سورج ٹھہر جاناہے؟

یشوع 13-12:10 – ”یہ کس طرح ممکن ہے کہ سورج کائنات میں بڑی توڑ پھوڑ کے بغیر ساکن ٹھہرا رہے؟“

یہ بہت دلچسپ بات ہے کہ کچھ مسلمان نقاداِس اقتباس پر اعتراض کریں گے لیکن صحیح بخاری اور صحیح مسلم تصدیق کرتے ہیں کہ حضور اکرم بھی بالکل اِسی کہانی پر یقین رکھتے تھے:

رسول اللہ نے فرمایا:”انبیائے کرام میں سے ایک نے جہادکیا۔“… وہ (اللہ کا نبی)آگے بڑھے اور تقریباً عصر(شام)کی نماز کے وقت ایک گاؤں میں پہنچے۔اُنہوں نے سورج سے فرمایا:”تم اللہ تعالیٰ کے تابع ِ فرمان ہو او راِسی طرح میَں بھی ہوں۔اے اللہ!اِسے تھوڑی دیر کے لئے میرے لئے روک دے۔“سورج آپ کے لئے ٹھہر گیا جب تک اللہ تعالیٰ نے اُنہیں فتح نہ بخشی۔“ (صحیح مسلم 2743:19)

پھر بھی کتاب مقدس کے واقعے کو سائنس کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے کے کئی طریقے ہیں۔”ٹھہرگیا“ کے لئے استعمال کی گئی اصطلاح
کا مطلب ”خاموش رہنا“ یا ”الگ کرنا“ بھی ہو سکتا ہے،اِس لئے اِس اقتباس کو اِس مطلب کے ساتھ بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ سیاہ بادلوں کے پیچھے چھپا کر سورج کو ”خاموش کر دیا گیا“ جب تک یشوع نے فتح نہ حاصل کر لی۔اِس معجزانہ واقعہ سے تھوڑی دیر پہلے خُدا تعالیٰ نے
دشمن کی فوجوں کو تباہ کرنے کے لئے طلوع ِ آفتاب سے پہلے ژالہ باری کے ساتھ طوفان بھیجا تاکہ اُنہیں ٹھنڈی رات اور دن میسرہو تاکہ وہ
وہ رات بھر آگے بڑھ سکیں اور اٹھارہ گھنٹے لڑ سکیں۔یہ آپس میں جڑے ہوئے دن یشوع کے”اضافی دن“ تھے اور ژالہ باری اور بادلوں کا سائبان یشوع کی مدد کی دعا کے بدلے میں ایک معجزانہ جواب تھا۔معاملہ چاہے کچھ بھی ہو،جب ہم اِس واقعے کے تاریخی پس منظر کے
بارے میں بہت تھوڑا سا جانتے ہیں تو پھر چند آیات کو ردّ کرنا بڑا معیوب دکھائی دیتا ہے۔آثار قدیمہ اور سائنسی دریافتوں نے کتاب مقد س
میں اکثر نظر آنے والے اختلافات کو ختم کیا ہے اور ہم اعتبار کر سکتے ہیں کہ مزید تحقیق شاید اِس واقعے کے بارے میں مزید بصارت عطا کرے۔

ہم جانتے ہیں کہ کتاب مقدس مشاہد ے کی زبان استعمال کرتی ہے،اِس لئے ہمیں اِس بات پر زوردینے کی ضرورت نہیں ہے کہ درحقیقت سورج ٹھہر گیا تھا بلکہ ایسا دکھائی دیتا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.