چپٹی زمین؟

متی 8:4 -”یہاں لکھا ہے کہ زمین چپٹی ہے جو کہ درست نہیں ہے۔“

اگر نقاد نے غور سے پڑھا ہوتا تو وہ دیکھتا کہ یہ ایک معجزانہ اورفوری رویا تھی جسے لوقا 5:4واضح کرتی ہے:”پھر ابلیس نے اُسے اُونچے پر لے جا کر دُنیا کی سب سلطنتیں پل بھر میں دکھائیں۔“یہ سمجھ لینا احمقانہ بات ہے کہ لوقا ا ورمتی نے روم کے بارے میں یہ تصور دیا کہ اُسے ایک اُونچے پہاڑ پر سے دیکھا جا سکتاتھا۔وہ ایک معجزانہ رویا درج کر رہے تھے۔کوئی معراج کے بارے میں سوال پوچھ سکتا ہے،کہ کوئی نبی کس طرح ایک ہی رات میں پروں والے گھوڑے پر سوار ہو کر یروشلیم تک اور آسمان تک گیا ہو اور پھر واپس آیا ہو۔

قرآن میں بھی ایسی آیات ملتی ہیں جو ظاہر کرتی ہیں کہ زمین چپٹی ہے:

”اورآسمان کی طرف کہ کیسا بلند کیا گیاہے اور پہاڑوں کی طرف کہ کس طرح کھڑے کئے گئے ہیں اورزمین کی طرف کہ کس طرح بچھائی گئی
(سورۃ الغاشیہ 18:88-20)

اِس آیت پر نامور مفسِّر الجلالین کی تفسیرمیں لکھا ہے،

جہاں تک اُس کے لفظ سُطِحتَ ہموار بچھا دیا‘ کا تعلق ہے اِس کی لغوی قرأت تجویز کرتی ہے کہ زمین چپٹی ہے جو شریعت کے زیادہ تر علمائے کرام کی رائے ہے نہ کہ گول جیسی کہ علم ِ نجوم والے کہتے ہیں …“1

اِسی طرح مصر کے علم ِ الہٰی کے ماہر امام سیوطی نے بھی یہ کہا کہ زمین چپٹی ہے۔

  1. Available online from http://altafsir.com (Royal Aal al-Bayt Institute for Islamic Thought, Jordan).

Leave a Reply

Your email address will not be published.