عہد کے صندوق کو کب منتقل کیا گیا؟

2 -سموئیل 6,5 – “کیا حضرت داؤد فلستیوں کو شکست دینے کے بعد(2 – سموئیل 6,5)یا پہلے (1 – تواریخ 13اور14ابواب) عہد کا صندوق یروشلیم لے کر آئے تھے؟”

حقیقت میں یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ اگر ہم 1 -تواریخ کے پندرھویں باب تک مطالعہ کرتے جائیں تو ہمیں پتا چلتا ہے کہ حضرت داؤد فلستیوں کو شکست دینے کے بعد عہد کا صندوق لے کر آئے۔اِس کی وجہ یہ ہے کہ اسرائیلیوں نے دو مرتبہ عہد کے صندوق کو اُس کی جگہ سے ہلایا جیسے کہ ہم 2 -سموئیل 5اور6ابواب اور 1 -تواریخ 15باب میں دیکھتے ہیں،پہلی مرتبہ اُنہوں نے فلستیوں کی شکست سے پہلے اِسے بعلہ کے مقام سے منتقل کیا۔ایک مرتبہ سموئیل نبی فلستیوں پر حضرت داؤد کی فتح کو بیان کرتے ہیں اور وہ اُن دونوں اوقات کے بارے میں بتاتے ہیں جب عہد کا صندوق منتقل کیا گیا۔تاہم 1 -تواریخ میں ترتیب درج ذیل ہے:عہد کے صندوق کو پہلے بعلہ سے منتقل کیا گیا؛پھر حضرت داؤد نے فلستیوں کو شکست دی اور آخر میں عہد کا صندوق عوبید ادوم کے گھر سے منتقل کر دیا گیا۔

اِس لئے دونوں بیانات میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ ایک حوالہ محض ایک اقتباس ہے جو ہمیں فوراً ہی (بعد میں کوئی اَور حوالہ دینے کے بجائے) عہد کے صندوق کی مکمل تاریخ پیش کر رہا ہے جب کہ دوسرا اقتباس ہمیں فرق طریقے سے تاریخ پیش کر رہا ہے۔ دونوں میں واقعات کے زمانے ایک جیسے ہیں۔

حتیٰ کہ قرآن میں زیادہ پریشان کرنے والی تواریخی ترتیب دیکھی جاسکتی ہے۔سورۃ البقرہ میں ہمیں حضرت آدم کے گُناہ میں گرنے سے متعارف کروایا جاتا ہے اور پھر اسرائیلیوں پر اللہ تعالیٰ کا رحم دکھایا جاتا ہے اور پھر اُس کے بعد فرعون کا ڈوبنا،جس کے بعد حضرت موسیٰ اور سونے کا بچھڑا، اِس کے بعد اسرائیلیوں کی خوراک او رپانی کے بارے میں شکایت،او رپھر ہمیں دوبارہ سونے کے بچھڑے کے واقعے سے متعارف کروایا جاتا ہے اور اِس کے بعد ہم حضرت موسیٰ او رحضرت عیسیٰ کے بارے میں پڑھتے ہیں اور پھر ہم حضرت موسیٰ اور پھر سونے کا بچھڑا اور پھر حضر ت سلیمان او رحضرت ابراہیم کے بارے میں پڑھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.