ایک سینگ والی افسانوی مخلوقات

یسعیاہ 7:34 – ”بائبل ایک سینگ والی افسانوی مخلوقات کے بارے میں کیوں بات کرتی ہے؟“

کنگ جیمز ورژن میں ترجمہ شدہ لفظ ”یونی کارن“عبرانی میں ”ریم“ ہے جس کا تمام جدید تراجم اور لُغات میں ”جنگلی سانڈ“ کے نام سے زیادہ درست ترجمہ کیا گیا ہے۔جدید آثار قدیمہ نے اِس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ کنگ جیمز ورژن اور سپٹواجنٹ کے یونانی تراجم میں اِس حوالے کی غلط تشریح کیوں کی ہے۔مسوپتامیہ کی کھدائیوں میں دکھایا ہے کہ اسورنصرپال
(Assurnasirpal)بادشاہ ایک جنگلی سانڈ کا شکار کررہا ہے جس کے سر پر ایک سینگ ہے۔ متعلقہ متن یہ بتا تا ہے کہ یہ جانور ’ریمو‘
(rimu)کہلاتا ہے۔جب سپٹواجنٹ کے مترجمین نے غلطی سے”مونو سیروس“(monoceros)ایک سینگ کی اصطلاح استعمال کی
،توشاید وہ اِس مخلوق سے واقف تھے اور یہ سمجھ لیا کہ ”ریم“ ”ریمو“ تھا۔کنگ جیمز ورژن کے مترجمین نے اِس غلط ترجمے کی پیروی کرتے ہوئے ترجمہ کیا۔

قرآن میں ہم پڑھتے ہیں کہ حضرت سلیمان نے ایک دیومالائی مخلوق سے بات چیت کی جسے عفریت کہا جا تا ہے (سورۃ الانعام
15:27-44)جو حامد اللہ کے مطابق،”ایک طرح کا بُرا شیطان ہے جو بہت سی افسانوی کہانیوں میں پایا جاتا ہے۔“بریٹینیکاکے انسائیکلوپیڈیا میں اِس کی تعریف درج ذیل الفاظ میں کی گئی ہے:

”اسلامی دیومالائی کہانیوں میں، جہنمی جنوں کی ایک قسم (ایسی روحیں جو فرشتوں اور شیطانوں کے درجے سے کم ہیں)مذکور ہے جو اپنی قوت اور مکار ی کے بارے میں جاناجاتا ہے۔ایک عفریت ایک عظیم پروں والی دھوئیں کی مخلوق ہے چاہے وہ نر ہو یا مادہ،جو زیر زمین رہتے ہیں اور مسلسل تباہی پھیلاتے ہیں۔عفریت قدیم عربی نسلوں کے ساتھ معاشرے کی طرح رہتے ہیں،جو بادشاہوں،قبیلوں اور برادریوں کی صورت میں مکمل ہوتے ہیں۔وہ عام طور پر ایک دوسرے کے ساتھ شادی کرتے ہیں لیکن وہ انسانوں کے ساتھ بھی شادی کر سکتے ہیں۔
جب کہ عام ہتھیار اور قوتوں کا اُن پر کوئی اختیار نہیں،وہ جادو کے اثر پذیر ہیں،جنہیں انسان اُنہیں مارنے یا اُن پر قبضہ کرنے یا اُنہیں غلام بنانے کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔“

معراج کے واقعہ میں کہا گیا ہے ہے کہ حضور اکرم جسمانی طور پر ایک سفید پروں والے گھوڑے پر سوار ہوئے جس کی مور کی طرح کی دُم تھی اور ایک فرشتے کا سر تھا۔اگر یہ عفریت او ربرّاق قابل ِ قبول ہیں،تو یقیناجنگلی سانڈپر بحث کرنا قابل ِ قبول ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.