عبرانی میں پرانا عہد نامہ ناپید ہے؟

“موجودہ عبرانی پرانا عہد نامہ یونانی ترجمے سے ترجمہ کیا گیا ہے جب کہ اصلی عبرانی متن اب دستیاب نہیں ہے۔”

ذاکر نائیک شرم ناک حد تک دعویٰ کرتا ہے،

“پرانا عہد نامہ جو اصل عبرانی میں ہے اب دستیاب نہیں ہے۔کیا آپ جانتے ہیں؟پرانے عہد نامے کا جو عبرانی ترجمہ موجود ہے وہ یونانی ترجمے سے کیا گیا ہے۔حتیٰ کہ اصلی پرانا عہد نامہ جو عبرانی میں ہے وہ اب عبرانی زبان میں موجود نہیں ہے۔”
1

نائیک کا یہ دعویٰ کہ پرانا عہد نامہ اصل عبرانی میں موجود نہیں ہے،بالکل غلط ہے۔حضرت مسیح سے صدیوں قبل کے عبرانی پرانے عہد نامے کے سینکڑوں طومار موجود ہیں جو بحیرہئ مردار یا قمران کے طومار کہلاتے ہیں۔یہ پرانے عہد نامے کے قدیم ترین نسخہ جات کو پیش کرتے ہیں۔ اِس دریافت سے پہلے عبرانی پرانے عہد نامے کے قدیم ترین نسخہ جات یونانی ترجمہ میں موجود تھے جنہیں سپٹواجینٹ کہا جاتا ہے،جس کے حوالہ جات ابھی تک علماے کرام دیتے ہیں۔ حتیٰ کہ عبرانی پرانے عہد نامے کے سیکڑوں نسخہ جات مسوراتی روایت میں موجود ہیں جو حیران کُن حد تک بالکل ویسے ہی ہیں جیسے قمران کے قدیم نسخہ جات ہیں۔جیسے کہ علمِ آثارِ قدیمہ مزید قدیم عبرانی طومار دریافت کرتا ہے،تو مزید حیران کُن مطابقت ملتی ہے۔یہ کہنابالکل جھوٹ ہے کہ موجودہ عبرانی متن یونانی سے ترجمہ کیا گیا ہے۔


Zakir Naik, The Quran and the Bible in the Light of Science. (Adam Publishers, New Delhi, 2008) p.118.

Leave a Reply

Your email address will not be published.