کیا حزقی ایل 23باب فحش ہے؟

حزقی ایل 23باب – ”کتاب مقدس میں ’فحاشی‘ اور دیگر غیرشائستہ باتیں موجود ہیں۔“

یہ حوالہ ایک استعارہ ہے جو اسرائیل اور سامریہ کی بت پرستی کا دو کسبیوں کے ساتھ موازنہ کرتا ہے جن کے نام اہولہ او راہولیبہ ہیں۔

اِس حوالہ کو ظاہر کرنے میں خُدا تعالیٰ کا مقصداِن سرد مہر اقوام کو ایک دھچکا پہنچانا ہے تاکہ وہ یہ احساس کریں کہ اُن کی بت پرستی کس حد تک
نفرت انگیز ہے۔اِس مقصد کی خاطر وہ جسم فروشی کا استعارہ استعمال کرتا ہے جو بدترین گناہوں میں سے ایک ہے۔قرآن بھی لوگوں کے عیب جوئی کے گناہ کا آدم خوری کے خوفناک گناہ کے ساتھ موازنہ کرتاہے جو قابل ِنفرت ہے (12:49)۔دونوں حوالوں کا مقصد بے حِس گنہگاروں کو اُن کے خوفناک گناہ سے باخبر کرنا ہے۔ایسی سخت زبان استعمال کرنے کی ضرورت تھی تاکہ نبی کا پیغام اُن کے دل ودماغ پر گہرا کام کرے۔

بت پرستی اور گناہ خُدا تعالیٰ اور ہمارے نزدیک ناپسندیدہ ہیں۔ اِس خُدا کا مقصد فحش باتیں کرنا نہیں بلکہ ایسے لوگوں پر خُدا تعالیٰ کی عدالت کا اعلان کرنا ہے۔حوالہ کے آخر میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اِس طرح کی زبان کیوں استعمال کی گئی ہے۔خُداتعالیٰ فرماتے ہیں: ”وہ تمہارے فسق وفجو رکا بدلہ تم کو دیں گے اور تم اپنے بتوں کے گناہوں کی سزا کا بوجھ اُٹھاؤ گے تاکہ تم جانو کہ خدواند خدا میَں ہی ہوں۔“
(حزقی ایل 49:23)۔

صحیح بخاری سے ہم سیکھتے ہیں کہ قرآ نی بیان ،”تمہاری عورتیں تمہاری کھیتی ہیں تو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو جاؤ“
(سورۃ البقرۃ 223)کئی طرح کی جنسی حالتوں کے بارے میں ہے ( (صحیح بخاری 51.60.6)۔
حدیث میں وضاحت کے ساتھ چند جنسی واقعات بھی موجود ہیں،لیکن عبرانی صحائف کے برعکس اِن کا مقصد انبیا ئے کرام کی مثبت تصویر پیش کرنا ہے:

ابو ہریرہ سے روایت ہے:اللہ تعالیٰ کے رسول نے فرمایا،”(پیغمبر)حضرت سلیمان نے فرمایا،”آج رات میَں نوے عورتوں کے ساتھ
سوؤں گا،ہر عورت سے ایک لڑکا پیدا ہو گا جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑے گا۔“اِس پر اُن کے ساتھی (سفیان نے کہا کہ اُس کا ساتھی ایک فرشتہ ہے)نے اُن سے کہا،”کہو،”اگر اللہ چاہے (انشااللہ)۔“لیکن حضرت سلیمان (یہ کہنا)بھول گئے۔وہ اپنی تمام بیویوں کے ساتھ سوئے،
لیکن عورتوں میں سے کسی نے بھی بچے کو جنم نہ دیا ماسوائے ایک کے جس نے آدھے بچے کو جنم دیا۔ابو ہریرہ مزید فرماتے ہیں:نبی کریم نے فرمایا،”اگر حضر ت سلیمان نے کہا ہوتا،”اگر اللہ چاہے“(انشا ءَ اللہ)،تو وہ اپنے عمل میں ناکام نہ ہوئے ہوتے اور وہ کچھ حاصل کر لیتے جس کی اُنہوں نے خواہش کی تھی۔“ایک مرتبہ ابو ہریرہ نے فرمایا:رسول اللہ نے فرمایا،”اگر اُنہوں نے قبول کیا ہوتا۔“(صحیح بخاری 711.8)

قرآن اور حدیث کے اِن حصوں کو ناقص مواد نہیں سمجھنا چاہئے اور نہ ہی عبرانی صحائف کے ساتھ ایسا کرنا چاہئے۔یہ طعن آمیز ہے کہ نقاد کتاب مقدس پر فحش مواد رکھنے کا الزام لگائیں،جب پوری تاریخ کے دوران معاشرے میں فحاشی کی مخالفت کرتے ہوئے یہ حیا اور جنسی پاکیزگی کی زبردست قوت رہ چکی ہے۔مثلاً مشرق ِ وسطیٰ میں محمد ؐکے زمانے سے صدیوں پہلے مسیح کے پیروکار حجاب استعمال کرتے تھے جو آج بھی مشرق ِ وسطیٰ میں مسیحی استعمال کرتے ہیں۔

یہ یاد رکھنا بہت ضروری ہے کہ عبرانی میں جنسی اصطلاحات کے تراجم اکثربہت حد تک گمراہ کن ہیں۔عبرانی صحائف جنسی معاملات پر بات چیت کرنے میں شدید حد تک بالواسطہ بات کرتے ہیں۔ اِس لئے مثال کے طورپر آیت 20میں جس لفظ کا ترجمہ اکثر ”عضو تناسل“ کیا گیا ہے وہ سادہ طور پر لفظ ”بدن“ (عبرانی،بسر)ہے۔جو کچھ نقاد کہتے ہیں اُس کے برعکس،جنتا ممکن ہو سکتا ہے عبرانی صحائف ہوش مندی سے کام لیتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.