چپٹی زمین؟

ایوب 6:9 – ”یہ آیت کہتی ہے کہ زمین کے ستون ہیں، جس سے اشارہ ملتا ہے کہ زمین چپٹی ہے۔“

اِن اقتباسات میں سے کسی میں بھی کوئی جغرافیائی ہدایت نہیں ہے،بلکہ خُدا تعالیٰ کی قدرت کا اظہار کرنے کے لئے روزمرہ کا استعارہ استعمال کرتے ہوئے یہ ایک نغماتی شاعری ہے۔مزید یہ کہ نقاد نے اشتقاقی لحاظ سے ایک غلطی کی ہے کہ عبرانی لفظ،”تیبل“ اور”ارتض“ کا مطلب ”کُرّہ ارض“یا ”سیارہ“ کے معنوں میں زمین ہے۔زیادہ تر اِن الفاظ کا مطلب صرف ”زمین“ ہوتا ہے جیسے کہ ایک خاص ملک میں اور کچھ سیاق و سباق میں وہ اِس کا مطلب ”کُرّہ ارض“ نہیں لے سکتے (پیدایش 9:38)۔اِن آیات میں،ہمیں ”زمین“ کو خشکی کا ٹکڑا سمجھنا چاہئے۔

ایوب 6:9 اور زبور 3:75میں،عبرانی ”عمود“ جس لفظ کا ترجمہ ”ستون“ کیا گیا ہے، لُغت اُس کی تعریف’ٹیک‘یا’منبر‘ کے طور پر بھی کرتی ہے،جو براعظمی پلیٹوں کے نیچے خشکی کے زیرِزمین ٹکڑے ہیں۔اِس وضاحت میں کوئی مشکل نہیں ہے۔

”ستون“ کا لفظ حنّہ کی دعا میں بھی استعمال ہوا ہے (1 -سموئیل 8:2)جو ”متسوق“ ہے،جو صحائف میں دو مرتبہ استعمال ہوا ہے
۔دوسری آیت (1 -سموئیل 5:14)میں اِس کا مطلب ”واقع“ ہے۔اِس کا ترجمہ ”بنیاد“ بھی ہو سکتا ہے جو براعظمی پلیٹوں کے نیچے کے خشکی کے ٹکڑوں کی دوبارہ ایک بہتر وضاحت ہے۔ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ یہ تاریخی اقتباس صرف ایک خطا وار انسان(سموئیل کی والدہ حنہّ) کی دعا کا ذِکر کر رہا ہے۔

قرآن میں بھی ایسی ہی آیات ہیں جو چپٹی زمین کو ظاہر کرتی نظر آتی ہیں:

”اورآسمان کی طرف کہ کیسا بلند کیا گیاہے اور پہاڑوں کی طرف کہ کس طرح کھڑے کئے گئے ہیں اورزمین کی طرف کہ کس طرح بچھائی گئی
(سورۃ الغاشیہ 18:88-20)

اِس آیت پر نامور مفسِّر الجلالین کی تفسیر میں لکھا ہے،

”جہاں تک اُس کے لفظ سُطحِتَ،’ ہموار بچھا دیا‘ کا تعلق ہے اِس کی لغوی قرأت تجویز کرتی ہے کہ زمین چپٹی ہے جو شریعت کے زیادہ تر علمائے کرام کی رائے ہے نہ کہ گول جیسی کہ علم ِ نجوم والے کہتے ہیں …“1

اِسی طرح مصر کے علم ِ الہٰی کے ماہر امام سیو طی نے بھی یہ کہا کہ زمین چپٹی ہے۔

  1. Available online from http://altafsir.com (Royal Aal al-Bayt Institute for Islamic Thought, Jordan).

Leave a Reply

Your email address will not be published.