کیا مسیحی صحائف تبدیل ہو چکے ہیں؟

”قرآن یہ بتاتا ہے کہ یہودی اور مسیحی صحائف تبدیل ہو گئے تھے۔“

کئی مقامات پر قرآن یہودیوں (مسیحیوں پر نہیں) پر اپنے صحائف غلط استعمال کرنے پر تنقید کرتا ہے اور اُن پر تحریف کرنے ( حُيَرِّفُونَهُ) 75:2، چھپانے (61:6،140:2) ،پڑھتے ہوئے اپنی زبانوں کو مروڑنے ( يَلْؤنَ السِنَتَهُم ) 78:3 ، اور حتیٰ کہ الفاظ کو اُن کی اصلی جگہ سے تبدیل کردینے ( حُيَرِّفُونَ الكَلِمَ عَنْ مَوَاضِعِهِ – 12:5-14) کا الزام لگاتا ہے۔مثلاً

”اور اِن (اہل ِ کتاب) میں بعض ایسے ہیں کہ کتاب (توریت) کو زبان مروڑ مروڑ کر پڑھتے ہیں تاکہ تم سمجھو کہ جو کچھ وہ پڑھتے ہیں کتاب میں سے ہے حالانکہ وہ کتاب سے نہیں ہوتا اور کہتے ہیں کہ وہ خدا کی طرف سے (نازل ہوا) ہے حالانکہ وہ کتاب میں سے نہیں ہوتا او رخدا پر جھوٹ بولتے ہیں اور (یہ بات)جانتے بھی ہیں۔ (آل عمران 78:3)

تاہم،قرآن ایک مرتبہ بھی نہیں کہتا کہ تحریری متن تبدیل ہوا ہے،نہ ہی یہ کہتا ہے کہ اصلی صحائف اُس وقت کی نسبت مختلف ہیں،
بلکہ اِس کی بجائے قرآن یہودیوں او رمسیحی صحائف کے بارے میں بہت سی مثبت باتیں کہتا ہے:

”اہل ِانجیل کو چاہئے کہ جو احکام خدا نے اُس میں نازل فرمائے ہیں اُس کے مطابق حکم دیا کریں اور جو خدا کے نازل کئے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے گا تو ایسے لوگ نافرمان ہیں“ (سورۃ المائدۃ 47:5)

”کہو کہ اے اہل ِ کتاب جب تک تم تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں) تمہارے پروردگار کی طرف سے تم لوگوں پر نازل ہوئی اُن کو قائم نہ رکھو گے کچھ بھی راہ پر نہیں ہو سکتے۔“ (سورۃ المائدۃ 68:5)

”اگر تم کو اِس کتاب کے بارے میں جو ہم نے تم پر نازل کی ہے،کچھ شک ہو تو جو لوگ تم سے پہلے کی (اُتری ہوئی) کتابیں پڑھتے ہیں اُن سے پوچھ لو۔“ (سورۃ یونس 94:10)

”اُس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں“ (سورۃ الانعام 115:6)

قرآن کے اِن دونوں مختلف رویوں کے درمیان ہم آہنگی کا واحد درست راستہ دراصل قرآن ہی میں موجود ہے،بار بار دہرایا گیا دعویٰ کہ الہٰی کتاب کے دو مختلف فریق یا حصے ہیں،اچھے اور بُرے۔نیک حصہ اپنے مقدس صحائف سنبھال کر رکھتا ہے اور بڑی وفاداری سے اُس کی پیروی کرتا ہے،جب کہ بُرا حصہ غیر الہامی نظریات سکھاتا ہے اور اپنے مفاد کی خاطر اُن کے معنوں کو مروڑتاہے:

”یہ بھی سب ایک جیسے نہیں ہیں اِن اہل ِ کتاب میں کچھ لوگ (حکم خدا پر)قائم بھی ہیں۔“ (سورۃ آل عمران 113:3)

”اور بعض اہل ِ کتاب ایسے بھی ہیں جو خدا پر اور اُس (کتاب)پر جو تم پر نازل ہوئی اور اُس پر جو اُن پر نازل ہوئی ایمان رکھتے ہیں اور خدا کے آگے عاجزی کرتے ہیں اور خدا کی آیتوں کے بدلے تھوڑی سی قیمت نہیں لیتے۔یہی لوگ ہیں جن کا صِلہ اُن کے پروردگار کے ہاں (تیار)ہے۔“ (آل عمران 199:3)

”ہم نے اُن کا اَجر دیا۔او راُن میں سے بہت سے نافرمان ہیں۔“ (27:57)

اِس قرآنی جدول کو استعمال کرتے ہوئے ہم اِن دو گروہوں کی خصوصیات میں فرق کر سکتے ہیں:

نیک،اچھا فرقہ بدعتی بُرافرقہ
اخلاق
-تکبرسے آزاد(83:5)

-دئیے گئے سونے کے بارے میں قابل بھروسا (74:3)

-انصاف کا ساتھ دیتے ہیں،بُرائی سے منع کرتے ہیں (113:3)

-نیکیاں کرنے میں ایک دوسرے کا مقابلہ کر نا (113:3)

-راست باز (113:3)

اخلاق

-ناقابلِ بھروسہ، کنجوس(74:3)

-شرم ناک حد تک کمزور ایمان (75:3)

-بُرائی کرنے والے (111:3)

-بغاوت اور ظلم کرنے والے (112:3)

-غصہ کرنے والے (120:3)

علم ِ الہٰی اور تعلیم
-اللہ تعالیٰ اور قیامت پر یقین (113:3)
– وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں اور بعض اوقات تمام رات وہ تین الگ الگ خدا ؤں پر ایمان رکھتے ہیں:حضرت عیسیٰ،حضرت عبادت کرتے ہیں (113:3)

-وہ نیک ارادوے سے رہبانی نظام قائم کرتے ہیں،لیکن اُنہوں نے وفاداری سے اِس پر عمل نہیں کیا (27:57)۔

اُنہیں خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں (69:5)
اُنہیں روز ِقیامت اَجر ملے گا (113:3)

علم ِ الہٰی اور تعلیم
-اللہ تعالیٰ پر یقین جس کی بیوی تھی اور اِس طرح جسمانی بیٹا پیدا ہوا (سورۃ 101:6،3:72)؛وہ کہتے ہیں ”اللہ نے بیٹا بنا لیا ہے“ (68:10)

وہ تین الگ الگ خدا ؤں پر ایمان رکھتے ہیں:حضرت مریم اور اللہ تعالیٰ پر (116:5)۔وہ کہتے ہیں اللہ تین میں کا تیسرا ہے۔ (73:5)
وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کو اپنے قابو میں کر سکتے ہیں (29:57)

وہ حضرت ابراہیم،حضرت اسماعیل،حضرت اسحاق،حضرت یعقوب ،حضرت موسیٰ او ریہودیوں میں امتیاز کرتے ہیں۔

صحائف کے لئے رویہ
اپنے صحائف کی تلاوت کرتے ہیں (113:3)
اِس کی درست طریقے سے تلاوت کرتے ہیں (121:2)
اُن پر یقین رکھتے ہیں (121:2)
کلام کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں (47:5)
صحائف کے لئے رویہ
وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کو ایسے پس ِ پشت ڈال دیتے ہیں کہ جیسے وہ اُسے جانتے تک نہ تھے (101:2)
جانتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے بارے میں باطل باتیں کہتے ہیں (76:3)
جان بوجھ کر سچائی کو چھپاتے ہیں (146:2)
کلام سے واقف نہیں ہے،وہ سوائے خواہش کئے گئے تصورات اور غیرواضح قیاس کے کچھ نہیں جانتے۔(79:2)
حضرت عیسیٰ کا نظریہ
وہ کہتے ہیں کہ مسیح اللہ تعالیٰ کا خادم تھا (172:4)
وہ کہتے ہیں کہ مسیح کلمتہ اللہ تھا ۔

حضرت عیسیٰ کا نظریہ

وہ حضرت عیسیٰ کے انسان ہونے کا انکار کرتے ہیں (75:5) اور دعویٰ کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ نے کہا،”خدا کی بجائے میری عبادت کرو“ (79:3) اور”فرشتوں او رپیغمبروں کو خدا بنالو“

مسلمانوں کے لئے رویہ
”تم دیکھو گے ..کہ وہ جو اُن (مسلمانوں) سے قریب ترین محبت رکھتے یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے،’ہم مسیحی ہیں۔“

مسلمانوں کے لئے رویہ
وہ مسلمانوں سے محبت نہیں رکھتے (119:3)
مسلمانوں کے نقصان پر خوشی مناتے ہیں (121:3)
وہ مسلمانوں کے دشمن ہیں (82:5)

مندرجہ بالا فہرست سے یہ واضح ہے کہ ”نیک“مسیحی گروہ انجیل شریف میں موجود تعلیم کے مطابق چلتا ہے جبکہ مذکورہ بالا” بُر ا “ گروہ کافرانہ،غیر الہامی نکتہ نظر کی ترجمانی کرتاہے۔قرآن شاید ایک مسیحی بدعت بیان کررہا ہو گا جس نے یہ سکھایا کہ اللہ تعالیٰ کے حضرت مریم کے ساتھ جنسی تعلقات تھے (خد امعاف کرے!) اور نتیجہ کے طور پر حضرت عیسیٰ کسی حدتک خدا ہیں۔تاریخی ریکارڈ یہ بتاتے ہیں کہ قرآن میں بیان شدہ ”بُر افرقہ“ مسیحیوں کا ایک بہت چھوٹے حصے کو پیش کرتا ہے جسے مسیحیوں کا اکثریت بھی رد ّ کر چکی تھی۔

آئیے! اب بگاڑ کے الزامات کی تحقیق کرتے ہیں۔عام طور پر تین الزامات ہیں: 1) تھوڑی سی قیمت کے بدلے میں آیات کوبیچنا،
2) آیات کا ترجمہ کرتے وقت اُنہیں بدلتے،چھپاتے یا مروڑتے ہیں،اور 3) آیات کو تبدیل (التحریف) کرتے ہیں۔

پہلا الزام،آیات کو بڑے پیمانے پر معمولی منافع کے لئے بیچنا مشرکوں پر ہے، جنہوں نے حضرت محمد کی قرآنی سورتوں کو ایسے بنا کر بیچا جیسے وہ خود اُن کی اپنی مرتب کردہ ہیں۔

دوسرا الزام،آیات کو چھپا نا او رمروڑنا،جو اِس بات سے مطابقت رکھتا ہے کہ کس طرح مسیحیوں کا بدعتی حصہ جھوٹے الہٰی نظریات کی تعلیم دیتے ہوئے اُن باتوں کو چھپاتا ہے جو حقیقت میں انجیل شریف فرماتی ہے۔مثال کے طور پر،وہ لوگوں کو سکھاتے تھے کہ حضرت عیسیٰ نے کہا
،”خدا کے بجائے میری عبادت کرو“اور”فرشتوں او رپیغمبروں کو خدا بنالو“،جب کہ وہ جان بوجھ کر یہ بات چھپا جاتے ہیں کہ دراصل انجیل شریف اِ سکے برعکس فرماتی ہے۔

تیسرا الزام،کلام یا صحائف کو تبدیل کرنے کا ہے،یہ قرآن میں صرف چار آیات تک محدود ہے۔یہ بنیادی طور پر اِس بات کو بیان کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے کہ یہودیوں نے حضور اکرم ؐ کے قرآن کے ساتھ کیا کیانہ کہ اُن کے اپنے صحائف کے ساتھ۔

”اصلی الفاظ کو تبدیل“ کرنے (التحریف اللفظی) کی اصطلاح یہودیوں یا مسیحیوں کے صحائف کے لئے کبھی بھی استعمال نہیں ہوئی اِس لئے خلاصے کے طور پر،ہم دیکھتے ہیں کہ جہاں قرآن جھوٹے مسیحیوں کے کا بدعتی فرقے کو ردّ کرتا ہے جس نے تین خداؤں کی تعلیم دی اور انجیل کے معنوں کو مروڑ دیا، وہاں قرآ ن مسیحیوں کے بارے میں مثبت با ت بھی کرتاہے جو انجیل شریف کی پیروی کرتے ہیں،اِس کی درست تلاوت کرتے ہیں،اور خدا اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں اور اُنہیں یہ بتاتے ہیں کہ اُن کی عدالت وہ اپنے صحائف کے مطابق فیصلہ کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.