبیہاتی مجازی طور پر سمجھنا چاہئے، تو یہ سوچنا ہرگز غلط نہیں ہے کہ آپ کا ایک اَور نام “خدا کا بیٹا” بھی ویسے ہی لازماً مجازی طور پر سمجھا جانا چاہئے۔ ایسے خیال کی بھرپور تائید اَور جگہوں سے بھی ہوتی ہے۔

“باپ” اور “بیٹا” کے دیگر تشبیہاتی مجازی استعمال
یہ زباندانی کی ایک بنیادی حقیقت ہے کہ کسی کا “بیٹا” اور “باپ” کے الفاظ اکثر بالکل ویسے ہی مجازی معنٰی کے حامل ہوتے ہیں جیسے ہم نے بیان کیا ہے۔آئیں، سب سے پہلے ہم لفظ “باپ” کا جائزہ لیں اور اِس کے مختلف مجازی استعمال پر نگاہ ڈالیں۔ عموماً یہ کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص قوم کا “باپ” ہے۔ اب کوئی بھی شخص اتنا احمق نہیں ہو گا کہ یہ سوچے کہ ایسے فرد کو “باپ” اِس لئے کہا گیا ہے کہ اُ س نے حقیقت میں اُس سرزمین کے ہر ایک شہری کو حقیقت میں جنا ہے۔ نہیں ایسا نہیں ہے ، اِس کے حقیقی و منطقی معنٰی مجازی ہیں۔ قوم کی آزادی و ترقی میں اُس فرد کے ادا کئے گئے نمایاں کردار کی بنا پر اُسے عزت و احترام کا یہ بڑا لقب دیا جاتا ہے کہ قوم کا باپ۔ اِس کا سادہ طور پر اشارہ اُس قریبی تعلق کی طرف ہوتا ہے جو ایسا فرد اپنے ملک کے ساتھ رکھتا ہے۔

اصطلاح “باپ” کا ایسا مجازی استعمال صرف انسانوں تک محدود نہیں ہے۔ ہمیں اِس کا استعمال خدا کے لئے بھی ملتا ہے۔ آخرکار، خدا سب چیزوں کاخالق، پروردگار اور بحال کرنے والا ہے۔ قرآن کی پہلی سورہ، سورہ فاتحہ الفاظ “‏ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَلَمِينَ” سے شروع ہوتی ہے۔اِس سورہ کی تفسیر کرتے ہوئے محمد عبدالحکیم اور محمد علی حسین لکھتے ہیں: کچھ مفسروں کا ماننا ہے کہ لفظ “رب” عربی زبان کے لفظ “اب” سے ماخوذ ہے جو لفظ “باپ” کا مادہ ہے۔ سو، “رب” کے حقیقی معنٰی باپ کے ہیں۔ ایک بار پھر یہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ کوئی بھی فرد اتنا احمق نہیں ہو گا کہ جیسے لفظ “رب” یہاں خدا کے لئے استعمال ہوا ہے اُسے لفظی و جسمانی طور پر باپ کے معنٰی میں سمجھے۔ جیسا کہ یہ خدا کی طرف اشارہ کرتا ہے تو اِس کے لازماً ایک مجازی روحانی معنٰی ہیں۔ خدا اپنی تمام مخلوق کا جسمانی باپ نہیں ہے۔ تاہم، اُس کی قوت و قدرت کے بغیر کچھ بھی خلق نہیں ہو سکتا تھا۔ اِس دنیا میں پیدا شدہ ہر مخلوق کے پیچھے وہی حقیقی تخلیقی قوت و قدرت ہے۔ وہ تمام دُنیا کا “رب” ، مجازی معنٰی میں باپ اور تخلیق کرنے والی قوت ہے۔

اگر ہم اِس حقیقت کو مزید شخصی سطح پر دیکھیں تو ہم لازمی نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ اِس دُنیا میں پیدا ہونے والا ہر بچہ برا ہ راست خدا کی تخلیقی سرگرمی کا نتیجہ ہے۔ اولاد سے محروم کئی جوڑے ایسے ہیں جو یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہو گئے کہ جب تک خدا اپنی تخلیقی قوت کے ساتھ ہمیں اِس قابل نہیں بناتا بچہ حاصل کرنے کی ہماری اپنی کوششیں بیکار ہیں۔ ہم فخریہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم ایک بچہ کے باپ یا خالق ہیں لیکن آخرکار ہمیں لازماً یہ اقرار کرنا ہے کہ ایسے القاب درست طور پر صرف خدا کو ہی دیئے جا سکتے ہیں۔ یہاں ہم لفظی یا جسمانی پدریت کی بات نہیں کر رہے بلکہ تخلیقی قوت اور قابلیت کی بات کر رہے ہیں۔ یوں جیسے اوپر مذکور قرآنی مفسروں کا نتیجہ ہے ویسے حقیقی طور پر خداتمام مخلوق بشمول انسانوں کا باپ ہے۔

آئیے، اب اصطلاح “بیٹا” کے مجازی و علامتی استعمال کا جائزہ لیں۔ ایسا ہی ایک استعمال قرآن میں سورہ البقرہ 2: 215 میں موجود ہے۔ اِس حوالہ میں ایک مسلسل سفر کرنے والے فرد کو “ابنِ السبیل” (راستہ کا بیٹا) کہا گیا ہے۔ ہم ایک بار پھر دیکھتے ہیں کہ ایک لفظی تشریح منطقی طور پر غلط ہو گی۔ ایک لفظی تشریح واضح طور پر ناممکن ہے۔ اِس کے حقیقی معنٰی مجازی ہیں۔ ایک فرد کا سڑک کے ساتھ اتنا قریبی تعلق ہے کہ اُسے اُس کا بیٹا کہا گیا ہے۔ ہم ایک بار پھر دیکھتے ہیں کہ “بیٹے” یا “باپ” کے مجازی استعمال میں قربت یا نزدیکی بنیادی بات ہے۔

انجیل مُقدس سے علامتی و مجازی معنٰی کا مزید ثبوت
مندرجہ بالا نتیجہ کی گواہی انجیل مُقدس بھی دیتی ہے۔ ایک حوالہ میں ہم پڑھتے ہیں کہ یسوع مسیح کچھ یہودی راہنماﺅں سے بات چیت کر رہے ہیں۔ وہ یہودی راہنما بڑے فخر سے یسوع کے سامنے یہ کہتے ہیں کہ وہ ابرہام کے فرزند ہیں۔ یسوع اُنہیں جھڑکتے ہیں کہ اگر وہ ابرہام کے فرزند ہوتے تو خدا کی مرضی پر ویسے ہی عمل پیرا ہوتے جیسے ابرہام نے اُس کی فرمانبرداری کی تھی۔بلکہ اِس کے برعکس وہ بدی کرنے کی کوشش میں تھے۔ اِس لئے یسوع نے یہ نتیجہ نکالا “تم اپنے باپ ابلیس سے ہو اور اپنے باپ کی خواہشوں کو پورا کرنا چاہتے ہو۔”

ایک جسمانی اور لفظی معنٰی میں وہ یہود ی یقیناً یہ کہنے میں درست تھے۔ وہ ابرہام کے جسمانی فرزند تھے۔تاہم، یسوع نے لفظی معنٰی سے ہٹ کر اِن الفاظ کے پیچھے چھپی گہری او ر بڑی اہمیت کو دیکھا۔ اُن یہودی لوگوں کے کاموں نے واضح طور پر دکھایا کہ روحانی طور پر وہ یہودی مرد ِ خدا ابرہام کے ساتھ قریبی تعلق اور وفاداری کے حامل نہ تھے بلکہ وہ شیطان اور اُس کی مغرورانہ باغی فطرت سے تعلق رکھتے تھے۔ اِس لئے اُنہیں “شیطان کے فرزند” کہہ کر مخاطب کرنا مکمل طور پر درست اور مناسب تھا۔

“باپ” اور “بیٹے” کی اصطلاحات کے اوپر مذکور عام مجازی و علامتی استعمال کا جائزہ لینے کے بعد ہم ایک ایسے درجہ پر ہیں جہاں ہم “خدا کا بیٹا” کے انجیلی استعمال کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ جیسا کہ اوپر مثالوں میں ہے، بلاشبہ اِس کے ایک علامتی و روحانی معنٰی ہیں۔ یہ ایک فرد کے خدا کے ساتھ قریبی تعلق کو واضح کرنے کے لئے استعمال ہوئی ہے۔ جیسے شیطان کی راہنمائی میں چلنے والے فرد کو “شیطان کافرزند” کہا گیا ہے ویسے ہی جو خدا کے ساتھ ایک قریبی اور گہرا روحانی تعلق رکھتا ہے اور اُس کی راہنمائی میں چلتا ہے اُسے “خدا کا فرزند” یا “خدا کا بیٹا” کہا گیا ہے۔ اِس کی ایک مثال انجیل مُقدس میں موجود یہ حوالہ ہے: “کیونکہ اگر تم جسم کے مطابق زندگی گزارو گے تو ضرور مرو گے اور اگر رُوح سے بدن کے کاموں کو نیست و نابود کرو گے تو جیتے رہو گے۔ اِس لئے کہ جتنے خدا کے روح کی ہدایت سے چلتے ہیں وہی خدا کے بیٹے ہیں” (رومیوں 8: 13-14)۔

اِس لئے، اصطلاح “خدا کا بیٹا” کی انجیل مُقدس میں کوئی بھی جسمانی اہمیت نہیں ہے۔ یہودی قوم کو اُن کے ابتدائی ایام میں تب “خدا کا بیٹا” کہا گیا ہے جب یہ خدا کی فرمانبرداری میں زندگی بسر کر رہی تھی۔ تاہم اِس کے برعکس وہ یہودی جو بعد میں غرور و بغاوت میں خدا کی راہوں سے پھر گئے اُنہیں “ابلیس کے فرزند” کہہ کر مخاطب کیا گیا ہے۔ تاہم ، انجیل مُقدس کے مطابق ایک فرد چاہے وہ یہودی ہے یا غیر یہودی، اگر وہ اپنی اندرونی خود غرض خواہشات کو مصلوب کرتا ہے اور خدا کی پیروی کرتا ہے تو وہ “خدا کا بیٹا” ہے۔

یوں ہم بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں کہ کیوں یہ اصطلاح اکثر یسوع کے لئے استعمال ہوئی ہے، جو خدا کی فرمانبرداری اور اُس پر انحصار اور اُس کے ساتھ قریبی تعلق کے لحاظ سے ہمارے تجربہ سے کہیں بڑھ کر ہے۔ یہ بھی واضح ہے کہ یہ لقب اُن الزمات سے قطعی پاک ہے جو اِس کے خلاف پیش کئے جاتے ہیں۔ یقیناً اِس کا مطلب خدا کے ساتھ کسی بھی طرح کا جسمانی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی اِس سے مراد خدا کی کوئی جسمانی صفات ہیں۔ بلکہ اِس سے مراد سب چیزوں کے واحد خالق اور سنبھالنے والے کے ساتھ ایک گہرے روحانی تعلق میں زندگی بسر کرنا ہے۔

کیا قرآن “خدا کا بیٹا” کا انکار کرتا ہے؟
یہاں، بہت سے لوگ سوال کر سکتے ہیں کہ کیا “خدا کا بیٹا” کے خلاف قرآنی بیانات کی اِس اصطلاح کے انجیلی استعمال کے ساتھ کوئی وضاحت ہو سکتی ہے۔ آئیں، ہم قرآن میں اِن بیانات کا جائزہ لیں۔ لیکن سب سے پہلے ہمیں بیٹے کے لئے دو عربی الفاظ میں تمیز کرنا ہو گی: “ابن” اور “ولد”۔

“ابن” ایک وسیع اصطلاح ہے جو اکثر ایک علامتی، غیر طبعی معنٰی کی حامل ہو سکتی ہے جیسے “ابنِ السبیل” (راستہ کا بیٹا، سورہ بقرہ 2: 215)۔ جیسے بائبل مُقدس میں یسوع کے لئے “بیٹا” (ہُیاس) کا لفظ استعمال ہوا ہے اُس کا درست عربی ترجمہ “ابن” ہے جو عبرانی کے لفظ “بن” سے تعلق رکھتا ہے۔

“ولد” کی اصطلاح ایک ایسے بیٹے کی طرف اشارہ کرتی ہے جو جنسی تعلق کے نتیجہ میں پیدا ہوا۔ خدا کے ساتھ یسوع کے تعلق کو بیان کرنے کے لئے یہ اصطلاح انتہائی نامناسب ہے۔

اب آئیے اُن قرآنی آیات کو دیکھیں جو اِس موضوع سے متعلق ہیں:

“اور یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے (فرشتوں کو ) اولاد (ولد)بنا رکھی ہے، وہ (اللہ) اِس سے پاک ہے، بلکہ (وہ فرشتے اُس کے ) بندے ہیں۔” (سورہ الانبیا 21: 26)
“اگر اللہ کسی کو اپنا بیٹا(ولد) بنانا چاہتا تو اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا منتخب کر لیتا۔ وہ پاک ہے وہی ہے اللہ جو اکیلا ہے بڑا زبردست ہے۔ ” (سورہ الزمر 39: 4)

“اور یہ کہ ہمارے پروردگار کی شان بہت بلند ہے وہ نہ بیوی رکھتا ہے نہ اولاد (ولد)۔ ” (سورہ الجن 72: 3)

“وہی آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے، اُس کے اولاد (ولد)کہاں سے ہو جبکہ اُس کی بیوی ہی نہیں اور اُس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور وہ ہر چیز سے باخبر ہے۔” (سورہ الانعام 6: 101 ; 2: 116 ; 10: 68 ; 17: 11 ; 18: 4 ; 19: 35، 88، 91-92 ; 23: 91 ; 25: 2)

مندرجہ بالا آیات سے واضح ہو جاتا ہے کہ قرآن “بیٹے” کے اُس تصور سے فرق بات کر رہا ہے جسے انجیل مُقدس بیان کرتی ہے۔ قرآ ن “بیٹے” کو لفظی، جسمانی فرزند کے طور پر بیان کرتا ہے جو ایک بیوی سے جسمانی تعلق سے پیدا ہو۔ قرآن لازماً عرب میں رہنے والے اُن بھٹکے ہوئے نام نہاد مسیحیوں کو ملامت کر رہا تھا جوغلط فہمی کا شکار تھے اور کہتے تھے کہ عیسیٰ خدا کا “ولد” تھے جو خدا کے مریم کے ساتھ جسمانی تعلق کی وجہ سے پیدا ہوئے (نعوذ باللہ)۔ ایسے بدعتی خیال کو نقایہ کی کونسل میں یسوع پر ایمان رکھنے والوں سے بڑی سختی سے رد کیا۔ یسوع پر حقیقی ایمان رکھنے والے سب افراد قرآن کے ساتھ متفق ہیں کہ “وہ نہ بیوی رکھتا ہے اور نہ ولد” اور یہ کہ ایسا تصور گمراہ کن تصور ہے۔

بیان کی گئی حقیقت کہ قرآن انجیلی سچائی کی تصدیق کرتا ہے اور انجیل مُقدس بار بار “خدا کا بیٹا” کے علامتی و تشبیہی تصور کو استعمال کرتی ہے،واحد بیان کردہ ایسی یکساں وضاحت ہے جو قرآن و انجیل دونوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اخذ کی گئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.