کیا حضرت عیسی المسیح صلیب پر مصلوب ہوئے؟

کیا حضرت عیسی المسیح صلیب پر مصلوب ہوئے؟

وہابیوں کے تعاون سے چلایا جانے والے ”peace TV“ ٹیلی وژن چینل کے ذریعے ڈاکٹر ذاکر نائیک اور احمد دیدات کی نظریات حال ہی میں پورے بھارت میں بڑی تیزی سے پھیلے ہیں۔اُس کے بہت سے پروگرامز اچھی تعلیمات دیتے ہیں جیسے کہ میانہ روی کو فروغ دینا،خدا کا خوف رکھنا،اور صحائف کا مطالعہ کرنا۔تاہم،یہ پروگرامز کچھ غلط قادیانی اور وہابی نظریات بھی پھیلارہے ہیں جو صحائف کو درست طریقے سے اُس طر ح پیش نہیں کر رہے جیسے کہ حقیقت میں جو کچھ صحا ئف بیان کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر ذاکر نائیک اور احمد دیدات سیدنا عیسیٰ المسیح کی موت کے بارے میں ایک قادیانی نظریہ پیش کرتے ہیں جسے ”بے ہوش ہونے کا نظریہ“کہا گیاجو سب سے پہلے مغربی لادینوں نے ایجاد کیا اور بعد میں قادیانیوں کے ذریعے مسلمانوں میں متعارف ہوا۔تقریباً تمام علما حتیٰ کہ مسیحیت کے نقادوں نے بھی اِس نظریے کو ملامت کیا ہے،اور اِس نے صحائف کی سچائی کوچھپانے کی کوشش کی ہے۔

اِس مضمون میں ہم یہ دیکھیں گے کہ اِس اہم سوال کے بارے میں قرآن مجید،انجیل شریف اور تاریخ دراصل کیا کہتی ہے کہ کیا سید نا
عیسیٰ المسیح مصلوب ہوئے تھے؟ہم درج ذیل سوالات کی ترتیب سے بات کریں گے:

  1. کیا قرآن شریف اِس بات سے انکار کرتا ہے کہ سید نا عیسیٰ المسیح صلیب پر مؤئے تھے؟
  2. کیا قادیانیوں کا بے ہوشی کانظریہ درست ہو سکتا ہے؟
  3. کیا انجیل شریف حقیقت میں یہ کہتی ہے کہ حضرت عیسیٰ المسیح مصلوب ہوئے تھے؟
  4. کیا مصلوبیت توریت شریف اور انجیل شریف کے مطابق درست ثابت ہوتی ہے؟
  5. کیا ذاکر نائیک کے دلائل سچے ہیں؟
  6. تاریخی شہادت کیا کہتی ہے؟

خاکہ:

حِصّہ اوّل: اسلا م اور قر آن کیا کہتا ہے؟
حضرت عیسیٰ المسیح کی موت کا اسلامی نظریہ
کیا قرآن شر یف واقعی سید نا عیسیٰ المسیح کی مصلوبیت کا انکار کرتا ہے؟
سوان نظریہ (المسیح کے بے ہوش ہونے کا نظریہ)

حِصّہ دوم: انجیل شریف کیا کہتی ہے؟
انجیل شریف میں بارہ ناقابل ِ انکار بیانات کہ حضرت عیسیٰ المسیح صلیب پر مرے تھے
ذاکر نائیک کی ناقابل ِ چیلنج گستاخی

حِصّہ سوم:توریت شریف اور زبور شریف کیا کہتی ہیں؟
توریت شریف اورزبور شریف میں پہلے سے مذکور مصلوبیت
کفارہ اور قربانی
آخری قربانی
صحائف میں حضرت عیسیٰ المسیح کی موت کی پیشین گوئیاں
سید نا عیسیٰ المسیح کی اپنی موت کے بارے میں پیشیں گوئیاں

حِصّہ چہارم:ذاکر نائیک کوباطل ثابت کیا
یسوع المسیح کے شاگردوں کی مصلوبیت کے بارے گواہی
ایک جی اُٹھا بدن
پہلا نشان: تباہ شدہ ہیکل
دوسرا نشان: یوناہ کا نشان
تاریخی اندراج

نتیجہ


 

حِصّہ اوّل

اسلام اور قرآن مجید کیا کہتا ہے؟

حضرت عیسیٰ المسیح کی موت کا اسلامی نظریہ

ذاکر نائیک کچھ یوں دکھانے کی کوشش کرتا ہے کہ اسلام اور قرآن شریف دونوں مصلوبیت کا انکار کرتے ہیں مگر ایسا نہیں ہے۔ ذاکر نائیک کی وضاحت دراصل ایک غلط نظریہ ہے جو مغربی لا دینوں نے حال ہی میں ایجاد کیا اور قادیانیوں کے ایک بدعتی گروہ کے ذریعے اسلام میں متعارف ہوا۔جدید دور کے بہت سے مسلمان یہ سوچتے ہیں کہ اسلام یہ سکھاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ المسیح مرے نہیں تھے بلکہ اُن کا جسم ِمبارک زندہ آسمان پر اُٹھالیا گیا تھا۔دراصل بڑے بڑے مفسرین (اسلامی مبصّرین)جیسے کہ ا لطبر ی اور الرازی کہتے ہیں کہ سید نا عیسیٰ المسیح کی موت کو قبول کرنا دراصل قرآن شریف کی ایک متواتر وضاحت ہے :

””عیسیٰ! میں تمہاری میں رہنے کی مدت پوری کر کے(مُتَوَفّیک)اور تم کو اپنی طرف اُٹھا لوں گا …“(سورۃال عمران 55:3)

ابتدائی مسلم مبصّر ا لطبری اِس حصے کے چار ممکنہ مطالب بیان کرتا ہے،جس میں سے ایک یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام واقعی مرے تھے:

وہ لکھتے ہیں:

”موت (وفات)کا مطلب حقیقت کی موت،واقعی مر جاناہے،مطلب یہ ہے کہ، میں واقعی تمہیں مرنے دے رہا ہوں۔“ 1

مزید برآں وہ اِیسی روایات بیان کر تا ہے جواِس قسم کی وضاحت کوتقویت دیتی ہیں۔خود ا لطبر ی شاید اِس سے ملتا جلتا نظریہ سوچتا تھاجو یہ کہتا ہے کہ ایک معصوم شخص حضرت عیسیٰ کی جگہ صلیب پر مر گیا جو حضرت عیسیٰ کی طرح دکھائی دیتا تھا۔ممتاز مفسّر فخر الدین رازی نے بھی یہ قبول کیا کہ یہ اِس حوالے کی ایک مستند وضاحت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی واقعی جسمانی موت ہوئی تھی2 تاہم،فخر الدین
رازی نے چھ وجوہات کی بِنا پرطبری کے جگہ لینے کے نظریے کو ردّ کر دیا اور اب یہ نظریہ مقبول نہیں رہا ہے۔
مسلمان عالم کامل حسین لکھتے ہیں:

”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے متبادل کا خیال قرآن مجید کے متن کی وضاحت کا ایک پھونڈا طریقہ ہے۔اُنہیں بے شمار لوگوں کو بہت سی باتوں کی وضاحت کرنی پڑتی تھی۔ کوئی باتہذیب مسلمان آج اِس پر یقین نہیں رکھتا۔“ 3

ڈاکٹر محمد ایوب لکھتے ہیں:

متبادل کانظریہ اپنی ہیئت یا مقصد سے بالاترہو کر کچھ نہیں کر پائے گا…یہ الہٰی انصاف اور انسان کے خدا کے ساتھ بنائے عالم سے کئے گئے عہد کا مذاق اُڑاتاہے۔“ 4

اِس لئے جو کچھ ہم دیکھتے ہیں وہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ کی موت کے حوالے سے کوئی ایک بنیادی اسلامی نظریہ نہیں ہے۔ابتدائی مسلم علما نے یہ قبول کیا کہ حضرت عیسیٰ کی موت قرآن مجید کی ایک ممکنہ تشریح تھی،لیکن خود اُن کا مصلوبیت کے حوالے سے ترجیح شدہ نظریہ
(متبادل نظریہ)اغلاط سے پُر ہے اورخود مسلم علمااِسے حد سے زیادہ ناممکن ہونے کے باعث ردّ کر چکے ہیں۔

کیا قرآن واقعی حضرت عیسیٰ المسیح کی مصلوبیت کا انکار کرتا ہے؟

دراصل پورے قرآن شریف میں صرف ایک ہی آیت ہے جس کی بدولت نقاد حضرت عیسیٰ کی مصلوبیت کا انکار کرتے ہیں:

”اور یہ کہنے کے سبب کہ ہم نے مریم کے بیٹے عیسٰی مسیح کو جو خداکے پیغمبر (کہلاتے)تھے قتل کر دیا ہے (خدا نے اُن کو ملعون کر دیا)اور اُنہوں نے عیسیٰ کو قتل نہیں کیا اور نہ اُنہیں سُولی پر چڑھایا بلکہ اُن کو اُن کی سی صورت معلوم ہوئی۔اور جو لوگ اُن کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں وہ اُن کے حال سے شک میں پڑے ہوئے ہیں۔اور پیروی ظن کے سوا اُن کو اُس کا مطلق علم نہیں۔اور اُنہوں نے عیسیٰ کو یقینا قتل نہیں کیا بلکہ خدا نے اُن کو اپنی طرف اُٹھا لیا اور خدا غالب (اور)حکمت والا ہے“(سورۃالنسا158,157:4)۔

جس بات کو طبر ی او ر رازی سمجھنے سے قاصر رہے وہ یہ تھی کہ دراصل مندرجہ بالا آیت مصلوبیت کا انکار نہیں کر رہی بلکہ اِس بات کا انکار کر رہی ہے کہ یہودیوں کے ہاتھوں مصلوبیت ہوئی(آیت 153) جیسا کہ وہ فخریہ الزام لگا رہے تھے۔اِن بے اعتقاد یہودیوں نے گستاخانہ انداز میں یہ ”سوچا“ کہ اُنہوں نے حضرت عیسیٰ المسیح پر غلبہ حاصل کر لیا اور اُنہیں ہلاک کر دیا ہے،لیکن قرآن مجید تاریخی
اندراج کو درست کر رہا ہے۔حضرت عیسیٰ کے دور میں یہودی دراصل کمزور اور مغلوب تھے اور لوگوں کو موت کی سزا دینے کے قابل نہیں تھے۔دراصل یہ رومی تھے جنہوں نے حضرت عیسیٰ ا لمسیح کو مصلوب کیا تھا۔

دراصل یہی وہ بات ہے جو انجیل شریف اِس بارے میں حقیقت میں سکھاتی ہے۔مغروریہودی سیدنا عیسیٰ المسیح کے خلاف جھوٹے الزامات کو ہوا دینے والے تھے۔تاہم،فلسطین اُس وقت رومی حکومت کے ماتحت تھااور اُنہیں حضرت عیسیٰ المسیح کو چھو نے کا بھی اختیار نہیں تھا۔اگر اُنہوں نے اُسے توریت شریف کی شریعت کے تحت ہلاک کیا ہوتاتو اُنہوں نے اُسے سنگسار کیا ہوتا نہ اونچے پر چڑھا یا ہوتاکہ جیسے کہ مسیحا کی پیشین گوئیوں میں تھا۔حتیٰ کہ خود حضرت عیسیٰ المسیح نے پہلے سے بتادیا تھا کہ وہ ہلاک ہو ں گے مگر یہودیوں کے ہاتھوں نہیں بلکہ غیر قوموں کے ہاتھوں (متی 19:20)۔طبری اور رازی جو انجیل شریف کی تاریخ کو براہ ِ راست نہیں جانتے تھے وہ اِس معاملے کے فطری حل کے بارے میں نہیں جانتے ہوں گے۔

لیکن اگربنظرِعمیق دیکھا جائے تونہ ہی یہودیوں اور نہ ہی رومیوں نے سیدنا عیسیٰ المسیح کو ہلاک کیا بلکہ یہ خدا کا منصوبہ تھا۔سورۃ الا نفا ل میں ہم اِس کی بہت اچھی وضاحت دیکھتے ہیں:

”تم لوگوں نے اُن (کفار)کو قتل نہیں کیا بلکہ خدا نے اُنہیں قتل کیا۔اور (اے محمدؐ)جس وقت تم نے کنکریاں پھینکی تھیں تو و ہ تم نے نہیں پھینکی تھیں بلکہ اللہ نے …“سورۃالا نفال 17:8

یہ حوالہ جنگ بدر میں مسلمانوں کی فتح کے ردعمل کا اظہار کرتا ہے۔جو کچھ اُنہوں نے حاصل کیا تھا وہ اُس پر بہت فخر اور گھمنڈ کر رہے تھے جب تک کہ اِس اقتباس میں اُن کی اصلاح نہ کی گئی۔یہ اقتباس اُن کے احمقانہ گھمنڈ کی اصلاح کرتا ہے اور اُنہیں ہدایت کرتا ہے کہ اُس دن جو کچھ ہوا وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھا۔وہ محض ذریعہ تھے جنہیں اللہ تبار ک وتعالیٰ نے اپنے منصوبے کی تکمیل کے لئے استعمال کیا۔

بالکل اِسی طرح سورۃ النسا کی آیت نمبر 157میں اللہ تعالیٰ یہودیوں سے فرما رہے ہیں کہ اُن کا گھمنڈ مکمل طورپر غلط اور بے بنیاد ہے۔
اُنہوں نے مسیح کو ہلاک نہیں کیا تھا جیسا کہ وہ شیخی سے کہہ رہے تھے۔ جو کچھ حقیقت میں مسیح کے ساتھ ہوا،اِس اقتباس کا مقصد اُس کا ذکر کرنا نہیں ہے۔ تاہم جیسا کہ ہم ابتدائی کتابوں سے جانتے ہیں،یہ رومی تھے جنہوں نے حقیقت میں اُنہیں ہلاک کیا،اگرچہ کہ یہ اللہ تبارک و
تعالیٰ کی ذات تھی جس نے اِن سب باتوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔

بہت سے لوگوں کے نزدیک حضرت عیسیٰ المسیح کی موت کو قبول نہ کرنے کی شاید سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک ذلت آمیز شکست نظر آتی ہے۔تاہم،قرآن مجید یہ سکھاتا ہے کہ ماضی میں اکثر بُرے لوگوں نے ”انبیا کو ہلاک کیا“ (61:2;61:2;91:2;21:3;112:3
وغیرہ)۔خود سیدنا عیسیٰ نے بھی اپنی جلد عمل میں آنے والی موت سے باخبر تھے جب اُنہوں نے یہ کہا:

”میں اپنی جان دیتا ہوں تاکہ اُسے پھرلے لوں۔کوئی اُسے مجھ سے چھینتا نہیں بلکہ میں اُسے آپ ہی دیتا ہوں۔مجھے اُس کے دینے کا بھی اختیار ہے اور اُسے پھر لینے کا بھی اختیار ہے۔“(یوحنا 17:10-18)

مُردوں میں سے جی اُٹھنے کی وجہ سے سیدنا عیسیٰ کی موت ایک واضح فتح ہے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کی قدرت سے دوبارہ مُردوں میں سے
”زندہ کیا گیا“اور یروشلیم میں تقریباً پانچ سو افراد کو دکھائی دیا (-1 کرنتھیوں 6:15) ۔واقعی سورۃ مریم کی آیت نمبر33 میں حضرت عیسیٰ المسیح کے پُر سکون الفاظ اُس کی جان بوجھ کر ہونے والی موت اور جی اُٹھنے کی طرف اشارہ کرتے دکھائی دیتے ہیں:

”اور جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں گا اور جس دن زندہ کر کے اُٹھایا جاؤں گا مجھ پر سلام(و رحمت) ہے۔“ (19 :33)

المسیح کے بے ہوش ہونے کا(سوان) نظریہ

ذاکر نائیک اور احمد دیدات نے حال ہی میں حضرت عیسیٰ المسیح کی موت کے بارے میں مسلمانوں میں ایک قادیانی نظریہ مشہور کر دیا ہے جسے ”بے ہوش ہونے کا نظریہ“کہا جاتا ہے جو سب سے پہلے مغربی لادینوں نے ایجاد کیا اور بعد میں قادیانیوں کے ذریعے مسلمانوں میں متعارف ہوا۔تقریباً تمام علما حتیٰ کہ مسیحیت کے نقادوں نے بھی اِس نظریے کو ملامت کیا ہے،اور اِس نے صحائف کی سچائی کو چھپانے کی کوشش کی ہے۔

حضرت عیسیٰ کی مصلوبیت کے بارے میں ”بے ہوشی کے نظریہ“کا تھوڑا سا پس منظر جاننے سے مدد ملے گی۔یہ نظریہ سب سے پہلے یورپی عالم بھاردت(Bahrdt)اور وینٹورینی(Venturini)نے دو سو سال پہلے پیش کیا جو حضرت یسوع المسیح کے زمانے کے اٹھارہ سو برس بعد کا عرصہ بنتا ہے۔یہ نظریہ غیر مسیحی عالموں میں بھی زیادہ مقبول نہ ہواکیونکہ 19ویں صدی نسلی کے علم ِ الہٰی کے ماہر بنام
ڈیوڈ سٹراس (David Strauss)نے اِسے ایک مزاحیہ موت نہ کہا۔اُس نے کہا:

”یہ ناممکن ہے کہ ایک ایسا شخص جسے نے قبر سے نیم مُردہ حالت میں چُرا لیاگیا، جو انتہائی کمزور اور بیمارہے اور طبی علاج درکار ہے۔۔۔شاگردوں کو یہ تاثر دے سکتا تھا کہ وہ موت اور قبر پر فاتح تھا، زندگی کا شہزادہ: ایک ایسا تاثرہ جو اُن کی مستقبل کی خدمت کی بنیاد ہے۔“ 5

سٹراس خود مسیحیت کے خلاف تھا لیکن پھر بھی اُس نے یہ قبول کیا کہ یہ نظریہ بالکل بیہودہ اور کمزور ہے۔آج کل تقریبا ً کوئی بھی یورپی عالم اِس نظریے کے حق میں نہیں ہے۔

تاہم سو سال پہلے،مرزا غلام احمد جو اسلام کے فرقے احمدیہ کے بانی ہیں اُنہوں نے اسلامی دُنیا میں Venturini’s کے بے ہوشی کے نظریہ کو متعارف کروایا، اُس نے بھی یہ دعویٰ کیا کہ وہ موعودہ مسیحا مہدی ہے جو نائب نبی ہے۔دید ات نے اِس قادیانی بے ہوشی کے نظریے کا جنوبی افریقہ میں پرچار کیا مگرچند قابلِ ذکر سُنی قائدین اور ناشرین نے دید ات کے اِن طریقوں کی ملامت کی اور بے ہوشی کے نظریے کی غیر مسلم قادیانی نظریہ ہوتے ہوئے مخالفت کی جو مسلم نظریہ نہیں ہے۔ جنوبی افریقہ میں مسلمانوں کے درمیان جب دید ات نے اپنا یقین اور اعتماد کھو دیا تو اُس کے شاگرد ذاکر نائیک نے جنوبی افریقہ میں دید ات کے نظریات کو پھر سے بحال کیا۔ذاکر نائیک خود بھی مسلم علما کے ہاتھوں ملامت ہو چکا ہے جیسے کہ دار العلوم دیوبند (بھارت کی سب سے مقبول ترین دینی علوم کی مرکزی درس گاہ)کے دارالافتا ء۔وہ نائیک کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ”علم سے کوسوں دور ہے،شر ارت کی باتیں پھیلاتا ہے،اور سادہ لوح مسلمانوں کو غلط راہ پر ڈالتا ہے۔“ 6

بے ہوشی کے نظریے کے بھی وہی مسائل ہیں جو کہ ردّکئے گئے متبادل نظریے کے ہیں،جس کی فہرست فخرالدین رازی نے تیارکی۔یہاں الرازی کے چھ میں سے پانچ مسائل درج ہیں جن کے جوابات بے ہوشی کے نظریے نے بھی نہیں دئیے:

  1. یہ تواریخی حقائق کی سچائی اور بنیادی اُصولوں پر بھی شک کرنا ضروری سمجھتا ہے۔
  2. جب حضرت عیسیٰ المسیح کے ساتھ رُوح القدس تھا تو پھر اُس نے اُنہیں کیوں نہ بچایا؟
  3. اگر اللہ تعالیٰ اِس قابل تھے کہ وہ فوراً حضرت عیسیٰ ؑ کو زندہ اُوپر اُٹھا لیتے تو اِس سارے فریب کی ضرورت کیا تھی؟
  4. اِس نظریے کا اختتام چشم دید گواہوں کی گمراہی پر ہوگا…”اور لوگوں پر بھی جہالت اور دھوکہ دہی کا اثر چھوڑے گااور یہ کوئی خد اکی حکمت نہیں ہے۔“
  5. ”مشرق اور مغرب کے بے شمار مسیحیوں نے رپورٹ دی ہے کہ اُنہوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کوصلیب پر مرتے ہوئے دیکھا۔اگر ہم اُن کی اِس رپورٹ کا انکار کرتے ہیں تو یہ تواریخی حقائق پر شک کرنے کے مترادف ہو گا اور اِس طرح کے شک سے حضرت محمد ؐ کے نبی ہونے پر اور
    حضرت عیسیٰ ؑ کے نبی ہونے پر حتیٰ کہ اُن کی موجودگی اور تمام انبیا کرام کی موجودگی پر شک پیدا ہوتا ہے۔ 7

یہ پانچ مسائل تھے جن کا ذکر ا لرازی نے اپنی تفسیر میں کیا جس نے متبادل کے نظریے اور سوان نظریے دونوں کو غلط ثابت کیا لیکن یہ تمام اُس وقت حل ہو جاتے ہیں جب ہم قرآن مجید کی درست وضاحت کرتے ہیں کہ وہ درست طور پر کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کو یہودیوں نے نہیں بلکہ رومیوں نے مصلوب کیا تھا۔

واقعی قرآن شریف کے اقتباسات غیر واضح ہیں،اور کسی بھی طرح درست وضاحت نہیں دیتے۔سورۃ ال عمران 7:3ہمیں اپنی شخصی وضاحت کو قرآن مجید کی غیر واضح آیات میں شیخی کے ساتھ پڑھنے سے خبردارکرتی ہے،جسے ذاکر نائیک بڑے اعتماد سے کرتا دکھائی دیتا ہے۔جہاں قرآن مجیدسیدنا المسیح کے بارے میں غیر واضح ہے تو یہ سب سے بہتر ہو گا کہ جیسے قرآن مجید ہدایت کرتا ہے،ہمیں انجیل شریف کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔

”اگر تم کو اِس (کتاب کے)بارے میں جو ہم نے تم پر نازل کی ہو کچھ شک ہو تو جو لوگ تم سے پہلے کی (اُتری ہوئی)کتابیں پڑھتے ہیں
اُن سے پوچھ لو۔“سورۃ یونس94:10

جب ہم ویسا کرتے ہیں جیسے قرآن شریف ہدایت کرتا ہے اور اُن لوگوں سے پوچھتے ہیں جو انجیل شریف پڑھتے ہیں تو تمام شک دور ہو جاتا ہے۔نہ صرف ہم یسوع کی موت اور جی اُٹھنے کے بارے میں اوریہ کہ یہ سب کچھ کیسے ہوا اُس کے بارے میں جان جاتے ہیں،بلکہ یہ بھی جان جاتے ہیں کہ وہ کیوں مرا اور صدیوں پہلے یہ خدا کا منصوبہ کیوں تھا کہ اُسے صلیب پر مرنا ہے۔


 

حِصّہ دوم

انجیل شریف کیا کہتی ہے؟

ذاکر نائیک ایک غیر معروف پاسٹر بنام رُکن الدین پائیوکے ساتھ ایک بحث میں یہ مضکحہ خیز دعویٰ کرتا ہے کہ انجیل شریف ایک مرتبہ بھی یہ نہیں کہتی کہ حضرت
عیسیٰ علیہ السلام مرے تھے،اِس لئے مصلوبیت جس کے لئے مرنے والے کی موت کی ضرورت ہوتی ہے، کبھی واقع نہیں ہوئی۔ذاکر نائیک کے مطابق،اِس کے برعکس انجیل ایک مفروضے پر مبنی مصلوبیت کا ذکر کرتی ہے نہ کہ حقیقی صلیبی موت کا،جو ایک جھوٹ ہے کیونکہ
حضرت عیسیٰ المسیح حقیقت میں نہیں مرے تھے۔تاہم،جب ہم اِس سلسلے میں انجیل شریف کے اقتباسات کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم کیا دیکھتے ہیں؟یہ خود ذاکر نائیک ہے جو ہمارے سامنے مفروضے پیش کرتا ہے کیونکہ وہ کلّی طور پر انجیل شریف کی غلط تشریح کرتا ہے۔وہ لوگ جو انجیل شریف سے واقف ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک حماقت ہے۔یہ ایسے ہی ہے جیسے کہ قرآن مجید پر یہ بحث کرنا کہ حضرت محمد ﷺنے اپنے آپ کو کبھی نبی نہیں سمجھایا یہ کہ قرآن مجید جنت اور دوزخ کی موجودگی کا انکار کرتا ہے۔

میں یہاں انجیل شریف سے کچھ آیات لکھ رہاہوں جو اِس بات کو قطعاً ردّ کرتی ہیں:

انجیل شریف میں بارہ ایسی ناقابل ِ انکار آیات جو یہ کہتی ہیں کہ حضرت عیسیٰ المسیح مرے تھے:

  1. جب سپا ہیوں نے ”یسوع المسیح کو دیکھا کہ وہ مر چکا ہے تو اُس کی ٹانگیں نہ توڑیں“۔(یوحنا 33:19)
  2. ”یسوع (حضرت عیسیٰ المسیح)نے پھر بڑی آواز سے چِلّا کر جان دے دی“۔(متی 50:27)
  3. ”پھر یسوع (حضرت عیسیٰ المسیح)نے بڑی آواز سے چِلّا کر دم دے دیا“۔(مرقس37:15)
  4. ”فرشتے نے عورتوں سے کہا،”تم نہ ڈرو کیونکہ میں جانتا ہوں کہ تم یسوع (حضرت عیسیٰ المسیح)کو ڈھونڈتی ہوجو مصلوب ہوا تھا …
    جلد جا کر اُس کے شاگردوں سے کہوکہ و ہ مر دوں میں سے جی اُٹھا ہے“۔(متی 7,5:28)
  5. صوبہ دارنے ”اُسے (حضرت عیسیٰ المسیح)”دم دیتے ہوئے“ دیکھا (مرقس 39:15)”اورکئی عورتیں دور سے دیکھ رہی تھیں“(آیت 40)۔
  6. ”پیلاطُس نے تعجب کیا کہ وہ ایسا جلد مر گیا اور صوبہ دار کو بلا کر اُس سے پوچھا کہ اُس کومرے ہوئے دیر ہوگئی؟جب صوبہ دار سے حال معلوم کر لیا تو لاش یوسف کو دلادی۔“(مر قس 44:15-45)
  7. ”تم یسوع ناصری (حضرت عیسیٰ المسیح)کو جو مصلوب ہوا تھا ڈھونڈتی ہو۔“(مرقس 6:16)
  8. یسوع (حضرت عیسیٰ المسیح)نے اپنے دائیں ہاتھ مصلوب شدہ تائب ڈاکو سے کہا،”آج ہی تُو میرے ساتھ فردوس میں ہو گا“۔(لوقا43:23)
  9. یسوع (حضرت عیسیٰ علیہ السلام)نے کہا،”اے باپ! میں اپنی رُوح تیرے ہاتھوں میں سونپتا ہوں اور یہ کہہ کر دم دے دیا“
    (لوقا46:23)
  10. یسوع (حضرت عیسیٰ المسیح)نے کہا،”تمام ہوااور سر جھکا کر جان دے دی“(لوقا29:19)۔
  11. ”…ایک سپاہی نے بھالے سے اُس کی پسلی چھیدی اور فی الفور اُس سے خون اور پانی بہہ نکلا“]جو صرف اُسی شخص کے ساتھ ہوتا ہے جو مر چکا ہو[(یوحنا 34:19)
  12. ”وہ اب تک اُس نوشتہ کو نہ جانتے تھے جس کے مطابق اُس کا مُردوں میں سے جی اُٹھنا ضرورتھا۔“(یوحنا 9:20)

انجیل شریف کاکہنا ناقابل انکارہے کہ سیدنا حضرت عیسیٰ المسیح صلیب پر مؤئے تھے۔ذاکر نائیک کے دعوے کو انجیل شریف کے سادہ سے الفاظ کے ذریعے کئی بار ٹھکرایا گیا ہے۔ذاکر نائیک کہتا ہے کہ انجیل شریف یہ کبھی نہیں کہتی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مرے تھے۔
درحقیقت،انجیل شریف اُن کی موت کو کئی طریقے سے پیش کرتی ہے تاکہ ا س میں کوئی شک نہ رہے کہ دراصل کیا ہو ا تھا۔

انجیل شریف کے اِن توضیحی بیانات کے ساتھ ساتھ، نئے عہد نامے میں وضاحت کے ساتھ کم از کم 27مزید مقامات پر حضرت عیسیٰ المسیح کی موت کا دعویٰ کیا گیا ہے:اعما ل 24,23:2؛18:13؛رومیوں 25:4؛10:5؛10,9,5,4,3:6؛-1کرنتھیوں
26:11؛21:15؛-2کرنتھیوں 10:4؛افسیوں 16:2؛فلپیوں 8:2؛10:3؛کُلسیوں 22:1؛ عبرانیوں 9:2؛14:9؛-1پطرس 18:3؛مکا شفہ 18:1؛یوحنا 51:11؛-1پطرس 24:2؛کُلسیوں 20:1؛اور عبرانیوں 2:12۔

نائیک کی ناقابل ِ چیلنج گستاخی

ذاکر نائیک اِس بات پر بضد ہونے کی کوشش کرتا ہے کہ انجیل شریف مصلوبیت کا انکار کرتی ہے۔یہ ایسے ہے جیسے کہ میں ایک یونیورسٹی کے پروفیسرکو جانتا ہوں جو یہ دلیل دیتا ہے کہ قرآن مجید کا مرکزی پیغام انسان کا دوسرا جنم ہے۔بطور لیکچرر ہوتے ہوئے اُس کے باعزت عہدے کی وجہ سے اُس کا کوئی بھی شاگرد اُسے چیلنج کرنے کی جرأت نہیں کرتا۔بالکل اِسی طرح نائیک مناظرے اورفن ِ خطابت کی وجہ سے ایسا ہی ناممکن دعویٰ کرتا ہے۔اُس کا کام تب زیادہ آسان ہو جاتا ہے کہ اُس کے سامعین میں سے زیادہ تر نے کبھی بھی قرآن مجید اور انجیل شریف اپنی مادری زبان میں نہیں پڑھی۔


 

حِصّہ سوم

توریت شریف اور زبور شریف کیا کہتی ہیں؟

توریت شریف اور زبور شریف میں پہلے سے مذکور مصلوبیت

جب اُن کے شاگرد نے اُنہیں مصلوب ہونے سے روکا تو حضرت عیسیٰ المسیح نے اُسے ملامت کی اور کہا:

”کیا تُو نہیں سمجھتا کہ میں اپنے باپ سے منت کر سکتا ہوں اور وہ فرشتوں کے بارہ تُمن سے زیادہ میرے پاس ابھی موجود کر دے گا؟ مگر و ہ نوشتے کہ یونہی ہونا ضرور ہے کیونکر پورے ہو نگے؟“(متی 53:26)

سید نا عیسیٰ المسیح یہ کہہ رہے تھے کہ اُن کی مصلوبیت دراصل اللہ تعالیٰ کے ایک طویل طے شدہ منصوبے کا عروج ہے جو توریت شریف
زبور شریف اور انبیاکرام کے صحائف میں پہلے سے مذکور تھا۔واقعی،حضرت عیسیٰ المسیح سے کوئی 1500 سال پہلے یہ صحائف مختلف
طریقوں سے اُن کی مصلوبیت کا ذکر کرتے ہیں۔یہ سب اکٹھے مل کررفتہ رفتہ ایک باغی اور نافرمان انسانیت تک پہنچنے اور اُنہیں خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلانے کی کہانی سے پردہ اُٹھاتے ہیں۔ ا گلی سطور میں ہم خدا کے اِس منصوبے کا جائزہ لیں گے اور پھرپچھلے صحائف میں حضرت عیسیٰ المسیح کی موت کی پیشین گوئیاں پیش کریں گے۔

توریت شریف کی پہلی کتاب پیدایش کی طرف رجوع کرتے ہیں تو ہم دنیا اور جو کچھ اِس میں ہے،بشمول انسان کے جو اِس تخلیق کا نقطہ ِ عروج ہے،رب العزت کی کامل تخلیق کے منصوبے کا ذکر پڑھتے ہیں۔اور اِس کے تقریباً فوراً بعد ہی حضرت آدم ؑ اور بی بی حّوا ؑ کی بغاوت اور گناہ کا ذکر آتا ہے۔اُس گناہ کے نتیجے میں اُنہیں جنت میں سے نکال دیا گیا اور اُنہیں اُن کے نافرمانی کے نتائج کے ساتھ زندگی بسر کرنے کے لئے چھوڑ دیا گیا جن میں حسد،غصہ،نفرت،تکبّر،ہوس،لالچ،اور حتمی موت شامل ہیں۔

تا ہم اللہ تعالیٰ نے یہیں پر اپنی مخلوق کے ساتھ ناطہ توڑ نہیں لیا۔اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو بلایا اور اُنہیں برکت دینے اور ایک بڑی قوم بنانے کا وعدہ کیا۔اللہ تعالیٰ نے پیدایش 1:12-3 میں مزید یہ وعدہ کیا کہ حضرت ابراہیم اور اُس کی نسل کے وسیلے سے تمام قومیں برکت پائیں گی۔ 400 سال بعد حضرت موسیٰ کے زمانے میں حضرت ابراہیم ؑ کی نسل حضرت اضحاق ؑ اور حضرت یعقوب ؑ کی نسل سے 12 قبیلوں کی ایک بڑی قوم کی صورت میں یہ وعدے سچے ثابت ہوئے۔اُس نسل کے ذریعے سے خداوند تعالیٰ نے اپنی کتابوں کو اور انسان کے گناہ اور اُس کے سبب سے پیدا ہونے والے دُکھ والم کے لئے اپنے حل کو ظاہر کرنا شروع کیا۔

کفارہ اور قربانی

تمام باتوں میں سے سب سے پہلی بات جو خداوند تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ پر ظاہر کی وہ لوگوں کے گناہ کی سنگینی اور معافی کا وہ وسیلہ تھا جو خدا نے مہیا کیا تھا۔یہ اُس نے قربانی کے نظام کو مقرر کر کے مہیا کیا۔اگر کوئی نافرمانی یا گناہ کرتا تواُسے معافی حاصل کرنے کے لئے ایک جانور قربان کرنا ہوتا تھا۔مثلاً توریت شریف کی تیسری کتاب احبار اپنے 6اور7باب میں مختلف اقسام کی نافرمانیوں کے لئے دی جانے والی قربانیوں کا ذکر کرتی ہے۔ہر ایک نافرمانی کے لئے قصوروار شخص کو ایک جانور کی قربانی دینی ہوتی تھی جیسے کہ گائے،بکرا،یا بھیڑوغیرہ۔یہ جانور اُسی طرح رسمی طور پر ذبح ہوتا جیسے آج جانور عیدالاضحٰی پر ذبح کئے جاتے ہیں اور اُس جانور کا خون مذبح کے گردا گرد چھڑکا جاتا۔

اللہ تعالیٰ کا قربانیوں کا یہ نظام مقرر کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ سب سے پہلے اُنہیں گناہ کی سنگینی کا احساس دلانا چاہتا تھا۔ جیسے کہ انجیل شریف میں لکھا ہے،”گناہ کی مزدوری موت ہے“(رومیوں 23:6)۔یہ اُس وسیلے کو بھی ظاہر کرتا ہے جس کے ذریعے خداوند تعالیٰ معافی مہیا کرتا ہے یعنی موت کے ذریعے جسے خون چھڑکنے میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اِسی لئے انجیل شریف عبرانیوں 22:9میں ذکر کرتی ہے،”خون بہائے بغیر معافی نہیں ہوتی۔“قربانی کا یہی نظریہ ہم عقیقہ کی دعا ؤں میں دیکھتے ہیں جو آج بھی کسی نومولود بچے کی پیدائش پر مانگیں جاتی ہیں۔آج بھی
اسلامی رسم کے مطابق دو بکرے ایک لڑکے کے لئے اور ایک بکرا ایک لڑکی کے لئے قربان کیا جاتا ہے۔اِس سے پہلے کہ قربانی کی جائے یہ دُعا پڑھی جاتی ہے:

بِسْمِ اللهِ وَبِا للهِ اَللَّهُمَّ هَاذِهِ عَقِيْقَةٌ عَنْ….بْنِ….لَحْمُهَا بِلَحْمِهِ وَدَمُهَا بِدَ مِهِ وَ عَظْمُهَا بِعَظْمِهِ وَشَعْرُهَا بِشَعْرِهِ وَ جِلْدُهَابِجِلْدِهِ اَللَّهُمَّ اجْعَلْهَا وَقَاءًلاِلِ مُحَمَّدٍ عَلَيْهِ وَاَلِهِ السَّلاَمُ

(عربی آیات برائے عقیقہ)
”اے اللہ!یہ عقیقہ میرے بچے۔۔۔۔۔۔۔کا ہے،

اِس کے گوشت کو اُس کے گوشت کے لئے،

اِس کی جان کو اُس کی جان کے لئے،

اِس کی ہڈی کو اُس کی ہڈیوں کے لئے،

اِس کی جلد کو اُس کی جلد کے لئے،

اِس کے بال اُس کے بالو ں کے لئے صدقہ ہیں۔

اے اللہ! اِسے جہنم سے نجات کے لئے اُس کا فدیہ بنا دے۔“ 8

آخری قربانی

اگر خدا کی معافی کا وسیلہ موسیٰ کی قربانیوں کے نظام کے ساتھ ختم ہو جاتا تو پھر لوگ کئی وجوہات کی وجہ سے مایوس او رغمگین ہی رہتے۔اُن
قربانیوں کا کوئی اختتام نہیں ہونا تھا۔کسی بھی نئے گناہ یا نافرمانی کے کام کے لئے ایک نہ ختم ہونے والے سلسلے کے ساتھ ایک اَور قربانی کی ضرورت پڑنی تھی۔اور اِس امر کی سب سے بُری بات یہ تھی کہ غریب لوگوں کے لئے قربانی کے تمام مہنگے جانوروں کے اخراجات برداشت کرنا مشکل تھااور کچھ گناہوں کی قربانی نہیں چڑھائی جاسکتی تھی۔شرعی طور پر مقرر کردہ مہنگے جانور غریب لوگوں کی پہنچ سے باہر تھے۔خوش
قسمتی سے ایسی قربانیاں خود بھی اپنے اندر اختتام کے معنی نہیں رکھتی تھیں۔وہ قربانیاں ایک ایسی حتمی اور کامل قربانی کی طرف اشارہ کرتی تھیں جو خدا مستقبل میں خود فراہم کرنے کو تھا۔

مستقبل کی وہ کامل اور حتمی قربانی مُقدس صحا ئف کے مرکزی خیالات میں سے ایک خیال بن گئی۔اللہ تبارک وتعالیٰ کی اِس مستقبل کی قربانی کو بیان کرنے والے مختلف اقتباسات ایک ایسی شخصیت کے گرد گھومتے ہیں جسے بھیجنے کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایااور اُنہیں ”مسیحا“ کہا جاتا ہے(جس کا مطلب ہے،مَسح کیا ہوا،یا چُنا ہوا)۔آنے والے مسیحا کو اُن نشانات کی وجہ سے پہچانا جا نا تھا جو اُس کے ساتھ ظاہر ہونے تھے۔مثلاً وہ ایک کنواری سے پیدا ہو ں گے،وہ حضرت داؤد کے خاندان سے ہوں گے،جوآبائی شہر میں پیدا ہو ں گے۔وہ بہت سے عجائب اور نشانات دکھائیں گے حتیٰ کہ مُردوں کو بھی زندہ کریں گے۔لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگرچہ وہ خود خطا یا گناہ سے پاک ہونے کے باوجود سزا پائے گا او رہلاک کیا جائے گااور خود تیسرے دن مُردوں میں سے جی اُٹھے گا۔وہ اپنے آپ کو آخری اور حتمی قربانی ہونے کے لئے پیش کرے گا اور قربانیوں کے تمام نظام کا خاتمہ کرے گا۔

سید ناعیسیٰ المسیح کی موت کی پیشین گوئیاں۔

میں نے ذیل میں مسیحا(سیدناعیسیٰ المسیح) سے متعلق خاص طور پر اُن کی گرفتاری،پیشی اور موت کے حوالے سے چند مختلف پیشین گوئیوں
کا ذکر کیا ہے۔یہ سب اُن مختلف انبیا کرام کی کتب سے لی گئی ہیں جو حضرت ابراہیم ؑ،حضرت اسحاق ؑ اور حضرت یعقوب ؑ کی نسل سے تھے اور جو حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش سے 1000سے 500سال پہلے لکھی گئی تھیں۔

  1. ایک دوست نے دھوکا دیا (زبور 9:41؛اورمتی 4:10)
  2. چاندی(سونا نہیں) کے تیس سکوں کے عوض بیچا گیا (زکریاہ 12:11؛اورمتی 15:26)
  3. روپیہ خدا کے گھر میں پھینک دیا گیا (رکھا نہیں گیا) (زکریاہ 13:11ب؛اور متی 5:27)
  4. پیسہ کمہار کا کھیت خریدنے میں استعمال کیا گیا (زکریاہ 13:11ب؛اور متی 7:27)
  5. شاگردوں نے تنہا چھوڑ دیا (زکریاہ 7:13؛اور مرقس /50:14متی 13:26)
  6. جھوٹے گواہوں نے الزام لگایا (زبور11:35 اور متی 59:26-61)
  7. الزام لگانے والوں کے سامنے خاموش (یسعیاہ 7:53؛اور متی 12:27-19)
  8. گھایل کیا گیا اور کُچلا گیا (یسعیاہ 5:53؛اور متی 26:27)
  9. پیٹا گیا اوراُس پر تھوکا گیا (یسعیاہ 6:50؛اورمتی 67:26)
  10. مضحکہ اُڑایا گیا (زبور8,7:22اور متی 31:27)
  11. صلیب کے نیچے گر گیا (زبور25,24:109؛اور لوقا26:23اوریوحنا 17:19)
  12. ہاتھ اور پاؤں چھیدے گئے (زبور 16:22؛اور لوقا 33:23)
  13. ڈاکوؤں کے ساتھ مصلوب کیا گیا (یسعیاہ 12:53؛اور متی 38:27)
  14. اپنے ستانے والوں کے لئے شفاعت کی (یسعیاہ 12:53؛اور لوقا34:23)
  15. اُس کے دوست دُور کھڑے ہو گئے (زبور 11:38؛اور لوقا49:23)
  16. لوگوں نے سر ہلائے (زبور25:109؛اور متی 39:27)
  17. لوگوں نے اُسے دیکھا (زبور 17:22؛اور لوقا35:23)
  18. کپڑے پھاڑے اور قرعہ ڈالا (زبور18:22؛اور یوحنا 24,23:19)
  19. اُسے پیاس لگی (زبور21:69؛اور یوحنا 28:19)
  20. پت ملی ہوئی مے پیش کی (زبور21:69؛اور متی 34:27)
  21. تنہا چھوڑے جانے پر چِلّایا (زبور 1:22؛اور متی 46:27)
  22. ہڈیاں نہ توڑی گئیں (زبور20:34؛اور یوحنا 33:19)
  23. پسلی چھیدی گئی (زکریاہ 10:12؛اور یوحنا 34:19)
  24. زمین پر اندھیرا چھا گیا (عاموس 9:8؛اورمتی 45:27)
  25. ایک دولت مندکی قبر میں دفن ہوا (یسعیاہ 9:53؛دیکھئے متی -57:27 60)

جیسے کہ ہر وہ شخص جس نے قرآن مجید کا مطالعہ کیا ہے وہ جانتا ہے کہ آنے والے مسیحا کے بارے میں خدا کی جتنی بھی نبوتیں تھیں وہ درحقیقت
سید نا عیسیٰ نے پوری کیں۔ اُنہیں انجیل شریف اور قرآن مجید دونوں میں مسیح کہا گیا ہے۔اورخدا کے مسیح کی گرفتاری، آزمائش اور صلیب پر موت کے بارے میں پیشین گوئیاں حضرت عیسیٰ المسیح کی زندگی میں پوری ہوئیں۔مندرجہ بالا دئیے گئے حوالہ جات کی فہرست میں سے پہلا دیا گیا حوالہ نبوت میں سے ہے۔اور پھر ہر موضوع پر بیان شدہ دوسراحوالہ انجیل شریف میں درج ہے جو یہ بتاتا ہے کہ
کس طرح وہ نبوت حضرت عیسیٰ کی زندگی میں پوری ہوئی۔

سید نا حضرت عیسیٰ المسیح کی اپنی موت کے بارے میں پیشین گوئیاں

اِس طرح مسیحا کی موت اور مُردوں میں سے جی اُٹھنا کوئی ایسی بات نہیں تھی جو غیر متوقع ہو،کیونکہ اِس کی توریت شریف،زبور شریف اور انبیا کرام کی کتابوں میں باربار پیشین گوئی کی گئی تھی۔ تاہم اگر کوئی شخص ابتدائی صحائف کی تمام پیشین گوئیاں حضرت عیسیٰ ا لمسیح نے اُس بارے میں کوئی شک نہیں چھوڑا۔اُنہوں نے خود اپنی تین سالہ خدمت کے دوران بارباریہ پیشین گوئی کہ وہ صحائف کی تکمیل کے لئے دکھ اُٹھائے گا اور یروشلیم میں مرے گا۔اگر حضرت عیسیٰ المسیح کو وہی کچھ کرنا تھا جو اللہ تعالیٰ نے اُن کی پیدائش سے بہت پہلے ہی طے کر لیا تھاتو پھر ہمارے گناہوں کی خاطر کفارے جیسی موت کو درگزر نہیں کیا جا سکتا تھا۔بحرحال اُن کی موت اُن کے دنیا میں آنے کا بنیادی مقصد تھی:

اپنی خدمت میں کئی مقامات پر اپنی عظیم تعلیم اور معجزانہ کام کے دوران اُنہوں نے اپنے شاگردوں کو بتایاکہ ابھی اُن کا وقت نہیں آیا۔اپنی گرفتاری اور پیشی سے تھوڑی ہی دیر پہلے بالآخر اُ نہوں نے اپنے شاگردوں کو بتایا کہ اُن کا وقت آگیا تھا۔وہ وقت جس کے لئے وہ دنیا میں آئے تھے یعنی اُن کی موت اور پھر جی اُٹھنا۔ ذیل میں وہ حوالہ جات دئیے گئے ہیں جو اُ نہوں نے خود اپنی موت اور مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بارے میں فرمائے:

  1. متی 38:12-40
  2. متی 21:16
  3. متی 23,22:17
  4. متی 18:20-29
  5. متی 32:26
  6. مرقس 10:9
  7. لوقا 22:9-27
  8. لوقا 44:9
  9. لوقا 50:12
  10. لوقا 25:17
  11. لوقا 31:18-33
  12. لوقا 7:24
  13. لوقا 25:24-27
  14. یوحنا 19:2-22
  15. یوحنا 34:12
  16. یوحنا 14-16 ابواب

یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ مندرجہ بالا حوالہ جات میں سے ہر ایک میں حضرت عیسیٰ المسیح اِس بات کے بارے میں بالکل واضح تھے کہ وہ یروشلیم میں دکھ اُٹھائیں گے اور وہیں موت کا مزہ چکھیں گے۔یہ وہ بات نہیں تھی جو اُن کے شاگرد سننے کی اُمید میں تھے،مگر اُنہوں نے تاکید کی کہ وہ خدا کی حقیقت کا سامناکریں۔


 

حِصّہ چہارم

ذاکر نائیک کو باطل ثابت کیا

سیدنا یسوع المسیح کے شاگرد مصلوبیت کے گواہ ہیں

ذاکر نائیک یہ کہہ کر اپنے دعوے کا کہ عیسیٰ المسیح مصلوب نہیں ہوئے تھے دفاع کرتا ہے کہ اُن کے شاگردوں میں سے کوئی بھی مصلوبیت کے وقت موجود نہیں تھا کیونکہ جب اُنہیں گرفتار کیا گیا تو وہ سب اُسے اکیلا چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ایسا کرنے سے ذاکر نائیک ایک مرتبہ پھر اپنے تعصب کی نمائش کرتا ہے اور دھوکا دینے کی خواہش کرتا ہے۔اُس نے یقینا انجیل شریف پڑھی ہے اور وہ سب بہتر جانتا ہے مگر پھر بھی اپنا فریبی دعویٰ قائم کرتا ہے۔

جی ہاں! انجیل شریف حضرت عیسیٰ المسیح کی گرفتاری پر ابتدا میں اُن کے شاگردوں کے بھاگ جانے کا ذکر کرتی ہے۔مگر یہ اِس بات کو بھی درج کرتی ہے کہ کس طرح اُن کے چند شاگرد کچھ فاصلہ رکھ کراُن سپاہیوں کے پیچھے ہو لئے جو اُنہیں پیشی کے لئے لے گئے (متی 58:26؛مرقس54:14)۔شروع میں بھاگ جانے کے بعد،پطرس نے پیشی تک اُن کا پیچھا کیا اور وہ اُنہیں دیکھ رہا تھا(لوقا61:22؛مرقس66:14)اور یوحنا 27,26:19میں درج ہے کہ درحقیقت کس طرح سیدنا مسیح نے صلیب پر اپنے شاگرد یوحنا اور اپنی والدہ ماجدہ سے گفتگو کی۔

ذاکر نائیک ایسے جھوٹے بیانات کیوں دے گاجوانجیل شریف میں درج اِن واضح حوا لہ جات سے تضاد رکھتے ہیں؟ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ذاکر نائیک سچائی تلاش نہیں کرنا چاہتا بلکہ محض ایک دلیل جیتنا چاہتا ہے۔اگر اُسے چھپانا ہے،غلط بات گھڑنا ہے اور لوگوں کو گمراہ کرنا ہے تو پھر وہ خوش ہے کیونکہ یہ سب کچھ اُس کی دلیل کو سچا ثابت کرنے میں مددگار ہے۔

دھوکا دینے کی خواہش تب دوبارہ جنم لیتی ہے جب ذاکر نائیک یہ دعویٰ کرتا ہے کہ حضرت عیسیٰ المسیح کے نہ مرنے کا یہ بھی ثبوت ہے کہ اُس کی ٹانگیں نہیں توڑی گئی تھیں۔ذاکر نائیک کے مطابق دوسرے دو ڈاکوؤں کی ٹانگیں توڑی گئیں تاکہ وہ جلد مر جائیں مگر حضرت عیسیٰ المیسح کی ٹانگیں نہیں توڑی گئیں،اِس کا مطلب ہے کہ وہ نہیں مرے تھے۔جس دن رُکن الدین پائیو کے ساتھ مناظرہ ہوا،اُس دن سننے والوں نے،جن میں سے بہت سے انجیل شریف کے متعلق کچھ نہیں جانتے،محض یہ فرض کر سکتے تھے کہ ذاکر نائیک کا اُٹھایا ہوا نکتہ درست ہے۔ذاکر نائیک نے انجیل شریف کے واقعہ کاصرف ذکر کیا تھامگر پوراحوالہ نہیں پڑھا تھاکیونکہ یہ کلی طور پر اُس کے دعوے کو جھٹلاتا ہے۔یہ حوالہ کچھ یوں ہے:

”پس سپاہیوں نے آکر پہلے اور دوسرے شخص کی ٹانگیں توڑیں جو اُس کے ساتھ مصلوب ہوئے تھے۔لیکن جب اُنہوں نے یسوع کے پاس آکر دیکھا کہ وہ مر چکا ہے تو اُس کی ٹانگیں نہ توڑیں۔مگر اُن میں سے ایک سپاہی نے بھالے سے اُس کی پسلی چھیدی اور فی الفور اُس سے خون اور پانی بہہ نکلا“(یوحنا 33,32:19)۔

اِس حوالہ میں درحقیقت ہم کیا دیکھتے ہیں؟ہم ذاکر نائیک کے دعوے کا بالکل اُلٹ دیکھتے ہیں۔یہ حوالہ ہمیں بتاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ المسیح کی ٹانگیں نہ توڑے جانے کا یہ ہر گز مطلب نہیں کہ وہ مرے نہیں تھے بلکہ یہ ہے کہ وہ پہلے ہی سے مر چکے تھے۔دوسرے دو ڈاکو جو ابھی تک زندہ تھے،اُنکے جلد مرنے کے لئے اُن کی ٹانگیں توڑی گئیں۔حضرت عیسیٰ المسیح کو اِس کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ وہ پہلے ہی مر چکے تھے۔
اِس حوالہ سے زیادہ کچھ اور حضرت عیسیٰ المسیح کی موت کا ذکر نہیں کر سکتا۔پھر بھی ذاکر نائیک اپنے سامعین کو اِس کے بالکل برعکس یقین دلانے کی کوشش کرتا ہے۔

صرف یہی نہیں بلکہ یہ حوالہ سپا ہی کے نیزہ سے یسوع کے پہلو کے چھیدے جانے کا ذکر کرتے ہوئے بیان کرتا ہے کہ پانی اور خون بہہ نکلا۔ یہ آپ کی موت کا واضح نشان تھا کیونکہ مو ت کے بعد ہی اِس طرح سے پانی خون سے جدا ہوتا ہے۔

ایک جی اُٹھا بدن

ذاکرنائیک کے اِس کلی غلط دعوے کے ساتھ ساتھ کہ انجیل شریف یہ نہیں کہتی کہ سیدناعیسیٰ المسیح صلیب پر مرے تھے، ایک دوسرابڑا دعویٰ
حضرت عیسیٰ المسیح کے مرنے کے خلاف آپ کا جی اُٹھا بدن ہے۔ سب سے پہلے ذاکر نائیک -1کرنتھیوں 15باب کا ذکر کرتا ہے جہاں حضرت عیسیٰ المسیح کی موت اور جی اُٹھنے کا ذکر ہے۔ذاکر نائیک کے مطابق،یہ حوالہ فرماتا ہے کہ جب تک ہم مر نہیں جاتے ہمارا ایک جسمانی بدن ہے۔پھرہم بغیر بدنوں کے روحانی صورت میں مُردوں میں سے زندہ کئے جاتے ہیں۔چونکہ حضرت عیسیٰ المسیح کا ایک جِلایا ہوا بدن تھا،اِس لئے وہ حقیقت میں مر نہیں سکتے تھے۔

ایک مرتبہ پھر ذاکر نائیک جان بوجھ کر اپنے سامعین کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہا ہے۔انجیل شریف کے اِس حوالہ کی اُس کی تشریح
اُس بات سے کلی طور پر تضاد رکھتی ہے جو درحقیقت یہ حوالہ بیان کرتا ہے۔-1کرنتھیوں کا یہ اقتباس پہلے ایک سوال پوچھتا ہے،”مُردے کس طرح جی اُٹھتے ہیں اور کیسے جسم کے ساتھ آتے ہیں؟“42-44آیات مبارکہ میں اِن کا جواب دیا جاتا ہے،

”مُردوں کی قیامت بھی ایسی ہی ہے۔جسم فنا کی حالت میں بویا جاتا ہے اور بقا کی حالت میں جی اُٹھتا ہے۔بے حرمتی کی حالت میں بویا جاتا ہے اور جلال کی حالت میں جی اُٹھتا ہے۔کمزوری کی حالت میں بویا جاتا ہے اور قوت کی حالت میں جی اُٹھتا ہے۔نفسانی جسم بویا جاتا ہے اور روحانی جسم جی اُٹھتا ہے“(-1کرنتھیوں 42:15-44)۔

جو ذاکر نائیک کہنے کی کوشش کرتا ہے وہ یہاں نہیں ہے کہ ہمارا پہلے خون او رگوشت کا جسم ہوتا ہے اور پھر موت کے بعدبغیر بدن کے ایک روحانی وجود ہو تا ہے۔کوئی الہامی کتاب ایسے کفر کی تعلیم نہیں دیتی اور یہ حوالہ کوئی انہونی نہیں۔
تضاد جسمانی وجوداو ر روحانی وجود کے درمیان نہیں ہے جس کا یقین ہمیں ذاکر نائیک دلانا چاہتا ہے۔بلکہ اِس کی بجائے یہ دو اقسام کے جسموں کی بات کرتا ہے -موت سے پہلے ایک عام بدن اور پھر موت اور جِلائے جانے کے بعد ایک روحانی جسم۔جیسا کہ مندرجہ بالا مذکور حوالہ وضاحت کرتا ہے،’فطری بدن‘فنا ہو جاتا ہے اور یہ اکثر بے حرمت اور کمزور ہوتا ہے،جب کہ جِلایا ہوا جسم ایک ’روحانی بدن‘ ہوتا ہے،جس کا مطلب ہے کہ وہ قائم رہتا،جلال پاتا اور طاقت ور ہوتا ہے۔

ہمارے جِلائے ہوئے اور روحانی بدن کیسے ہوں گے یہ ہم صرف آسمان پر اُٹھائے جانے والے دن ہی پورے طور پر جان سکیں گے۔لیکن
جب ہم حضرت یسوع المسیح کو مُردوں میں سے زندہ ہونے کے بعد دیکھتے ہیں تو ہم اُس حالت کی ایک جھلک دیکھ لیتے ہیں۔نہ صرف زندہ ہونے کے بعد چالیس دن بعد اپنے شاگردوں کے سامنے روحانی بدن میں آسمان پر اُٹھایا گیا،بلکہ وہ بند دروازوں میں سے گزرنے کی بھی صلاحیت رکھتا تھا جب وہ اپنے شاگردوں پر اُس وقت ظاہر ہوا جب وہ اپنے کمرے میں بند تھے (متی 19:20)۔حضرت یسوع المسیح کا اپنے شاگردوں کے سامنے کھانا اور اپنی مصلوبیت کے زخم اُن کو دکھانا یہ ثابت کرنا نہیں تھا کہ وہ مرے نہیں تھے۔بلکہ اِس کے برعکس،اُن پر یہ ثابت کرنا تھاکہ وہ کوئی بھوت پریت نہیں تھے،کیونکہ وہ بِنا کسی شک کہ یہ جانتے تھے کہ وہ مر چکے تھے اور اُنہوں نے یہ فرض کر لیا تھا کہ اب وہ ایک بھوت کی شکل میں واپس آئے تھے۔

پہلا نشان: تباہ شدہ ہیکل

دو مزید ایسے نشانات ہیں جن کا تعلق سیدنا یسوع المسیح کی موت سے ہے،جن میں سے ایک کا حوالہ ذاکر نائیک دیتا ہے اور دوسرے کو بڑی آسانی سے نظر انداز کر جاتا ہے۔جس حوالہ کو وہ نظر انداز کرتا ہے وہ یوحنا 22-19:2ہے جہاں یہودی راہنما یروشلیم میں ہیکل کی جگہ پر حضرت عیسیٰ المسیح کے ساتھ جھگڑ رہے ہیں۔وہ حضرت عیسیٰ المسیح سے پوچھتے ہیں کہ ایسی تعلیم دینے اور دیگر کاموں کو کرنے کے اختیار کا اُن کے پاس کیا ثبوت ہے۔حوالہ میں کچھ یوں لکھا ہے:

”یسوع نے جواب میں اُن سے کہا اِس مقدس کو ڈھا دو تو میں اُسے تین دن میں کھڑا کر دوں گا۔یہودیوں نے کہا چھیالیس برس میں یہ مقدس بنا ہے اور کیا تُو اُسے تین دن میں کھڑا کر دے گا۔مگر اُس نے اپنے بدن کے مقدس کے بارے میں کہا تھا۔پس جب وہ مُردوں میں سے جی اُٹھا تو اُس کے شاگردوں کو یاد آیا کہ اُس نے یہ کہا تھا اور اُنہوں نے کتاب مقدس اور اُس قول کا جو یسوع نے کہا تھا یقین کیا“
(یوحنا 19:2-22)

یہ حوالہ کیا کہتا ہے؟انجیل شریف یہ تعلیم دیتی ہے کہ ہمارے بدن گویا ہیکل یا عبادت گاہیں ہیں جہاں اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جاتی ہے
(-1کرنتھیوں 16:3)۔اِس حوالے میں،حضرت عیسیٰ المسیح ایک مرتبہ پھراپنی موت اور تین دن بعد جی اُٹھنے کی پیشین گوئی کرنے کے لئے اپنے بدن کو بطورہیکل کے استعمال کرتے ہیں۔

دوسرا نشان: یوناہ کا نشان

ذاکر نائیک دوسرے نشان کا بھی حوالہ دیتا ہے یعنی یوناہ نبی کا نشان۔اُس حوالے میں یہودی راہنما دوبارہ اُ س کے اختیار کے بارے میں اُس سے ثبوت مانگتے ہیں اور اِس مرتبہ وہ کوئی نشان یا معجزہ طلب کرتے ہیں۔حوالے میں لکھا ہے:

”اُس پر بعض فقیہوں اور فریسیوں نے جواب میں اُس سے کہا اے اُستاد! ہم تجھ سے ایک نشان دیکھنا چاہتے ہیں۔اُس نے جواب دے کر اُن سے کہا اِس زمانہ کے بُرے اور زناکار لوگ نشان طلب کرتے ہیں مگر یوناہ نبی کے نشان کے سوا کوئی اَور نشان اُن کو نہ دیا جائے گا۔کیونکہ جیسے یوناہ تین رات دن مچھلی کے پیٹ میں رہا ویسے ہی ابن ِ آدم تین رات دن زمین کے اندر رہے گا۔“(متی 39:12-40)

ذاکر نائیک یہ دعویٰ کرتا ہے کہ جیسے یوناہ وہیل مچھلی کے پیٹ میں تین رات دن زندہ رہا اُسی طرح حضرت مسیح کو زمین کے پیٹ یعنی قبر میں تین رات دن زندہ رہنا چاہئے تھا۔لیکن حضرت عیسیٰ ؑ کے کہنے کا یہ ہر گز مطلب نہ تھا۔حضرت عیسیٰ المسیح نے پہلے بھی کئی مرتبہ یہ کہا تھا کہ وہ
یروشلیم میں دکھ اُٹھانے اور مرنے والا تھا۔نکتہ یہ نہیں کہ حضرت عیسیٰ کو ہر طرح سے یوناہ کی طرح ہونا تھایعنی دونوں زندہ ہوتے،اپنے علاقوں میں جاتے وقت ایک جیسی عمر ہوتی،ایک جیسی ڈاڑھی ہوتی،دونوں نے چوغہ پہنا ہوتا وغیرہ وغیرہ۔یہ بات نہیں تھی۔نکتہ یہ تھا کہ جب حضرت عیسیٰ المسیح مرے گا تو اُسے تین دن تک قبر میں رکھا جائے گا۔اُتنے ہی عرصے تک جتنی دیر یوناہ مچھلی کے پیٹ میں رہااور پھر وہ بھی زندہ باہر آئے گا۔جب وہ تین دن بعد مُردوں میں سے جِلایا گیاتو پھر یہ وہ اعلیٰ و ارفع نشان ہو گاکہ یہ وہی ہے جس نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ چنا ہوا مسیحا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بھیجا تھا۔ذاکر نائیک جیسا چاہتا ہے وہ حوالہ کو اُسی طرح پیش کرتا ہے جیسا وہ پسند کرے گا نہ کہ جیسا حضرت عیسیٰ المسیح کا واضح مطلب تھا۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ کس طرح ذاکر نائیک کی منطق بالکل ایسی ہی ایک نبوت پر لاگو ہوتی ہے جو حضرت عیسیٰ ؑ نے اپنی موت کے بارے میں فرمائی۔اُنہو ں نے اپنے بارے میں فرمایا،

”اور جس طرح موسیٰ ؑ نے سانپ کو بیابان میں اُونچے پر چڑھایا اُسی طرح ضرور ہے کہ ابن ِ آدم بھی اُونچے پر چڑھایا جائے تاکہ جو کوئی ایمان لائے اُس میں ہمیشہ کی زندگی پائے“(یوحنا 15,14:3)۔

یہاں موسیٰ ؑ کے بنائے ہوئے پیتل کے سانپ(دیکھئے گنتی 9:21)اور حضرت عیسیٰ ؑ سے مناسبت پیدا کی گئی ہے،دونوں کو دوسروں کی نجات کی خاطر اُونچے پر چڑھایا گیا۔اب ذرا ذاکر نائیک کی منطق دیکھئے،چونکہ اِس سے پہلے کہ پیتل کے سانپ کو بَلّی پر چڑھایا جائے وہ
پہلے،اُس کے دوران اور بعد میں بھی مُردہ تھا،اِس لئے حضرت عیسیٰ المسیح کو بھی صلیب پر چڑھانے سے پہلے،اُس کے دوران اور بعد میں مُردہ ہونا چاہئے تھا۔

تاریخی اندراج

اِس مناظرے میں مسلمان اور مسیحی دونوں طبقوں کے افراد کی شاید جانب دار آراء ہو سکتی ہیں،اِس لئے دیکھتے ہیں کہ لادین علما کیا کہتے ہیں؟تاریخی ریکارڈ کیا کہتا ہے؟غیر ایماندار مُتشکک لوگوں نے جی اُٹھنے کا انکار کیا ہے لیکن کوئی سنجیدہ جدید مورخ شک نہیں کرتا کہ حضرت عیسیٰ المسیح مصلوب ہوئے تھے۔کیوں نہیں؟ایسے بہت سے براہ راست تاریخی شواہد موجود ہیں۔

انجیل شریف کی گواہی کے علاوہ،حضرت عیسیٰ المسیح کی مصلوبیت کو رومی اور یہودی ذرائع نے بھی تسلیم کیا ہے۔دو تنقیدی رومی مورخین ہیں،
جن میں سے کرنیلیس ٹیسیٹس( CorneliusTacitus)اپنے تاریخی ریکارڈ نمبر XV,44میں لکھتا ہے:

”خرستُس… پینطُس پیلا طُس حاکم کے ہاتھوں پھانسی پر چڑھ گیا۔“

مسیحیت کا ایک نقاد بنام لو سیان آف سموسٹا (Lucian of Samosata)سیدنا یسوع المسیح کے بارے میں اپنے سفر میں لکھتا ہے:

”..یہ وہ شخص تھا جسے فلستین میں مصلوب کر دیا گیا۔“

حتیٰ کہ یہودی تالمود میں بھی حضرت عیسیٰ المسیح کی مصلوبیت کا اندراج موجود ہے:

”عید ِ فسح کے تہوار کے موقع پر یشوع (حضرت عیسٰی المسیح)کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا(مصلوب کر دیا گیا)…چونکہ اُس کے حق میں کچھ بھی پیش نہ کیا گیا۔
اِس لئے اُسے عید ِ فسح کے موقع لٹکا دیا گیا۔“(تالمود،b۔سنہیڈرن a43)

یہ ناممکن ہے کہ حضرت یسوع المسیح کو پھانسی دینے والوں نے غلطی سے بھی حضرت اُنہیں زندہ چھوڑ دیا ہو گاکیونکہ رومی قانون کے مطابق ایسی غلطی کی سزا موت تھی۔رومی سپاہی مصلوب کرنے میں ماہر تھے۔اُنہوں نے ایسا کام اناڑی پن سے نہیں کیا ہو گا۔

نتیجہ

اب ہم ذاکر نائیک کے انجیل شریف سے اِس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کا کیا کریں کہ حضرت عیسیٰ المسیح نہیں مرے تھے؟جس نے بھی انجیل شریف کا مطالعہ کیا ہے وہ جانتا ہے کہ ذاکر نائیک نے اپنے ذمے ایک ناممکن کام لے لیا ہے۔یہ ناممکن ہے،جب تک کوئی نئے عہد نامے کے حوالوں کو اُن کے صاف اور واضح معنوں کے برعکس ظاہر کرنے کے لئے دھوکے اور فریب کا استعمال نہ کرے۔اور ذاکر نائیک بالکل ایسا ہی کرتا ہے جیسے کہ مندرجہ بالا باتوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔درحقیقت،جیسے کہ ہم پہلے ہی یہ دیکھ چکے ہیں،یہ صرف انجیل شریف کی جامع شہادت ہی نہیں ہے کہ حضرت عیسیٰ المسیح صلیب پر مرے اور پھر زندہ ہوئے بلکہ یہ گناہ گار انسان کے لئے خدا کے منصوبے کے مشکل اقدامات میں سے ایک اقدام تھا۔وہ منصوبہ توریت شریف سے لے کر بعد کی تمام کُتب ِ مقدسہ میں بیان کیا گیا ہے۔

  1. Abu Jaf’ar Muhammad ibn Jarir Al-Tabari, Tafsir al-Tabari: Jami’ al-Bayan ‘an Ta’wil Ay al-Qur’an, Salah ‘Abd al-Fattah al-Khalidi (ed.) Damascus: Dar al_Qalam, 1997, loc. cit.
  2. Muhammad Fakhr al-Din ibn al-Allama Diya al-Din ‘umar Al-Razi, Tafsir al-Fakhr al-Razi , al-Mushtahir bi-l-Tafsir al-Kabir wa-Mafatih al-Ghaib, Khalil Muhyi al-Din al-Mais (ed.) Beirut: Dar al-Fikr, 1990, loc. cit.
  3. City of Wrong , Kenneth Cragg, London, 1960, P. 222.
  4. Ayoub, Mahmoud M., “Towards an Islamic Christology II”, The Muslim World, Vol. LXX, April 1980, No. 2, P. 104.
  5. David Friedrich Strauss, The Life of Jesus for the People, 2nd ed. Vol. I. London: Williams and Norgate, 1879, p.412.
  6. Darul Ifta, Darul Uloom Deoband-India, Question: 110

    (http://darulifta-deoband.com/viewfatwa.jsp?id=”11″0)

  7. Razi, at-Tafsir al-Kabir , Commenting on Sura Al-‘Imran 55.
  8. Al-Hajj Maulana Fazlul Karim M.A.B.L., Shariat Shikkha , (Azifa Khatun, 18 Bakshi Bazar Rd, Dhaka), p. 153.

Leave a Reply

Your email address will not be published.