برنباس کی انجیل کے بارے میں کیا خیال ہے؟

برنباس کی انجیل کے بارے میں کیا خیال ہے؟

اناجیل کے چند نقاد یہ الزام لگاتے ہیں کہ ”برنباس کی انجیل“ کا مسودہ حضرت عیسیٰ کی اصلی انجیل ہے اور وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مسیحیوں نے جان بوجھ کر اُسے چھپایا جب تک یہ 18 ویں صدی میں خود سے اچانک سامنے نہیں آ گئی۔ متی،مرقس،لوقا او ریوحنا کی اناجیل کے سینکڑوں ابتدائی نسخے موجود ہیں، لیکن حضرت عیسیٰ کے ایک ہزار پانچ سو سال بعد تک برنباس کی انجیل کے نسخے کی کوئی نقول موجود نہیں ہیں۔نیچے ہم دیکھیں گے کہ یہ مسودہ جنوبی یورپ میں 1500 اور 1590 کے درمیانی عرصے میں مرتب ہوا۔
بد قسمتی سے جعلساز کی کتاب مقدس،قرآن اور قدیم فلستین کی غیر واضح سمجھ اِس بات کو عیاں کرتی ہے کہ وہ فلستین سے ناوا قف اور قرون لکھنے کی تاریخ وسطیٰ کی ہے۔

سولہویں صدی کے آغاز کے ثبوت

”برنباس کی انجیل“میں سولہویں صدی کی تصنیف کی چند ناقابل ِ انکار نشانیاں شامل ہیں۔توریت شریف نے بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ وہ
ّآرا م کرنے اور قرض اُتارنے کے لئے ہرپچاسواں سال ”یوبلی“ سال کے طور پر منایا کریں،مگر ”برنباس کی انجیل“کا مصنف اِس وقفے
کے سو سال دیتا ہے۔حضرت عیسیٰ کے زمانے کے کسی بھی یہودی نے ایسی بڑی غلطی نہیں کی ہو گی۔مصنف نے ایک سو کا عدد کہاں سے لیا؟
تقریباً 1300 عیسوی کے قریب پوپ بونیفس ہشتم نے اِس رہائی کے ”جوبلی“ سال کو دوبارہ متعارف کروایاجس پر صدیوں سے عمل نہیں ہو رہا تھالیکن اِسے کلیسیا کو 100 سال کے بعد منا نے کا حکم دیا۔بعد میں پوپ صاحبان نے اِسے واپس 50 سال پر کردیا اور پھر مزید گھٹا کر 25 سال کر دیا۔بظاہر ”برنباس کی انجیل“کے مصنف نے پوپ بونیفس کے حکم کے متعلق سنا ہو گا اور سمجھا ہو گا کہ یہ حضرت عیسیٰ ؑ نے دیا تھا۔

اُس نے بغیر سوچے سمجھے قرون ِ وسطیٰ کے مصنف دانتے کے چند اقوال او رخیالات بھی شامل کر دئیے جو نہ تو کتاب مقدس میں اور نہ ہی
قرآن میں شامل ہیں۔دانتے 13 ویں صدی کا اٹلی کا رہنے والا ایک شخص تھا جس نے جہنم او رجنت کے بارے میں ایک تخیلاتی
ادب لکھا جسے ”الہٰی مزاح“(The Divine Comedy)کے نام سے جانا جاتا ہے۔دانتے کے بہت سے اقوال نے ”برنباس کی انجیل“میں اپنی جگہ بنالی جیسے کہ یہ ایک جملہ،”dei falsi e lugiadi“(”نقلی اور جھوٹے دیوتا“) (Inferno 1:72, Gospel of Barnabas para 23)جو نہ تو کتاب مقدس میں اور نہ ہی قرآن میں موجود ہے۔

”برنباس کی انجیل“مے کو لکڑی کے مٹکوں میں ذخیرہ کرنے کے بارے میں لکھتی ہے (پیرا 152)،یہ دستور قرون ِوسطیٰ میں عام تھا لیکن
فلستین میں پہلی صدی میں نامعلوم تھا جہاں مے کو مشکوں میں ذخیرہ کرتے تھے۔مزید یہ کہ مصنف یسوع کو یہ فرماتے ہوئے لکھتا ہے کہ
گرمیوں کے موسم میں دنیا کتنی خوبصورت لگتی ہے جب فصل اور پھل وافر مقدار میں ہوتے ہیں (پیرا 169)۔یہ اٹلی میں موسم گرما کا ایک
اچھا تذکرہ ہے،لیکن فلستین کا نہیں جہاں اِس وقت بارش ہوتی ہے اور فصلیں موسم سرما میں اُگتی ہیں لیکن کھیت گرمیوں کے دنوں میں پکتے ہیں۔

مصنف فلستین کے جغرافیہ سے بھی ناواقف تھا کیونکہ وہ ناصرت کو گلیل کی جھیل پر ایک ساحلی شہر قرار دیتا ہے(پیرا 21,20) جبکہ ناصرت کا شہر سطح سمندر سے 1300 فٹ بلند ہے اورسمندر سے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ 99 باب میں صور کو دریائے یردن کے قریب بیان کیا گیا ہے جب کہ حقیقت میں یہ موجود ہ لبنان سے کوئی 50 کلومیٹر دُور ہے۔”برنباس کی انجیل“حضرت عیسیٰ مسیح کو
ہیکل کے کُنگرے سے تعلیم دیتے ہوئے بیان کرتی ہے۔اگر اُس نے ہیکل کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہوتا تو وہ یہ جان گیا ہوتا کہ وہ کُنگرہ 150 فٹ بلند تھا جہاں سے منادی کرنا ناممکن ہے۔مصنف حضرت عیسیٰ مسیح کی الوہیت کے مسئلے پرتین فوجوں کی بھیڑ بھی بیان کرتا ہے اورہر ایک میں 200,000 آدمی جنگ میں شریک تھے۔ یٹینیکا کے انسائیکلوپیڈیا کے مطابق اُس وقت رومیوں کی باقاعدہ فوج کی تعداد
کوئی 300,000 تھی جب کہ اِس کی نصف پیچھے محفوظ تھی۔70عیسوی میں رومیوں کے ہاتھوں یروشلیم کی تباہی تک یہودیہ میں صرف ایک چھوٹی سی چھاؤنی موجود تھی۔1

بہت سی نشاند ہیوں میں سے یہ صرف ایک مختصر سی فہرست ہے کہ یہ مسودہ قرون ِ وسطی کے بُرے یورپی نے لکھا تھا۔اِس کے مزید ثبوت درج ذیل ویب سائٹ پر موجود ہیں: www.unchangingword.com ۔”لانزڈیل“(Lonsdale)اور”لورا ریگ“(Laura Ragg)(1907)کے کئے گئے انجیل ِ برنباس کے اصلی ترجمے میں تعارف کے 70 صفحات میں مزید قائل کرنے والے دلائل شامل ہیں کہ کیوں مختلف علما یہ یقین رکھتے ہیں کہ یہ انجیل قرون ِ وسطیٰ کی ایک جعلسازی ہے۔ جماعت اسلامی نے اِس مسودے کا اُردو ترجمہ کیا اور اِس کا پورے پاکستان میں چرچا کیا لیکن اُنہوں نے جان بوجھ کر تعارف کے اصلی صفحات کو ہٹا دیا جس سے اُن کی قلعی کھل جاتی ہے۔قرون ِ وسطیٰ کی تصنیف کے زبردست اورنتیجہ خیز ثبوت کے ساتھ،کوئی بھی شخص اُن آدمیوں کی ایمان داری پر حیران ہوتا ہے جو اِس بات کا پرچار جاری رکھے ہوئے ہیں جس کے متعلق اُنہیں جاننا چاہئے کہ وہ جھوٹ ہے۔مثلا ً ایک پاکستانی شخص جس کا نام عطاء الرحمن ہے جس نے پاکستان میں اِس ”انجیل“ کو متعارف کروانے میں کافی سرگرمی دکھائی اُ س کا یہ کہنا ہے:

انجیل ِ برنباس ہی وہ واحد قائم رہنے والی انجیل ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ایک شاگرد نے لکھی،یہ وہ شخص ہے جس نے اپنا زیادہ وقت
حضرت عیسیٰ ؑ کے ساتھ اُن کے تین سالوں کے دوران جب وہ اپنا پیغام سنا رہے تھے گزارا۔اِس لئے اُس کے پاس حضرت عیسیٰ مسیح کی تعلیمات کا علم اور تجربہ براہ ِ راست موجود تھا۔جب کہ چاروں اناجیل کے مصنفین کے ساتھ ایسا نہیں تھا۔ 2

مندرجہ بالا بیان میں ہر دعویٰ جھوٹا ہے اور اِس کا مقصد محض گمراہ کرنا ہے۔وہ اِس حقیقت کو مکمل طور پر نظر انداز کرتا ہے کہ متی اور یوحنا دونوں
جنہوں نے انجیل شریف میں دو اناجیل لکھیں،وہ حضرت عیسیٰ مسیح کے بارہ قریبی شاگردوں میں تھے۔جب کہ دوسری طرف برنباس
ایک دوردراز جزیرے قبرص کا رہنے والا تھا اور زیادہ امکان ہے کہ وہ کبھی بھی حضرت عیسیٰ سے نہیں ملا تھا اور وہ حضرت عیسیٰ پر اُن کے آسمان پر چلے جانے کے بعد ایمان لایا۔رحیم مزید یہ بھی دعویٰ کرتا ہے کہ 478 عیسوی میں زینو کے دور ِ حکومت کے دوران برنباس کی لاش دریافت ہوئی اور اُس کے اپنے ہاتھ سے لکھی ہوئی برنباس کی انجیل کی ایک جلد اُس کے سینے میں سے ملی۔اُس کے مطابق یہActa Sanctorium, Boland Junii, Tome 2, pages 422-450 میں درج ہے اور 1698 میں Antwerp میں شائع ہوئی۔
تاہم درحقیقت ریکارڈ یہ کہتا ہے کہ متی کی انجیل کی ایک جلد کی نقل خود برنباس نے تیار کی تھی اُس کے سینے پر ملی تھی۔جان بوجھ کر
ریکارڈ میں ترمیم رحیم میں ایمان داری کی کمی اور فریب دینے کی کوشش کو ظاہر کرتی ہے۔اُ س نے یہ الفاظ مٹا ڈالے کہ ”متی رسول کی معرفت،جسے خود برنباس نے نقل کیا“اوراِس کی بجائے یہ الفاظ شامل کر دیئے ”برنباس کی انجیل“۔مغر ب میں ایک بہت ہی سچے عالم نے اِس کا تجزیہ کچھ یوں کیا:

جہاں تک ”برنباس کی انجیل“ کا تعلق ہے اِس کے بارے میں کوئی شک نہیں کہ یہ قرون ِ وسطیٰ کی ایک جلعسازی ہے…اِس میں غلط زمانی
کی شامل ہے جو صرف قرون ِوسطیٰ کا زمانہ ہو سکتا ہے اُس سے پہلے کا نہیں او ریہ بد دیانتی سے سلامی علم ِ الہٰی کے نظریات پیش کرتی ہے اور نبیاسلام کو ”مسیح“ کہتی ہے جب کہ اسلام اُس کے بارے میں یہ دعویٰ نہیں کرتا۔مقدس تاریخ کے لئے اِس کے مزاحیہ قیاس کے ساتھ ساتھ یہ بڑی خوش اسلوبی سے کی گئی ایک اوسط درجے کی اناجیل کی مضحکہ خیز نقل ہے جیسے کہ قرآن کے متعلق بہاء اللہ کی تصنیفات۔ 3

مسلما ن عالم ڈاکٹر محمود ایوب بھی اِس کے ساتھ ہم خیال ہوتے ہیں:

”زیادہ امکان ہے کہ یہ بعدکا کام ہے جو اسلامی اثر کے تحت لکھا گیا ہے۔“ 4

اِس جھوٹے کلام کو شائع کرتے رہنا،اُسے فروغ دینا او رتقسیم کرنا لوگوں کے لئے ایک شرم ناک بات ہے۔یہ اُن کے لئے بے عزتی کی بات ہے کہ وہ جان بوجھ کر ایک الجھن پیدا کریں۔

قرآن مجید کے ساتھ تضادات

مزید یہ کہ ”برنباس کی انجیل“نہ صرف اناجیل کے ساتھ اختلاف رکھتی ہے بلکہ یہ قرآن کے ساتھ بھی کئی جگہوں پر تضاد رکھتی ہے۔قرآن صرف حضرت عیسیٰ کو ہی ”مسیح“ 5 کا باعزت لقب دیتا ہے،جب کہ برنباس کی انجیل کچھ یوں کہتی ہے:

حضرت عیسیٰ مسیح یہ سچائی تسلیم کرتے ہیں:”میں مسیح نہیں ہوں …مگر میں واقعی اسرائیل کے لئے نجات کا نبی ہونے کے لئے بھیجا گیا ہوں۔“(انجیل ِ برنباس، پیرا 82,42)

قر و ن ِوسطیٰ کی ”برنباس کی انجیل“ کا مصنف قرآن کے ساتھ بھی کئی دیگر پہلوؤں میں اختلاف کرتا ہے۔مثلاً اُس نے ایک غیر بائبلی
قرون ِوسطیٰ کی روایت کو شامل کیا کہ حضرت عیسیٰ کی پیدائش معجزانہ طور پر بغیر دردِزہ کے ساتھ ہوئی (پیرا 3)۔یہ براہ ِ راست سورۃ مریم کی آیت نمبر 23 سے اختلاف کرتا ہے جو مریم کو بچے کی پیدائش کے وقت شدید درد سے گزرتے ہوئے بیان کرتی ہے۔قرآن کے مطابق
صرف سات آسمان ہیں (سورۃ البقرۃ 29:2)مگر اِس مسودے کا مصنف نو آسمانوں کی موجودگی کی تعلیم دیتا ہے۔ 6 جہنم،عدالت، مے،
کثر ت الازدواج،شیطان،انبیا اور قربانی جیسے کئی دیگر مضامین پر یہ مسودہ قرآن سے براہ ِ راست اختلاف رکھتا ہے۔

  1. The New Encyclopedia Britannica , Vol. 25, pp. 414-415 (ed. 15th, 1993).
  2. Rahim, A prophet of Islam, p.37.
  3. Cyril Glassé, The Concise Encyclopedia of Islam, San Francisco: Harper & Row, 1989, p. 65
  4. Ayoub, Mahmoud M., “Towards an Islamic Christology II”, The Muslim World, Vol. LXX, April 1980, No. 2, p. 113.
  5. The Qur’ān states, no less than eleven times, that Jesus alone is the Messiah (see Al-Imran 3:45 for example).
  6. Chapter 178

Leave a Reply

Your email address will not be published.