نجات فضل سے یا اعمال سے؟

بہت سے مسلمان نیک کام اِس غلط مقصد سے کرتے ہیں کہ اپنی نجات خود حاصل کر سکیں، لیکن قر آن اور حدیث میں مضبوط اشارے پائے جاتے ہیں کہ نجات بنیادی طور پر خدا کی شفقت کا نتیجہ ہے، نہ کہ ہمارے بہت سے نیک اعمال کا نتیجہ:

 مومنو! شیطان کے قدموں پر نہ چلنا۔ اور جو شخص شیطان کے قدموں پر چلے گا تو شیطان تو بے حیائی کی باتیں اور برے کام ہی بتائے گا اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اُس کی مہربانی نہ ہوتی تو ایک شخص بھی تم میں پاک نہ ہو سکتا مگر اللہ جس کو چاہتا ہے پاک کر دیتا ہے اور اللہ سُننے والا ہے جاننے والا ہے۔ (سورہ النور 24:21)

   صحیح حدیث میں اَور وضاحت ملتی ہے:

ابوہریرہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کو اُس کا عمل نجات نہیں دلا سکے گا۔ صحابہ نے عرض کی اور آپ کو بھی نہیں یارسول اللہ؟ فرمایا اور مجھے بھی نہیں، سوا اِس کے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت کے سایہ میں لے لے۔ پس تم کو چاہئے کہ درستی کے ساتھ عمل کرو اور میانہ روی اختیار کرو۔ صبح اور شام، اِسی طرح رات کو ذرا سا چل لیا کرو اور اعتدال کے ساتھ چلا کرو منزل مقصود کو پہنچ جاؤ گے۔
(صحیح بخاری، جلد ہفتم، 6463)

حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ نبی کریم نے فرمایا ”دیکھو جو نیک کام کرو ٹھیک طور سے کرو اور حد سے نہ بڑھ جاؤ بلکہ اُس کے قریب رہو اور خوش رہو اور یاد رکھو کہ کوئی بھی اپنے عمل کی وجہ سے جنت میں نہیں جائے گا۔ صحابہ نے عرض کیا اور آپ بھی نہیں یا رسول اللہ! فرمایا اور میں بھی نہیں۔ سوا اِس کے کہ اللہ اپنی مغفرت و رحمت کے سایہ میں مجھے ڈھانک لے۔“
(صحیح بخاری، جلد ہفتم، 6467)

Leave a Reply

Your email address will not be published.